(طنزومزاح) انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


(طنزومزاح) 
انگریزی کا خبط اور ہماری مادری زبان۔ 
از قلم: رہبر تماپوری۔

خداوندِ کریم نے جب انسان کو نطق کی نعمت سے نوازا تو ساتھ ہی مادری زبان کا لازوال تحفہ بھی عطا کیا تاکہ وہ اپنے دلی جذبات، احساسات اور خیالات کا کھل کر اظہار کر سکے۔ مگر افسوس! دورِ حاضر کے دیسی بابوؤں نے اس قدرتی و تہذیبی تحفے کو انگریزی کے جدید کموڈ میں بہا دیا ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں انگریزی بولنا شرافت، علم یا قابلیت کی نہیں بلکہ ایک عجیب قسم کی فیشن زدگی اور احساسِ برتری کی علامت بن چکا ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اگر آپ کو اپنی مادری زبان میں مرزا غالب کا پورا دیوان بھی زبانی یاد ہو تب بھی آپ کو جاہل اور پسماندہ سمجھا جائے گا، لیکن اگر آپ انگریزی میں صرف “اوہ مائی گاڈ” اور “ٹچ ووڈ” جیسے چند الفاظ ادا کرنا جانتے ہوں تو لوگ آپ کو ارسطو کا چچا زاد بھائی اور بقراط کا سگا پوتا سمجھنے لگتے ہیں۔

اس انگریزی خبط کی ایک نہایت دل چسپ جھلک پچھلے دنوں شہر کے ایک پوش علاقے میں دیکھنے کو ملی۔ ہوا یوں کہ ایک سادہ لوح دیہاتی دادی اماں اپنے لاڈلے بیٹے کے شاندار شہری بنگلے میں چند دن رہنے کے لیے تشریف لائیں۔ ابھی وہ صحن میں بیٹھ کر اپنے تھکے ہوئے پاؤں سیدھے ہی کر رہی تھیں کہ اچانک اسکول کی بس آ کر رکی اور ان کے پوتے پوتیاں شور مچاتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے۔ جونہی انہوں نے اپنی جینز پہنی ہوئی ممی کو دیکھا تو “ماما! ماما!” کہتے ہوئے ان سے لپٹ گئے اور ساتھ ہی انگریزی کے ایسے تیز تیر برسانے لگے کہ دادی اماں کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک ان کے کانوں پر غیر ملکی حملہ کر دیا ہو۔

دادی اماں نے فوراً بچوں کو اپنے قریب بلایا، ناک پر رکھی عینک درست کی اور بڑے درد بھرے لہجے میں بولیں:
“ارے بچو! یہ ‘ماما’ کہہ کہہ کر اپنی ماں کو ماموں کیوں بنا رہے ہو؟ اپنی جننے والی کو ‘ماں’ یا ‘امی’ کہنے میں کیا تمہاری زبان کو فالج گرتا ہے؟ یاد رکھو! مادری زبان وہ لوری ہے جو ماں کی گود سے نکل کر انسان کی روح میں اتر جاتی ہے۔ اسے یوں انگریزی کے بازار میں نیلام مت کرو۔”

مگر صاحب! دادی اماں کی یہ نصیحت بھی انگریزی کے سیلاب میں ایک تنکے کی طرح بہہ گئی، کیونکہ آج کل مادری زبان سے دوری اختیار کرنا خاندانی وقار اور اعلیٰ معیار کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

اسی خبط کا ایک اور مزاحیہ واقعہ ہمارے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ وہاں ایک شہر زدہ لڑکی کی شادی ایک ایسے دیہاتی نوجوان سے ہوئی جس کا انگریزی زبان سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ دلہن نے رخصتی کے وقت شوہر پر زور دیا کہ سسرال میں صرف انگریزی بولنی ہے تاکہ سب پر رعب قائم ہو سکے۔

بیچارہ شوہر، جو انگریزی کے حروفِ تہجی بھی دیسی لہجے میں پڑھتا تھا، اپنی عزت بچانے کے لیے فوراً تیار ہو گیا۔ سسرال پہنچتے ہی اس کے اندر کا “انگریز” بیدار ہو گیا۔ چائے کے دوران جب کسی نے صحن میں لگے پانی کے نل کی طرف اشارہ کیا تو موصوف نے پورے فخر سے سینہ تان کر فرمایا:

“This is a nall… twenty four ghante khula!”

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر ایسا زوردار قہقہہ بلند ہوا کہ صحن کی دیواریں تک لرز اٹھیں۔ بیوی شرم سے پانی پانی ہو گئی، مگر شوہر صاحب کو آج تک یقین ہے کہ لوگ ان کی شاندار انگریزی کی تعریف کر رہے تھے۔

یہ واقعہ بظاہر ہنسنے ہنسانے کا سامان فراہم کرتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی غلامی کی ایک تلخ تصویر بھی ہے۔ جب انسان اپنی زبان چھوڑ کر ادھار کی زبان میں اپنی پہچان تلاش کرنے لگتا ہے تو اکثر مضحکہ بن جاتا ہے۔

یہ المیہ صرف گھروں اور دیہاتوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے ادبی مشاعرے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ حال ہی میں اردو زبان کی ترویج کے لیے ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد کیا گیا جہاں ایک بڑے افسر کو بطورِ مہمانِ خصوصی بلایا گیا۔ موصوف تھری پیس سوٹ پہن کر، ٹائی درست کرتے ہوئے اسٹیج پر آئے اور مائیک سنبھال لیا، مگر چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے انہیں کسی ادبی محفل میں نہیں بلکہ امتحان گاہ میں کھڑا کر دیا گیا ہو۔

انہوں نے تقریر شروع کی:
“اردو ہماری نیشنل لینگویج ہے… ہمیں اس کو پروموٹ کرنا چاہیے… تھینک یو!”

بس اتنا کہنا تھا کہ پوری محفل پر عجیب خاموشی طاری ہو گئی۔ سامعین سوچنے لگے کہ اگر زبان کے محافظوں کا یہ حال ہے تو زبان کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے؟

آج کل والدین کا سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ انگریزی ہی روشن مستقبل کی واحد کنجی ہے۔ بچے کو “ٹوئنکل ٹوئنکل” تو زبانی یاد کرا دیا جاتا ہے، مگر اپنی مادری زبان کی نظمیں اور کہانیاں سکھانے کی فرصت نہیں ملتی۔ حالانکہ مادری زبان ہی انسان کی فطری سوچ، تخلیقی صلاحیت اور تہذیبی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ انگریزی سیکھنا ہرگز عیب نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے، مگر اپنی مادری زبان کو کمتر سمجھنا سب سے بڑی جہالت ہے۔ زبانیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور خوابوں کا آئینہ ہوتی ہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ انگریزی ضرور سیکھیں، مگر اپنی مادری زبان پر فخر کرنا نہ چھوڑیں، کیونکہ جو قوم اپنی زبان بھول جاتی ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔