مخلوط تعلیم سے بے حیائی و عشقِ مجازی کی وبا مسلم معاشرے میں۔۔ تحریر : ابرارالحق مظہر حسناتی، سولاپور۔


مخلوط تعلیم سے بے حیائی و عشقِ مجازی کی وبا مسلم معاشرے میں۔ 
تحریر : ابرارالحق مظہر حسناتی، سولاپور۔

مخلوط تعلیم پر گفتگو محض جذباتی ردِّ عمل سے نہیں بلکہ گہرے سماجی و اخلاقی شعور سے ہونی چاہیے، کیونکہ تعلیم کسی بھی قوم کے فکری سانچے کی تعمیر کرتی ہے۔ مسلم معاشرے میں تعلیم کا تصور صرف پیشہ ورانہ مہارت تک محدود نہیں بلکہ کردار، حیا، ذمہ داری اور خدا خوفی کی پرورش بھی اس کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہے۔ جب لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی تعلیمی فضا میں روزانہ طویل وقت گزارتے ہیں تو اس ماحول کی ساخت، نگرانی اور اقدار نہایت اہم ہو جاتی ہیں۔ اگر ادارہ اخلاقی تربیت کو نصاب جتنی اہمیت نہ دے، اساتذہ محض معلومات کی ترسیل تک محدود رہیں، اور حدود و آداب واضح نہ ہوں تو توجہ کا مرکز علم کے بجائے باہمی کشش بننے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کا تقدس متاثر ہوتا ہے اور فضا غیر سنجیدہ میل جول کی طرف مائل ہونے لگتی ہے۔نوجوانی جذبات کی شدت اور دلکشیوں کے اثر کا زمانہ ہے۔ اس مرحلے میں ذہن آسانی سے متاثر ہوتا ہے اور تعلقات کی خواہش تیزی سے ابھرتی ہے۔ اگر تعلیمی ماحول میں نشست و برخاست، نگاہ، گفتگو اور برتاؤ کے واضح اصول نہ ہوں تو یہی فطری کیفیت غیر ضروری جذباتی وابستگیوں میں ڈھل سکتی ہے۔ طلبہ کی ذہنی توانائی، وقت اور یکسوئی تعلیم سے ہٹ کر ایک دوسرے کی طرف منتقل ہونے لگتی ہے۔ اس کیفیت کو عموماً “عشقِ مجازی” کی نرم اصطلاح میں بیان کیا جاتا ہے، مگر اس کے اثرات سخت ہوتے ہیں: پڑھائی میں کمی، گھریلو بے اعتمادی، اور شخصیت میں غیر سنجیدگی۔ اس سارے عمل میں قصور صرف نوجوانوں کا نہیں بلکہ اس ماحول کا بھی ہے جو احتیاطی دیواریں کمزور کر دیتا ہے۔بے حیائی کا آغاز ہمیشہ ظاہری حرکات سے نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ نگاہ، لہجے، مزاح اور غیر رسمی تعلقات کے ذریعے بڑھتا ہے۔ جب اداروں میں لباس، زبان اور میل جول کے آداب پر واضح رہنمائی نہیں ہوتی تو غیر سنجیدگی معمول بن جاتی ہے۔ سوشل میڈیا اس رجحان کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے؛ تعلیمی تعلقات ذاتی پیغامات اور خفیہ روابط میں بدل جاتے ہیں، اور کلاس روم کی حدیں اسکرین کے ذریعے گھروں تک پھیل جاتی ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسا سلسلہ جنم لیتا ہے جو نہ مکمل طور پر تعلیمی رہتا ہے نہ مکمل طور پر نجی، بلکہ ایک مبہم فضا پیدا کرتا ہے جس میں حیا اور وقار بتدریج کمزور ہوتے جاتے ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مخلوط تعلیمی ادارہ یکساں نتائج دیتا ہے۔ جہاں نظم و ضبط مضبوط ہو، اساتذہ کردار کے نمونے ہوں، اور ادارہ اخلاقی ضوابط پر سنجیدگی سے کاربند ہو وہاں طلبہ اپنی حدود پہچانتے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں آزادی کو بے مہاری سمجھ لیا جائے اور ضابطوں کو قدامت پسندی کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ مسلم معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں علم کے ساتھ حیا، وقار اور ذمہ داری کی تربیت کو لازمی جزو بنائے، تاکہ مخلوط فضا کے ممکنہ نقصانات کم سے کم ہوں اور طلبہ اپنی ترجیحات واضح رکھ سکیں۔حل محض تنقید میں نہیں بلکہ مثبت حکمتِ عملی میں ہے۔ واضح ضابطۂ لباس، نشست و برخاست کے آداب، اساتذہ کی فعال نگرانی، اخلاقی تربیت کے باقاعدہ پروگرام، اور والدین و ادارے کے درمیان مسلسل رابطہ اس فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ وقتی جذبات زندگی کے بڑے مقاصد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب طلبہ اپنی ترجیحات سمجھنے لگتے ہیں تو وہ خود بھی غیر ضروری تعلقات سے بچنے لگتے ہیں۔ یوں تعلیم اپنی اصل روح کے ساتھ جاری رہتی ہے اور حیا و وقار اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔