غزل - (طنزومزاح)۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا )
غزل - (طنزومزاح)
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا )
میں کسی کو مشورہ دیتاُ نہیں
مشورہ میرا کوئ سُنتا نہیں
باپ اس کا اک منسٹر ہے تو کیا
میں کسی کے باپ سے ڈرتا نہیں
چور بھی ڈرتے ہیں گھر میں آنے کو
بنچ کر گھوڑے جو میں سوتا نہیں
ڈانٹ گھر میں سُنتا ہوں دفتر میں بھی
فجر کو جس دن بھی میں اُٹھتا نہیں
مُجھ کو خود اللہ نے اتنا دیا
میں کسی سے دوستو جلتا نہیں
کیوں کروں سالے سے اپنے دُشمنی
دُشمنی سے کُچھ بھی تو ملتا نہیں
دیش کا نیتا بھی یارو ہے عجب
جھوٹ ہی کہتا ہے سچ کہتا نہیں
جب سے دامن صبر کا تھاما ہوں میں
گھر میں اب جھگڑا کوئ ہوتا نہیں
سیکھ لی ہیں میں نے جو کُچھ گالیاں
کر کری مُجھ سے کوئ کرتا نہیں
گو ترے اشعار پر ہنستے ہیں سب
کیوں سحر تُو خود مگر ہنستا نہیں
فخر مُجھ کو اپنے سر پر ہے سحر
وہ کسی کے سامنے جُھکتا نہیں
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن( انڈیا )
Comments
Post a Comment