عالمگیر ادب کے زیرِ اہتمام تین اہم کتابوں کا شاندار اجرا، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتگان میں اسناد تقسیم ۔۔ " اردو زبان کی خدمت دراصل ماں کی زبان کی خدمت ہے "۔ سید حسین اختر۔
عالمگیر ادب کے زیرِ اہتمام تین اہم کتابوں کا شاندار اجرا، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتگان میں اسناد تقسیم ۔۔
" اردو زبان کی خدمت دراصل ماں کی زبان کی خدمت ہے "۔ سید حسین اختر۔
اورنگ آباد (نامہ نگار):
اورنگ آباد کی معروف ادبی، تہذیبی اور ثقافتی تنظیم عالمگیر ادب کی جانب سے ایک عظیم الشان ادبی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں تین اہم کتابوں کا اجرا اور مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے ایوارڈ یافتگان میں اسناد کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس باوقار تقریب میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اردو زبان و ادب سے اپنی وابستگی کا ثبوت پیش کیا۔
تقریب کی صدارت مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے انجام دی، جبکہ اس موقع پر “عکسِ ادب”، “اسلم مرزا: شخص اور شخصیت” اور اسلم مرزا کی کتابوں پر لکھے گئے تبصروں اور طرحی مصرعوں پر کہی گئی غزلوں پر مشتمل کتابوں کا اجرا عمل میں آیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں سید حسین اختر نے کہا کہ اردو زبان و ادب کی خدمت دراصل اپنی ماں کی زبان کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد ہمیشہ سے اردو ادب کے لیے ایک ذرخیز خطہ رہا ہے، جہاں اہلِ قلم نے ہر دور میں زبان و ادب کی آبیاری کی ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل بھی بزرگ ادیبوں اور شاعروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مختلف اصنافِ ادب میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے، جو اردو کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔
معروف ادیب نور الحسنین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادبی سرگرمیاں ادیب کی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں اور معاشرے میں فکری بیداری پیدا کرتی ہیں۔ ادیب و محقق اسلم مرزا نے کہا کہ یہ نہایت خوش آئند بات ہے کہ نئی نسل تحقیق کے میدان میں دلچسپی لے رہی ہے اور مختلف ادیبوں اور شاعروں پر تحقیقی مقالات تحریر کیے جا رہے ہیں، جس سے اردو ادب کا دامن مزید وسیع ہو رہا ہے۔
تقریب میں بابائے افسانچہ عبدالعظیم راہی، نوید قاضی، سلیم محی الدین، یوسف دیوان، احمد اورنگ آبادی، وسیم راہی، تفہیم الدین، سید فاروق احمد، سلیم احمد، اظہر الدین، قاضی تسنیم الدین اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
تقریب کے دوران ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتگان میں اسناد تقسیم کی گئیں، جس پر ایوارڈ یافتگان نے خوشی اور تشکر کا اظہار کیا۔ مشہور شاعر احمد اورنگ آبادی نے مخصوص لب و لہجہ میں نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ جبکہ کہنہ مشق شاعر یوسف دیوان کے اظہارِ تشکر پر نشست کا اختتام عمل میں آیا۔مجموعی طور پر یہ ادبی نشست اردو زبان و ادب کے فروغ، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور ادبی روایت کو مستحکم کرنے کی ایک کامیاب اور یادگار کوشش ثابت ہوئی۔
Comments
Post a Comment