حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست - ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔


حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست - 
ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔
Mob: 98454 98354

ہندوستان جیسے کثرت پسند اور متنوع معاشرے میں علامتوں کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ اقتدار کی تقریبات محض رسمی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آنے والی سیاست کے مزاج اور سمت کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمل ناڈو میں سی جوزف وجے کی حلف برداری تقریب میں ’’وندے ماترم‘‘ کو تقریب سے پہلے اور بعد میں بجایا جانا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اشارہ محسوس ہوا — ایسا اشارہ جس نے اقلیتوں، سیکولر حلقوں اور آئینی قدروں پر یقین رکھنے والوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔
یہ اعتراض حب الوطنی کے خلاف نہیں ہے۔ اس ملک کی آزادی، تعمیر اور ترقی میں مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات نے اتنی ہی قربانیاں دی ہیں جتنی کسی اور نے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی حکومت، جو خود کو تمام طبقات کی نمائندہ کہتی ہے، اپنی سیاسی شروعات ایک ایسے نغمے سے کرے جس پر ملک کے ایک بڑے طبقے کو تاریخی اور مذہبی تحفظات رہے ہیں؟
تمل ناڈو کی سیاست کی ایک مخصوص شناخت رہی ہے۔ یہاں کی سیاسی روایت نے ہمیشہ جارحانہ اکثریتی قوم پرستی کے بجائے سماجی انصاف، لسانی وقار، عقلیت پسندی اور وفاقی قدروں کو ترجیح دی۔ یہی وہ سرزمین ہے جس نے دہائیوں تک ثقافتی یکسانیت مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس پس منظر میں لوگوں کو امید تھی کہ وجے کی نئی سیاسی قوت ایک متوازن، حساس اور آئینی رویہ اختیار کرے گی۔ مگر حلف برداری کی تقریب نے ایک مختلف پیغام دیا — ایسا پیغام جسے اقلیتوں کے ایک بڑے حلقے نے اکثریتی سیاست سے مفاہمت کے طور پر دیکھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی بنگال جیسی ریاست، جہاں شدید سیاسی کشمکش اور نظریاتی محاذ آرائی موجود ہے، وہاں بھی سرکاری تقریبات میں صرف قومی ترانہ بجانے کی روایت برقرار ہے۔ لیکن تمل سرزمین میں ’’وندے ماترم‘‘ کو تقریب کے آغاز میں بھی بجایا گیا اور اختتام پر بھی۔ یہ محض اتفاق نہیں لگتا بلکہ ایک سوچا سمجھا علامتی اعلان محسوس ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حلف لینے کے فوراً بعد وجے نے اپنی تقریر میں اقلیتوں کو تحفظ اور ترجیح دینے کی بات کی۔ لیکن جب الفاظ اور علامتیں ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو یقین کمزور پڑ جاتا ہے۔ اقلیتوں کو یقین دہانی دینے والی تقریر اسی وقت بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے جب اسی تقریب میں ایسے ثقافتی اشارے دیے جائیں جن سے انہی اقلیتوں میں بے چینی پیدا ہو۔
یہاں سب سے بڑا سوال ان جماعتوں پر بھی اٹھتا ہے جو وجے حکومت کی حمایت کر رہی ہیں، خصوصاً انڈین یونین مسلم لیگ پر — جو ملک کی قدیم ترین مسلم سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ مسلم لیگ اور کئی دینی و ملی تنظیمیں ماضی میں ہمیشہ سرکاری تقریبات میں ’’وندے ماترم‘‘ بجانے پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس نظم کے بعض حصے اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مگر آج وہی جماعت خاموش نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست نے اصولوں کو خاموش کر دیا ہے؟ کیا سیاسی مفاہمت کی قیمت ہمیشہ اقلیتوں کے جذبات اور نظریات ہی ہوں گے؟
مسلمانوں کے لیے ’’وندے ماترم‘‘ پر اعتراض کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ ملک دشمنی کا اظہار ہے۔ یہ ایک مذہبی و تاریخی حساسیت کا معاملہ ہے جسے جمہوری معاشرے میں احترام ملنا چاہیے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اکثریت کے غلبے میں نہیں بلکہ اقلیت کے اعتماد کے تحفظ میں ہوتی ہے۔
قیادت کا امتحان نعروں سے نہیں بلکہ اعتماد قائم رکھنے سے ہوتا ہے۔
وجے نے سیاست میں تبدیلی، امید اور نئی سیاسی ثقافت کا وعدہ کیا تھا۔ مگر اکثر اوقات پالیسیاں بعد میں آتی ہیں اور علامتیں پہلے بولتی ہیں۔ اگر اقتدار کی پہلی بڑی تقریب ہی اقلیتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ آنے والا سیاسی ماحول کس سمت جا رہا ہے، تو حکومت کو سنجیدگی سے خود احتسابی کرنی چاہیے۔
تمل ناڈو کو مسابقتی قوم پرستی کی نہیں بلکہ آئینی وقار، سماجی ہم آہنگی اور مساوی شہریت کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط اور بااعتماد حکومت وہ ہوتی ہے جسے حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے نمائشی علامتوں کی ضرورت نہ پڑے۔ حقیقی سیکولرزم وہ ہے جہاں اقتدار کے ہر منظر میں ہر شہری خود کو برابر کا شریک محسوس کرے۔
اور یہی وہ معیار ہے جس کا تمل ناڈو ہمیشہ دعویدار رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔