مجاہدِ اردو عبدالمعیز - (افسانچہ)۔ ازقلم : عزیز تسلیم، نندیالی۔


مجاہدِ اردو عبدالمعیز - 
(افسانچہ)
ازقلم : عزیز تسلیم، نندیالی۔ 

اردو زبان عبدالمعیز کی جان ہے، شان ہے، پہچان ہے۔ اردو کے سبب ہی معیز نے اپنی زندگی سنوار لی، اور اسی طرح معیز ہی کی خدمات سے اردو کے لیے ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ وہ کام برائے نام نہیں بلکہ کام برائے فریضہ سمجھتے ہیں اور اسی جذبے سے آگے بڑھتے گئے۔ ہر زبان پر، ہر دل میں اترنے لگے۔ معیز کی اردو خدمات کو اساتذہ برادری، محبانِ اردو اور بڑے بڑے افسران، سیاسی قائدین نے سراہا۔ 

کہیں اردو زبان کی حق تلفی ہوئی یا کسی محبِ اردو یا اردو طلبہ کی حق تلفی ہوئی تو سب سے پہلے آواز بلند کرنے والی شخصیت عبدالمعیز ہی ہیں۔ لیکن اگر خود پر زیادتی ہو یا خود کی حق تلفی ہوئی تو صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔  

_"کسی کو اپنا دشمن بنانے کے لےء دشمنی مول لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ کسی شعبے میں خدمات انجام دیتے جائیں تو بغض، تعصب اور حسد کے شکار لوگ خود ہی دشمن بن جاتے ہیں۔"_  
یہ قول عبدالمعیز پر صد فیصد درست ثابت ہوتا ہے۔

تدریسی پیشے سے ہٹ کر فارن سروس میں دوسرے عہدے پر فائز ہونے کے لیے، دوست و احباب کے مشورے سے معیز نے درخواست دی۔ سابق میں اسی عہدے پر رہتے ہوئے عبدالمعیز نے اپنے ضلع میں 58 تحتانی اردو اسکولوں کو اپ گریڈ کا درجہ دلوایا اور 48 لاکھ کی لاگت سے عربی مدارس کو ورک بکس اور اسپورٹس کٹس مہیا کیں۔ ان کی اس کارکردگی پر سمگرا شکشا کے اسٹیٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بہت سراہا اور وقت کے کلکٹر وجےء موہن سر نے "بیسٹ آفیسر" کے خطاب سے نوازا۔

آج جب اسی عہدے پر فائز ہونے کے لیے درخواست دی تو چند غیر اردو داں مخالفین نے عبدالمعیز کے خلاف ریاست کے مشہور و معروف سیاسی قائد کے کان بھرے۔ اسی سازش سے شاید عبدالمعیز کے لیے اس عہدے کو سنبھالنا ناممکن ہو گیا۔ لیکن عبدالمعیز کو اردو کی خدمت انجام دینے کے لیے کسی عہدے یا کسی کی طرف داری کی ضرورت نہیں ہے۔ عبدالمعیز خود بذاتِ خود ایک فرد نہیں بلکہ ایک انجمن ہیں۔ 

اگر عبدالمعیز چاہتے تو اس عہدے کو حاصل کر لیتے، روکنے کی کسی میں مجال نہ تھی۔ عہدہ ملے یا نہ ملے، مایوس ہونے والی، تھکنے والی یا ہار ماننے والی شخصیت نہیں، بلکہ ہر حال میں سماجی خدمات اور اردو کی خدمت انجام دینے والی ہمہ گیر شخصیت عبدالمعیز کی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔