حب الوطنی کا معاشی نسخہ: جب حکومتیں بحران عوام میں تقسیم کرتی ہیں - از قلم : اسماء جبین فلک۔
حب الوطنی کا معاشی نسخہ: جب حکومتیں بحران عوام میں تقسیم کرتی ہیں -
از قلم : اسماء جبین فلک۔
ہندوستان اس وقت ایک عجیب نفسیاتی اور معاشی دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں حکومت کی ہر اپیل محض انتظامی مشورہ نہیں رہتی بلکہ اسے قومی فریضہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے سونا نہ خریدنے، غیر ضروری بیرونی سفر سے گریز کرنے اور پیٹرول کی بچت کرنے کی اپیل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔ بظاہر یہ اپیل زرمبادلہ کے تحفظ اور معاشی توازن کے لیے ہے، مگر اس کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ہندوستانی عوام سے “قربانی” طلب کی گئی ہو۔ اس سے پہلے نوٹ بندی کے دوران عوام کو بینکوں کی قطاروں میں کھڑا رہنے کو حب الوطنی قرار دیا گیا۔ کورونا وبا کے دوران تالی اور تھالی بجانا قومی اتحاد کی علامت بنایا گیا۔ اب جب معیشت دباؤ میں ہے، روپیہ کمزور ہو رہا ہے، درآمدی بوجھ بڑھ رہا ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے آثار نمایاں ہیں، تو ایک بار پھر قوم سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات محدود کرے تاکہ ملک معاشی بحران سے نکل سکے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا قربانی ہمیشہ عوام ہی کا مقدر ہے؟
وزیراعظم کی اپیل کے فوراً بعد ایک نمایاں تضاد سامنے آیا۔ ایک طرف عوام سے پیٹرول بچانے کی تلقین کی گئی، دوسری طرف حیدرآباد اور سومناتھ میں وزیراعظم کے طویل روڈ شوز دیکھنے کو ملے، جہاں درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے سڑکوں سے گزر رہے تھے۔ یہ منظر محض سیاسی سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس بیانیے پر سوالیہ نشان بھی تھا جس میں ایندھن کی بچت کو قومی ذمہ داری قرار دیا جا رہا تھا۔
جمہوریت میں عوام صرف تقاریر نہیں دیکھتے، وہ طرزِ عمل بھی دیکھتے ہیں۔ جب حکمران کفایت شعاری کی نصیحت کریں مگر اقتدار کا طرزِ زندگی ویسا ہی رہے، تو عوام کے ذہن میں اعتماد کی جگہ شکوک جنم لیتے ہیں۔
سونے کے حوالے سے دی گئی اپیل کا پہلو اور بھی حساس ہے۔ ہندوستان میں سونا صرف ایک دھات نہیں، بلکہ تہذیبی، معاشی اور جذباتی علامت ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کی خواتین کے لیے سونا اکثر زندگی کی واحد محفوظ جمع پونجی ہوتا ہے۔ شادی، بیماری، قرض یا کسی اچانک بحران میں یہی زیور ان کے لیے خاموش بینک کا کردار ادا کرتا ہے۔
ایسے میں جب حکومت عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کرتی ہے تو اس کا اثر صرف بازار پر نہیں پڑتا، بلکہ ان لاکھوں خاندانوں پر بھی پڑتا ہے جو جیولری انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ یہ صنعت ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً سات فیصد حصہ رکھتی ہے اور اندازاً پچاس لاکھ افراد کی روزی روٹی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خریداری رکتی ہے تو ان کاریگروں، سناروں اور مزدوروں کا کیا ہوگا جن کے گھروں کے چولہے اسی صنعت سے جلتے ہیں؟
یہاں ایک سیاسی تضاد بھی نمایاں ہوتا ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران یہی حکومت اپوزیشن، خصوصاً کانگریس، پر الزام لگا رہی تھی کہ وہ اقتدار میں آ کر خواتین کا “منگل سوتر” تک چھین لے گی۔ مگر اب جب حکومت خود عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کرتی ہے تو سیاسی بیانیے کی ساکھ متاثر ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ عوام یہ سوال پوچھنے لگتے ہیں کہ اگر سونا قومی تحفظ کی علامت تھا تو آج اچانک معاشی بوجھ کیسے بن گیا؟
معاشی بحران کی سب سے بڑی علامت اکثر حکومتی زبان میں تبدیلی ہوتی ہے۔ ابتدا میں حکومتیں اطمینان دلاتی ہیں کہ سب کچھ قابو میں ہے، مگر جب مسائل سنگین ہونے لگتے ہیں تو ذمہ داری آہستہ آہستہ عوام کی طرف منتقل کی جانے لگتی ہے۔ یہی اس وقت ہندوستان میں دکھائی دیتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی مارچ سے مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ ملک ایک بڑے معاشی دباؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے روزگار، روپے کی گرتی قدر اور بڑھتے ہوئے معاشی عدم توازن پر بارہا سوال اٹھائے۔ لیکن سرکاری بیانیہ طویل عرصے تک خاموش رہا۔ اب جبکہ خود حکومت کفایت شعاری کی اپیلیں کر رہی ہے، تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ شاید بحران کا اعتراف تاخیر سے کیا گیا۔
اس پورے منظرنامے میں میڈیا کا کردار بھی توجہ طلب ہے۔ ہندوستانی میڈیا کا ایک بڑا حصہ طویل عرصے سے حکومت کے مؤقف کو مرکزی بیانیہ بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔ معاشی مسائل، روپے کی کمزوری، بڑھتی بے روزگاری یا عوامی پریشانیوں کے بجائے توجہ زیادہ تر جذباتی اور سیاسی موضوعات پر مرکوز رکھی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عام آدمی کو بحران کی شدت اس وقت محسوس ہوئی جب اس کا اثر براہِ راست اس کی جیب پر پڑنے لگا۔
یہ میڈیا کی ناکامی بھی ہے اور جمہوریت کے لیے خطرہ بھی۔ کیونکہ آزاد صحافت صرف حکومت کی تعریف کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کو بروقت خبردار کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
انتخابات کے دوران حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی سپلائی مستحکم ہے اور کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ مگر جیسے ہی انتخابی مرحلہ مکمل ہوا، قیمتوں میں اضافے کی قیاس آرائیاں اور اشارے سامنے آنے لگے۔ اس سے عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید معاشی فیصلے اقتصادی ضرورت سے زیادہ سیاسی وقت بندی کے تحت لیے جا رہے ہیں۔
اسی دوران نئے لیبر کوڈز نے مزدور طبقے کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مزدور تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان قوانین سے ملازمت کا تحفظ کمزور ہوگا، تنخواہوں پر دباؤ بڑھے گا اور کارپوریٹ اداروں کو کارکنوں کو آسانی سے نکالنے کا اختیار مل جائے گا۔ حکومت اسے اصلاحات کا نام دیتی ہے، جبکہ مزدور اسے حقوق کی بتدریج تحلیل سمجھتے ہیں۔
یہ تمام واقعات مل کر ایک بڑی تصویر بناتے ہیں۔ ایک ایسی تصویر جہاں حکومت معاشی مسائل کو محض پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ قومی جذبات کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتی ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ کم خرچ کریں، کم سفر کریں، کم خریدیں — اور یہ سب “ملک کے لیے” کریں۔
حب الوطنی یقیناً ایک عظیم جذبہ ہے، مگر جب اسے معاشی ناکامیوں کے بوجھ کو عوام پر منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو سوال اٹھنا فطری ہو جاتا ہے۔
جمہوریت میں اصل طاقت صرف حکومت کے پاس نہیں ہوتی، عوام کے سوالات کے پاس بھی ہوتی ہے۔ اور شاید آج ہندوستان کو سب سے زیادہ انہی سوالات کی ضرورت ہے۔
کیونکہ معیشت صرف نعروں سے نہیں سنبھلتی۔
اس کے لیے شفافیت، اعتماد، برابری اور سب سے بڑھ کر دیانت دار مکالمہ ضروری ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment