میرے عزیز فاروٗق سیّد! خان نویدالحق۔


میرے عزیز فاروٗق سیّد!  
خان نویدالحق۔ 

آج دل جس کرب، جس ویرانی اور جس بے نام اداسی کے حصار میں قید ہے، اسے لفظوں کے پیمانے میں سمیٹنا آسان نہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں جب جب غم و الم کے سایے میرے آنگن پر اُترے، تم ہمیشہ ایک مخلص رفیق، ایک غم گسار بھائی اور ایک بے لوث ہم درد بن کر میرے ساتھ کھڑے رہے. 
میرے والدِ مرحوم کے انتقالِ پُرملال پر سب سے پہلے تعزیت کا بوجھ تم نے اپنے کندھوں پر اٹھایا. تمھاری آنکھوں کی نمی اور تمھارے لہجے کی شفقت آج بھی میرے حافظے میں تازہ ہے. پھر جب والدۂ مرحومہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں، تو تم تعزیت کے لیے یوں آئے جیسے اپنے ہی گھر کا چراغ بجھ گیا ہو. میری پھوپھی اماں کے انتقال پر بھی تمھاری موجودگی میرے لیے حوصلے کا استعارہ بنی رہی، اور جب میری بہن کی وفات نے میری زندگی کو غم کی تاریکیوں میں دھکیل دیا، تب بھی پرسہ دینے والا پہلا شخص تم ہی تھے. 
تم صرف تعزیت کرنے نہیں آتے تھے، بلکہ اپنے وجود کی حرارت سے دل کے زخموں کو سہلا جاتے تھے. تمھارے الفاظ رسمی نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان میں اخلاص کی وہ روشنی ہوتی تھی جو ٹوٹے ہوئے انسان کو پھر سے جینے کا حوصلہ دے دیتی تھی. 
لیکن اے میرے مہربان دوست!
آج جب تم خود زندگی کو خیر باد کہہ گئے ہو، تو مَیں ایک ایسے سنّاٹے کے درمیان کھڑا ہوٗں جہاں ہر سمت خاموشی کا راج ہے. تمھاری جدائی کا صدمہ اتنا گہرا، اتنا ہمہ گیر اور اتنا ناقابلِ بیان ہے کہ لوگ شاید میرے غم کی وسعت کا اندازہ ہی نہیں کر پا رہے. 
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ شخص، جو دوٗسروں کے غموں میں سایۂ رحمت بن کر شامل ہوتا رہا، آج اس کی رحلت پر مجھے پُرسہ دینے کے لیے کوئی کیوں نہیں آیا؟
کیا لوگوں کو معلوٗم نہیں کہ تم صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ محبت، خلوٗص ، وفا اور انسانیت کا ایک پورا جہان تھے؟
تمھاری موت محض ایک انسان کی موت نہیں، بلکہ ایک عہد کے اختتام کا اعلان ہے. 
تم وہ چراغ تھے جو دوٗسروں کے اندھیروں میں روشنی بانٹتے رہے، اور آج جب وہ چراغ بجھا ہے تو میری زندگی کی راہداریوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے شاید کبھی پُر نہیں کیا جا سکے گا. 
تم نے ایسا کیوں کیا فاروٗق؟
کیوں مجھے اس ہجومِ دنیا میں تنہا چھوڑ گئے؟
کیوں میری عادتوں، میری یادوں، میری محفلوں اور میری دعاؤں میں اپنا اتنا گہرا وجوٗد سمو دیا کہ اب ہر شے تمھاری کمی کا ماتم کرتی محسوٗس ہوتی ہے؟
آج محسوٗس ہوتا ہے کہ بعض لوگ رشتوں سے نہیں، اپنی روح کی روشنی سے زندگیوں کو آباد کرتے ہیں، اور جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک گھر نہیں، پورا ماحول ویران ہو جاتا ہے. 
تم بھی انھی نایاب انسانوں میں سے تھے. 
تمھاری یاد اب میرے لیے صرف ایک یاد نہیں رہی، بلکہ ایک مسلسل نوحہ ہے، ایک دائمی کسک ہے، ایک ایسا درد ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے اور زیادہ گہرا ہوتا جا رہا ہے. 
اللہ تعالیٰ تمھاری مغفرت فرمائے، تمھاری قبر کو نور سے بھر دے، اور تمھیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. 
آمین ثم آمین یا رب العالمین.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔