بے قابو خواہشیں، الجھی ہوئی زندگی - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
بے قابو خواہشیں، الجھی ہوئی زندگی -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
خواہشیں جتنی طویل ہوتی ہیں، زندگی اتنی ہی پیچیدہ ہو جاتی ہے
انسان کی زندگی میں خواہشوں کا ہونا فطری بات ہے۔ خواہش ہی انسان کو آگے بڑھنے، محنت کرنے اور بہتر زندگی جینے کی ترغیب دیتی ہے۔ مگر جب یہی خواہشیں حد سے بڑھ جاتی ہیں، ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، اور انسان کی سوچ و سکون پر قابض ہو جاتی ہیں، تب زندگی آسان کے بجائے پیچیدہ بننے لگتی ہے۔
ایک انسان کی بنیادی ضروریات بہت محدود ہوتی ہیں؛ روٹی، کپڑا، مکان، عزت، محبت اور سکون۔ لیکن خواہشات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے، دوسری پوری ہوتی ہے تو تیسری سامنے آ جاتی ہے۔ انسان پھر ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔
آج کے دور میں اکثر لوگوں کی پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ یہی نہ ختم ہونے والی خواہشیں ہیں۔
کسی کو بڑا گھر چاہیے، پھر اس سے بہتر گھر کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔
کسی کو اچھی نوکری ملتی ہے، پھر زیادہ تنخواہ کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔
کسی کے پاس گاڑی ہوتی ہے، پھر نئی اور مہنگی گاڑی کی خواہش دل میں آ جاتی ہے۔
یوں انسان “ضرورت” اور “خواہش” کے فرق کو بھول جاتا ہے۔
اصل مسئلہ خواہش نہیں، بلکہ خواہشات کا بے قابو ہو جانا ہے۔ جب انسان اپنی خوشی کو چیزوں، دولت، شہرت یا لوگوں کی تعریف سے جوڑ دیتا ہے تو اس کا سکون ختم ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ ہر وقت موازنہ کرتا ہے: “اس کے پاس مجھ سے زیادہ کیوں ہے؟” “میں ابھی تک وہاں کیوں نہیں پہنچا؟” “لوگ مجھے کامیاب کیوں نہیں سمجھتے؟”
یہی سوچ انسان کے دل میں بے چینی، حسد، تھکن اور مایوسی پیدا کرتی ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف خواہشات ہی نہیں دیں بلکہ ان خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے شعور، عقل اور سمجھ بھی عطا فرمائی ہے۔ یہی شعور انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کون سی چیز ضرورت ہے اور کون سی صرف نفس کی خواہش۔ اگر انسان اپنے شعور، ایمان اور صبر کو استعمال کرے تو وہ اپنی خواہشات کو حد میں رکھ سکتا ہے اور ایک متوازن زندگی گزار سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ہر خواہش کے پیچھے بھاگنے کے بجائے سوچے:
کیا یہ چیز واقعی میرے لیے ضروری ہے؟
کیا اس خواہش کی وجہ سے میرا سکون متاثر ہو رہا ہے؟
کیا میں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہوں؟
جب انسان اپنے شعور کو زندہ رکھتا ہے تو وہ خواہشات کا غلام نہیں بنتا بلکہ ان پر قابو پا لیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور تم دنیا کی زندگی کی زیب و زینت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو، یہ تو صرف آزمائش ہے۔”
دنیا کی ہر چیز عارضی ہے۔ اگر انسان اپنی تمام خوشی دنیاوی خواہشوں سے وابستہ کر لے تو وہ کبھی مطمئن نہیں رہ سکتا، کیونکہ دنیا میں “کامل” کچھ بھی نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اگر انسان کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی خواہش کرے گا۔”
یہ حدیث انسان کی فطرت کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے کہ خواہشات کی آگ صرف چیزوں سے نہیں بجھتی، بلکہ قناعت سے بجھتی ہے۔
قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی چھوڑ دے یا خواب دیکھنا بند کر دے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوشش ضرور کرے، مگر اپنی خوشی کو صرف نتائج کے ساتھ نہ باندھے۔ انسان محنت کرے لیکن دل کا سکون اللہ کی رضا، شکر اور سادگی میں تلاش کرے۔
سادہ زندگی گزارنے والے لوگ اکثر زیادہ مطمئن ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی خوشیاں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ وہ رشتوں کی محبت، دل کے سکون، صحت، عبادت اور اطمینان کو دولت سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگ ہر آسائش رکھنے کے باوجود بے سکون رہتے ہیں، کیونکہ ان کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔
زندگی اس وقت خوبصورت بنتی ہے جب انسان:
اپنی ضروریات اور خواہشات میں فرق پہچانے،
دوسروں سے موازنہ کم کرے،
شکرگزاری اختیار کرے،
اپنے شعور اور عقل کو استعمال کرے،
اور یہ سمجھے کہ ہر چیز حاصل کر لینا ہی کامیابی نہیں، بلکہ سکون کے ساتھ جینا اصل کامیابی ہے۔
یاد رکھیں،
خواہشیں اگر قابو میں ہوں تو زندگی کو سنوار دیتی ہیں،
لیکن اگر خواہشیں انسان پر قابض ہو جائیں تو زندگی کو الجھا دیتی ہیں۔
اس لیے انسان کو خواب ضرور دیکھنے چاہئیں، مگر اتنے نہیں کہ وہ اپنے آج کا سکون کھو بیٹھے۔
Comments
Post a Comment