معلمات کی تنخواہ میں اضافے پر علماء و قلمکاروں کے نام ایک درد بھرا پیغام - تحریر شعیب احمد محمدی۔


معلمات کی تنخواہ میں اضافے پر علماء و قلمکاروں کے نام ایک درد بھرا پیغام -  
تحریر شعیب احمد محمدی۔

پھر وہی رات، وہی رات کے ہنگامے ہیں  
ہم ابھی گذرے تھے یہاں سویرا کرکے  

یہ شعر آج ہمارے تعلیمی نظام کی حالت کا آئینہ بن گیا ہے۔ رات بھر دیے جلانے والی معلمات، جنہوں نے قوم کی بیٹیوں کو علم کی روشنی سے منور کیا، آج بھی اسی انتظار میں ہیں کہ شاید ان کی محنت کا صلہ ملے، شاید ان کی تنخواہ میں اضافے کی کوئی خبر آئے۔ مگر افسوس، ابھی تک کہیں سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

1. معاشرتی پہلو
معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے معماروں کو عزت ملے۔ استاد قوم کا معمار ہے، اور معلمہ گھر اور اسکول دونوں کی بنیاد رکھتی ہے۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتی ہے، بچوں کے مستقبل کو سنوارتی ہے، اور شام کو تھکی ہاری واپس آتی ہے۔  
اگر اس کی بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہوں، اگر مہنگائی کے اس دور میں اس کی تنخواہ وہیں کھڑی رہے، تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایک بھوکا، پریشان اور بےسہارا استاد کبھی مطمئن شاگرد نہیں بنا سکتا۔

2. جذباتی پہلو
سوچیں، وہ معلمہ جو آپ کی بہن، بیٹی، بیوی ہے، جب گھر آ کر بل، راشن اور بچوں کے اسکول فیس کا حساب لگاتی ہوگی تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟  
وہ مسکراتے ہوئے کلاس میں جاتی ہے، لیکن اندر ہی اندر ایک درد لیے ہوئے ہوتی ہے کہ میری محنت کا صلہ کہاں ہے؟  
یہ درد صرف اس کا نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر کا درد ہے۔ جب ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت کرنے والی ہستیوں کو بھول جائیں، تو سمجھ لیں کہ ہم اپنی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

3. علماء و قلمکاروں کے نام پیغام
اے علماء کرام! آپ ہی وہ وارثِ انبیاء ہیں جن کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ معاشرے کے دل پر اثر کرتا ہے۔ آپ منبر و محراب سے آواز بلند کریں کہ معلمات کا حق ادا کرنا محض دنیاوی معاملہ نہیں، یہ امانت ہے، یہ انصاف ہے۔  

اے قلمکارو! آپ کے قلم میں وہ طاقت ہے جو سوئے ہوئے ضمیروں کو جگا سکتی ہے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کریں، تاکہ حکمرانوں اور ذمہ داروں تک یہ صدا پہنچے کہ "ہم ابھی گذرے تھے یہاں سویرا کرکے"—مگر اجالا کرنے والیوں کے گھر ابھی اندھیرے میں ہیں۔

4. سماجی ذمہ داری
قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں۔ اگر ہم آج معلمات کی تنخواہ میں اضافے کے لیے آواز نہ اٹھائیں، تو کل ہماری بیٹیاں بھی اسی مایوسی کا شکار ہوں گی۔  
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر ایک آواز بنیں۔ یہ صرف تنخواہ کا مسئلہ نہیں، یہ عزت، انصاف اور معاشرے کی بقا کا مسئلہ ہے۔
نتیجہ :   
رات بھر ہنگامے رہیں، مگر سویرا ہمیشہ انہی کے دم سے ہوتا ہے جو خاموشی سے چراغ جلاتی ہیں۔ معلمات وہی چراغ ہیں۔  
آئیے، علماء اور قلمکار مل کر اس چراغ کو بجھنے سے بچائیں۔ ان کے حق کی آواز بنیں، کیونکہ جب استاد خوشحال ہوگا تو قوم روشن ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔