افسانچہ: مرد آشنا - ازقلم : ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔


افسانچہ: مرد آشنا - 
 ازقلم :  ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ۔ 
 
دفتر کا منظر تھا، اسامیوں کا شور تھا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ کس کو کس دفتر میں ڈالا جائے گا۔ ہر ایک اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑنے پر تلا ہوا تھا، گویا قابلیت نہیں بلکہ سفارش اور چالاکی ہی اصل ہنر ہو۔
اسی گرما گرمی میں ایک نااہل عورت، فسانہ، نے بھی درخواست دے رکھی تھی—اور عجیب بات یہ تھی کہ اسے خود اپنی نااہلی کا ذرا بھی احساس نہ تھا۔
فسانہ کا حلیہ کچھ یوں تھا کہ قد گِدّا، منہ بوڑھا، دانت ٹیڑھے میڑھے، اور چہرہ ایسا جیسے وقت نے اس پر ہر ظلم آزما لیا ہو۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے چہرے کی رنگت پر ایسے اتراتی تھی جیسے حسن کی ملکہ ہو۔ بغیر میک اپ کے تو وہ کسی ہارر فلم کی ولن معلوم ہوتی تھی، اور میک اپ کے بعد یوں لگتا جیسے خرابی پر صرف رنگ چڑھا دیا گیا ہو—اصل چہرہ وہی کا وہی۔
دراصل اس اسامی کے لیے صبا کا انتخاب ہو چکا تھا، مگر فسانہ اور اس کی دوست صنم کی سازشوں نے سب کچھ الٹ دیا۔ دونوں نے مل کر افسرِ بالا، فراز صاحب، کے کان اس مہارت سے بھرے کہ سچ جھوٹ لگنے لگا اور جھوٹ حقیقت۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دفتر نہیں، کسی کھیل کا میدان ہو—جہاں چالاکی جیتتی ہے اور قابلیت ہار جاتی ہے۔
صنم نے فسانہ کی مجبوریوں کی ایسی لمبی چوڑی داستان سنائی کہ فراز صاحب بھی متاثر ہو گئے۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ ہمدردی نہیں بلکہ ایک چال کا شکار ہو رہے ہیں۔ فسانہ اور صنم دراصل “مرد آشنا” تھیں—ایسی عورتیں جو اپنی کمزوری کو ہتھیار اور مردوں کو سیڑھی بنا کر اوپر چڑھنا جانتی تھیں۔
دھیرے دھیرے راز فاش ہونے لگے، مگر سچ ہمیشہ کی طرح دیر سے آیا—اور جب آیا تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔
دفتر کی پارٹیوں میں بڑے بڑے لوگ آتے، محفلیں جمتی تھیں۔ ایک ایسے ہی موقع پر فسانہ کی نظر ایک سماجی کارکن، احمد رضا، پر جا کر ٹھہر گئی۔ احمد رضا اس کی بناوٹی باتوں میں ایسے پھنسا جیسے سادہ دل پرانی کہانیوں میں جادو کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
احمد رضا کو اپنے حلیے کا اندازہ تھا—وہ خود بھی کوئی خاص شخصیت نہ تھا—اسی لیے فسانہ کی توجہ اسے کسی انعام سے کم نہ لگی۔ وہ اس کی ادا پر فدا ہو گیا، اور فسانہ نے اسے بھی اپنی فہرست میں شامل کر لیا۔
اب جب بھی احمد رضا دفتر آتا اور فسانہ کے ساتھ بیٹھتا تو منظر کچھ یوں ہوتا جیسے دو چھوٹے ہاتھی آمنے سامنے بیٹھے اپنی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
دونوں کو دیکھ کر یوں لگتا جیسے وہ خود کو کسی فلمی دنیا کے بڑے کردار سمجھتے ہوں، مگر حقیقت میں وہ اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا کے معمولی کردار تھے۔
دونوں کی دوستی دن بدن گہری ہوتی گئی۔ اگر کوئی انجانے میں بھی انہیں دیکھ لیتا تو وہ فوراً پارسائی کا لبادہ اوڑھ لیتے—گویا وہی سب سے زیادہ مخلص اور نیک ہوں۔
مگر دیکھنے والے دل ہی دل میں مسکرا دیتے، کیونکہ سچ چہرے سے نہیں، کردار سے ظاہر ہوتا ہے۔
لوگ چپکے چپکے کہتے کہ نہ جانے ان کے گھر والے انہیں کیسے برداشت کر رہے ہیں، یا شاید سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوئے ہیں۔
کیونکہ بعض اوقات سچ کو مان لینا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔
فسانہ اپنی عیاشی میں اس قدر مگن تھی کہ اسے نہ اپنی عزت کا خیال تھا، نہ اپنے گھر کا۔ اس کی اپنی بیٹیاں جوان ہو چکی تھیں، مگر وہ ان کی فکر کرنے کے بجائے خود اپنی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔
وہ ماں کم اور ایک بھٹکا ہوا کردار زیادہ معلوم ہوتی تھی۔
اس سارے کھیل کی اصل کھلاڑی صنم تھی—جو اپنی جوانی برباد کر چکی تھی اور اب دوسروں کو مہرہ بنا کر کھیل رہی تھی۔
وہ خود ڈوب چکی تھی، مگر اب دوسروں کو بھی ساتھ لے کر ڈوبنا چاہتی تھی۔
کہتے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی، مگر جب پڑتی ہے تو بہت زور سے پڑتی ہے—اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔
ایک دن اچانک سب حقیقت سامنے آ گئی۔ فراز صاحب کو جب اصل کہانی معلوم ہوئی تو ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
انہیں احساس ہوا کہ وہ انصاف نہیں، بلکہ ایک کھیل کا حصہ بن گئے تھے۔
فسانہ کو طلب کیا گیا۔ اس کے پاس نہ کوئی دلیل تھی، نہ کوئی سچ—صرف خاموشی تھی، اور وہ بھی ایسی جو ہر راز کھول دیتی ہے۔
احمد رضا بھی حقیقت جان کر ایسے پیچھے ہٹا جیسے اسے اپنی ہی پرچھائی سے ڈر لگنے لگا ہو۔
صنم کی چالاکیاں بھی آخرکار اسے نہ بچا سکیں۔
جو جال اس نے دوسروں کے لیے بچھایا تھا، وہی اس کے اپنے قدموں میں الجھ گیا۔
دونوں اب کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ شرمندگی نے انہیں اس طرح گھیر لیا تھا کہ وہ خود اپنی نظروں میں بھی گر چکے تھے۔
دفتر میں ایک بار پھر میرٹ کی بات ہونے لگی—مگر اس بار لوگ کچھ زیادہ خاموش تھے، جیسے سچ دیکھ کر بھی بولنے سے ڈرتے ہوں۔
فسانہ کی بناوٹی شان، اس کا غرور، اس کی چالاکی—سب مٹی میں مل چکے تھے۔
وہ اب خود ایک مثال بن چکی تھی—ایک ایسی مثال جسے دیکھ کر لوگ نصیحت حاصل کریں، نہ کہ تقلید۔
اور آخر میں یہی سچ باقی رہ گیا کہ:
 *“مرد آشنائی وقتی سہارا تو بن سکتی ہے، مگر انجام ہمیشہ رسوائی ہی ہوتا ہے۔”*

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔