اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت - تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران - ازقلم : وسیم رضا خان۔
اقتدار کا انتخابی موہ اور لڑکھڑاتی معیشت -
تقریروں کے شور میں دبتا معاشی بحران -
ازقلم : وسیم رضا خان۔
بھارت جیسی عظیم جمہوریت میں جب ملک کی قیادت مستقبل کا معاشی ڈھانچہ تیار کرنے کے بجائے ماضی کی کھدائی اور انتخابی ریلیوں میں مصروف ہو جائے، تو بحران کی دستک سنائی دینے لگتی ہے۔ موجودہ تناظر میں یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ ایک طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہے، اور دوسری طرف اقتدار کے گلیاروں سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جو معیشت کی بنیادوں کو ہی چیلنج کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کی ریلیوں میں اپوزیشن پر طنز، نہرو گاندھی خاندان پر تنقید اور جذباتی مسائل کا غلبہ تو نظر آتا ہے، لیکن ملک کی 'بیلنس شیٹ' پر بحث اکثر غائب رہتی ہے۔ جب ملک کا 'پردھان سیوک' (اعلیٰ خادم) جھال مڑی کھانے یا مخالفین کو لتاڑنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے، تو پالیسی سازی کے فیصلوں میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن جیتنا کسی بھی جماعت کا ہدف ہو سکتا ہے، لیکن جب الیکشن جیتنے کی سفارت کاری ملک کی معیشت پر حاوی ہونے لگے، تو نتائج ہولناک ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سونا نہ خریدنے، ایندھن کے استعمال میں کٹوتی کرنے اور غیر ملکی دوروں سے بچنے جیسے جو 'مول منتر' دیے گئے ہیں، وہ معاشیات کے اصولوں کے برعکس معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتی معیشت کا ایک بڑا حصہ گھریلو کھپت پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر عوام خریداری بند کر دیں، تو بازار میں طلب (Demand) گر جائے گی۔ سونے اور ایندھن جیسے شعبوں سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ ایسے بیانات سے بازار میں غیر یقینی صورتحال پھیلتی ہے، جس کی وجہ سے تاجر سرمایہ کاری کرنے سے ڈر رہے ہیں اور ملازمین پر چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے۔
معیشت ایک پہیے کی طرح ہے؛ جب لوگ خرچ کرتے ہیں، تب ہی پیداوار بڑھتی ہے اور نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ 'خرچ مت کرو' کا پیغام اس پہیے کو جام کر سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں بھارتی معیشت کئی محاذوں پر جدوجہد کر رہی ہے، جسے محض نعروں سے نہیں سدھارا جا سکتا۔ نوجوانوں کے پاس ڈگریاں تو ہیں، لیکن روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ غیر منظم شعبے (Unorganized Sector) کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ عالمی منڈی میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت درآمدات کو مہنگا کر رہی ہے، جس سے بالآخر مہنگائی بڑھتی ہے۔
حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ بنے ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی سرمایہ کاری پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اجرت کی شرح مستحکم ہے اور مہنگائی زیادہ، جس کی وجہ سے گاؤں والوں کی قوتِ خرید کم ہو گئی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معیشت کا نظام سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ معاشی ماہرین کے مشوروں سے چلنا چاہیے۔ نہرو، اندرا یا پرانی حکومتوں کی غلطیاں گنوا کر موجودہ ناکامی کو نہیں چھپایا جا سکتا۔
حکومت اپوزیشن اور معاشی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک ٹھوس 'روڈ میپ' تیار کرے۔ انتخابی جیت کو ترقی کا واحد پیمانہ ماننا بند کیا جائے۔ بیان بازی کے بجائے ان پالیسیوں پر توجہ دی جائے جس سے بازار میں نقدی (Liquidity) اور اعتماد بحال ہو۔ اگر وقت رہتے اقتدار نے اپنی ترجیحات انتخاب سے ہٹا کر معیشت پر مرکوز نہیں کیں، تو اندھی عقیدت کے شور میں ملک ایک ایسے گہرے معاشی گڑھے میں گر سکتا ہے، جس سے نکلنا آنے والی کئی نسلوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ معیشت کو بچانے کے لیے اب صرف سوال ہی نہیں، بلکہ فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت ہے۔
Comments
Post a Comment