لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار - باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار -  
باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
Principal Mount sinai PU college Belgaum 
M A M Ed 
8904317986



لوگ اکثر دوسروں کو بہت جلدی پرکھ لیتے ہیں۔
کسی کے کپڑے دیکھ کر، کسی کی غربت دیکھ کر، کسی کی زبان یا رہن سہن دیکھ کر فوراً اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ لیکن جب بات اپنی آتی ہے تو انسان اپنے لیے ہزار بہانے تلاش کر لیتا ہے۔ یہی حقیقت اس شعر میں بہت خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے:
لوگ تول دیتے ہیں چند باتوں پر کردار
باری اپنی ہو تو انہیں ترازو نہیں ملتا
یہ جملہ صرف تنقید نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ایک بڑے رویّے کی عکاسی کرتا ہے۔ آج انسان دوسروں کی غلطیوں کو بڑا بنا کر دیکھتا ہے مگر اپنی غلطیوں کو معمولی سمجھتا ہے۔ اگر کوئی غریب انسان چھوٹی سی غلطی کر دے تو لوگ فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن اگر وہی کام کوئی دولت مند یا طاقتور شخص کرے تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں یا اس کے لیے جواز ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہی ناانصافی معاشرے میں نفرت، غرور اور طبقاتی فرق پیدا کرتی ہے۔
اسلام نے انسان کو برابری کا درس دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت کو اس کی دولت، خاندان، رنگ یا حیثیت سے نہیں جوڑا بلکہ اس کے تقویٰ، اخلاق اور کردار سے جوڑا ہے۔ ایک غریب مزدور، ایک یتیم، ایک معمولی انسان بھی اللہ کے نزدیک بہت بڑا مقام رکھ سکتا ہے، جبکہ ایک دولت مند انسان اگر تکبر اور ظلم میں مبتلا ہو تو اس کی دولت اسے اللہ کے نزدیک بڑا نہیں بنا سکتی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں انسان کی قدر اس کے اخلاق سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس، لباس، گاڑی اور عہدے سے کی جاتی ہے۔ اگر کوئی امیر شخص سخت لہجے میں بات کرے تو لوگ کہتے ہیں کہ “اس کا مزاج ایسا ہے”، لیکن اگر ایک غریب انسان اپنی مجبوری یا پریشانی میں کچھ کہہ دے تو فوراً اسے بدتمیز یا بے کردار کہا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار انسانیت کے خلاف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاق، عاجزی، سچائی اور انسانیت میں ہوتی ہے۔
ایک غریب انسان جو دوسروں کا درد سمجھتا ہو، والدین کی عزت کرتا ہو، حلال روزی کماتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہو، وہ ایک بڑے محل میں رہنے والے مغرور انسان سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر انسان کو ایک نظر سے دیکھیں۔
نہ کسی کی غربت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں اور نہ کسی کی امیری سے مرعوب ہوں۔ کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج جو امیر ہے کل غریب بھی ہو سکتا ہے، اور آج جو کمزور نظر آتا ہے ممکن ہے کل اللہ اسے عزت عطا فرما دے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسانوں میں فرق دولت سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔ آپ ﷺ غریبوں، یتیموں، غلاموں اور کمزور لوگوں کے ساتھ محبت، عزت اور شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔ یہی حقیقی انسانیت ہے۔
اگر معاشرے میں انصاف، محبت اور سکون پیدا کرنا ہے تو ہمیں اپنے دلوں سے غرور، طبقاتی سوچ اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کی عادت ختم کرنی ہوگی۔
جب انسان دوسروں کو اپنی طرح انسان سمجھے گا، ان کی عزت کرے گا، ان کے حالات کو سمجھے گا اور ہر ایک کے لیے ایک جیسا معیار رکھے گا، تبھی ایک خوبصورت اور پرامن معاشرہ وجود میں آئے گا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ:
انسان کی پہچان اس کی دولت نہیں،
بلکہ اس کا کردار، اس کی نیت اور اس کا اخلاق ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔