مسلمانوں پر طنز نہیں، انصاف اور حکمت کی ضرورت۔ - سید فاروق احمد قادری۔
مسلمانوں پر طنز نہیں، انصاف اور حکمت کی ضرورت۔ -
سید فاروق احمد قادری۔
آج کچھ نام نہاد پڑھے لکھے لوگ مسلمانوں کے اختلافات پر ہنستے ہیں، انہیں کمزور اور بکھرا ہوا کہتے ہیں۔
خاص طور پر بعض وکیل حضرات اور سیاسی تبصرہ نگار اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے پوری امت صرف تماشہ بن گئی ہو۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر دینی بصیرت اور تاریخِ اسلام کا مطالعہ ہو تو زبان میں طنز نہیں بلکہ درد پیدا ہوتا ہے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اتحاد اتفاق کے لیے اللہ تعالی سے بہت دعائیں مانگی
قرآن نے بھی واضح کہا کہ تفرقہ اور انتشار کمزوری لاتا ہے۔
لیکن افسوس، آج کچھ لوگ امت کی اصلاح کے بجائے امت کا مذاق اڑانے میں مصروف ہیں۔
آج قربانی کے مسئلے کو لے کر جو سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے، اس میں دانشمندی اور حکمت کی ضرورت ہے۔
اسلام صرف جذبات کا نہیں بلکہ حالات کو سمجھ کر فیصلے کرنے کا بھی نام ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بعض مواقع پر بڑے صحابہؓ نے فتنہ اور غلط فہمی سے بچنے کے لیے بعض مباح چیزوں کی حضرت عمر اور ابوبکر صدیق بارے میں آثار ملتے ہیں کہ عوام پر فرض یا لازم سمجھ لیے جانے کے خدشے سے بعض اوقات قربانی ترک فرمائی، تاکہ لوگ دین کی اصل روح سمجھیں۔
اس کا مقصد شریعت کو چھوڑنا نہیں بلکہ امت کے حالات، مصلحت اور حکمت کو سامنے رکھنا تھا۔
آج جب گائے کے مسئلے کو سیاسی اور قومی جذبات سے جوڑا جا رہا ہے تو مسلمانوں کو بھی جذبات کے بجائے حکمت، قانون اور امن کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔
اتحاد، صبر اور دانشمندی ہی حالات کا بہترین جواب ہے، نہ کہ اشتعال یا ایک دوسرے پر طنز۔
مسلمان کمزور نہیں، بلکہ جب بھی متحد ہوئے انہوں نے دنیا کو انصاف، علم اور تہذیب دی۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ امت کے مسائل کو مذاق نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا ے
Comments
Post a Comment