حاملین نبوت کے اوصاف - (گزشتہ سے پیوستہ) محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
حاملین نبوت کے اوصاف -
(گزشتہ سے پیوستہ)
محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
مرحوم ڈاکٹراقبال نے کہا تھا
مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک ایک پہلو بعد والوں کے لیے نشان منزل اور جادہ مستقیم ہے جہاں ان کی زندگی کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو ان کی عبادت و ریاضت ہیں وہیں اپنے پالن ہار اور پروردگار کے سامنے ہر حال میں ان کا سر تسلیم خم کرنا اور خود سپردگی اختیار کرنا ہے اور ایمان کا مزہ تو خود سپردگی کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے.." ذاق طعم الايمان من رضي بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد صلى الله عليه وسلم نبيا ورسولا "یعنی سر تسلیم خم کرنا
کائنات کی ساری طاقتیں قوتیں قلوب کو ناپاک اور کھوکھلا کرنے والی الائشیں اور گندگیاں یعنی غرور گھمنڈ غرہ خود نمائی خود پذیرائی لالچ تملقیت تفریق بین المسلمین اور اپنے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک گر جانا تھوڑے سے مال اور عہدے کے لیے دو کوڑیوں کے حصول میں اپنی فطرت سلیمہ سے بغاوت کرنا اپنی خودی و خودداری کو داؤ پر لگا کر اپنی ہی ذات کی تذلیل کرانا نہ تو پیغمبروں رشیوں منیوں کا کردار ہے ناہی ان کی تعلیم کا کوئی حصہ! ایک اچھے اور اخلاق مند ادمی کا ان الائشوں سے کوئی سروکار نہیں ان کا اصول حیات اور مقصدزندگی اس سے میل نہیں کھاتا یہ گندگیاں اور الائشیں تو شیطان اور ان کے چیلوں ہی کا وطیرہ اورطور طریقہ ہوسکتاہے کسی اچھے انسان کا نہیں اس لیے مفسرین نے جہاں نبیوں کے اوصاف حمیدہ اور خصال جمیلہ بیان فرمایا ہے وہیں اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ کوئی نبی یا رسول دنیا میں لالچی مفاد پرست خود غرض تملقیت پسند متعصب بے حیا بے وفا ظالم نہ انصاف نکمہ نڈھلا اور دنیا کے چند خذف ریزوں کے بدلے متاع اخرت کا سودا کرنے والا اپنی خودی وہ خودداری کو داؤ پر لگانے والا نہیں ہوا ہے جہاں وہ یاد خدا میں بے مثال کردار کا حامل ہوتا ہے اخلاق عالیہ حسنہ میں لاثانی اور بے مثال ہوتا ہے وہیں زنا چوری ڈکیتی لوٹ کھسوٹ خائن غاصب دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے والا جھوٹا لالچی مکار مفاد پرست ذرا سے عہدے اور چند سکوں کے لیے اپنی متاع اخرت کو داؤ پر لگانے والا نہیں ہوتا یہیں سے یہ بات بھی سمجھ لیں اور قادیانی جو اپنے اپ کو نبی ہونے کے دعوے سے باہر نہیں اتا اوپر مذکورہ تمام خرافات اس کی زندگی کا نمایاں پہلو نظر اتا ہے اس لیے اس کے جھوٹا ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے قوم اور بادشاہ کے ساتھ ساتھ پہلے اپنے والد کو ہی نصیحت کر ڈالی فرمایا جس طرح شیطان کے راستے پر چل کر اے میرے والد تم سب یہاں خائب و خاسر اور ناکام و ذلیل ہو رہے ہو اخرت کی لافانی زندگی میں اس سے زیادہ رسوا اور ذلیل تم ہوں گے میں یہی چاہتا ہوں کہ تم کو ذلت و رسوائی سے بچا لاؤں مگر باپ تو پھر باپ تھا پتھروں کے اصنام سے اشنا اور ان کے خدا ہونے کا تصور کیے ہوئے تھا۔ بودی عقل کا مالک تھا نبی کی مبارک زبان کے مبارک بول اور اس کی میٹھی میٹھی نصیحتیں خلوص و ہمدردی کی نورانیت میں ڈوبی ہوئیں باتیں " چکنے گھڑے پر پانی کا بوند ثابت ہوئی"
مرحوم علامہ اقبال نے کہا تھا
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یہ درد بھری باتیں سنگ دل باپ کے اوپر کارگر نہ ہوئی بلکہ والد غیض و غضب میں تلملا اٹھا اور سخت سست انداز اختیار کرنے لگا
"الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے "کے مصداق ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگا
باپ کی دھمکیوں کو قران مجید کی ان الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں فرمایا "قال ارغب انت عن الهتي يا ابراهيم لئن لم تنته لارجمنك واهجرني مليا ".پہلے تو دھمکی لئن لم تنته دوسرے لارجمنك تاکید در تاکید یعنی سختی کا کوئی پہلو باقی نہیں رکھا کہنے لگا ابراہیم! میرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ہاں اگر تو باز نہ ایا تو پھر میں تجھے سنگسار کر دوںگا واهجرني مليا اور تو ہمیشہ ہمیش کے لیے مجھ سے الگ ہو جا یعنی اج کے محاورے میں
" میں تیری صورت دیکھنا نہیں چاہتا"مرحوم ڈاکٹر اقبال نے بڑے ہی نرالے انداز میں کہا تھا
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
یہاں دو کردار سامنے اتے ہیں
ایک تو باپ ازر ہے(٢) دوسرا بیٹا ابراہیم ہے
باپ ازر جو ساری پدرانہ خوبیوں سے اوپر اٹھ کر بات کر رہا ہے اور کس سے ایک انتہائی فہیم عقیل سنجیدہ صالح متین نیک سیرت پاک فطرت خیر و شر میں فرق کرنے والا خوبرو حسین و جمیل نوجوان ۔جو بولے تو موتی رولے ۔جو دیکھے تو شفافیت کا نور چھلکے۔ جو چلے تو شرافت پھوٹ پھوٹ کر ہوا کو معطر کریں جو صرف انسان نہیں انسانوں میں سب سے زیادہ اعلی اور نفیس جماعت جماعت انبیاء کا ایک عظیم چمکتا دمکتا ستارہ اور کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جد امجد ہے مگر یہ ظالم باپ بد کردار بد عقیدہ چند سکوں کے لیے متاع اخرت کا سوداگر خوشامد پسند لالچی بادشاہ کے پاؤں میں رینگنے والا اپنی خودی و خودداری کو داؤ پر لگا کر اپنے ہی بیٹے کی زندگی کا دشمن بن جاتا ہے .سچ ہے" لالچ بری بلا ہے "عہدے کی تمنا اور مال کا لالچ یہ ایسی چیزیں ہیں جو دنیا کے تمام رشتوں ناطوں کو داؤ پر لگا دینے سے بھی ادمی نہیں رکتا یہ سنگ دلی کی انتہا ہے ۔اور جب ادمی سنگ دل ہو جاتا ہے حقیقت کی عینک کو اتار پھینکتا ہے تو پھر اس کے سامنے سارے رشتے ناطے ہوا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے مفاد کے خاطر اپنے بڑے بوڑھے اپنے مربیین اپنی ال اولاد سب کو داؤ پر لگانے لگتا ہے جیسا کہ ابراہیم۔ع جیسی شخصیت کو ازر باپ نے داؤ پر لگا دیا تھا ( جاری )
Comments
Post a Comment