بھائیوں کاقومی دِن ـ محمد یوسف رحیم بیدری۔
بھائیوں کاقومی دِن ـ
محمد یوسف رحیم بیدری۔
دن منانادنیا کے مزاج کاحصہ بنتاجارہاہے۔ اچھا پہلو یہ ہے کہ دن کی نسبت سے’تقریب کچھ توبہر ملاقات چاہیے‘ والا منظر ذہن میں ہوتاہے۔ جب کہ حساس افراد دن منانے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور اس کااہتمام بھی وقت، صلاحیت اور رقم خرچ کرکے انجام دیتے ہیں۔ میں امریکیوں کے مزاج کو نہیں جانتاتاہم ان کی جانب سے دنیا کودئے جانے والے ”مختلف ایام“ کے تحائف سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وہ ایونٹ مزاج باشندے ہوں گے۔ہر چیز کی یاد منانا ان کے قومی مزاج کاحصہ ہے۔
آج 24/مئی(اتوار) ہے۔ اور ہندوستان میں بھائیوں کاقومی دِن منایاجارہاہے۔ بھائیوں کاعالمی دن اِمسال اسی ماہ یعنی 3/مئی 2026ء کو منایاجاچکاہے۔آج عالمی نہیں بلکہ قومی دن ہے۔ بھائیوں کاقومی دن منانے کے لئے کیاکچھ کرنا ہے، اس سے قطع نظر ہم آتے ہیں اردو ادب میں خصوصاً شاعری کی جانب،دیکھتے ہیں شعرائے کرام نے کہاں کہاں کن کن بھائیوں کو یادکیا۔الطاف حسین حالی ؔفرماتے ہیں ؎
آرہی ہے چاہ ِ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
مرزا غالبؔ کہتے ہیں ؎
دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگی
میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
درج ذیل شعر میں کیاکچھ راحت ؔاندوری نے کہاہے، دیکھ اور
پرکھ لیں، وہ کہتے ہیں ؎
میں آج اپنے گھر سے نکلنے نہ پاؤں گا
بس اک قمیص تھی جو مرابھائی لے گیا
عرفان صدیقی کاشعرہے ؎
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
میرؔبیدری کی بھائیوں سے صاف ستھری دوستی ہے، اسی لئے کہاہوگا ؎
میرؔخموش مگر بیٹھے ہو
بھائی تم میرے لگتے ہو
مظفر حنفی ؔ اپنے بھائی سے مل بانٹ کر رونے کی بات کرتے ہیں، یہی لہجہ اردو شعراء کا رہاہے ؎
مجھ کو بھی یہ لمحوں کا سفر چاٹ رہا ہے
مل بانٹ کے رو لیں اے مرے بھائی ادھر آ
مگر منوررانا کی آواز بھی نظر اندازنہیں کی جاسکتی۔ وہ کہتے ہیں ؎
پھینک آئے تھے مجھ کو بھی مرے بھائی کنویں میں
میں صبر میں بھی حضرت ایوب رہاہوں
نظم”دیپاولی“میں نذیر بنارسی کاکہناہے ؎
اسی دن دروپدی نے کرشن کو بھائی بنایا تھا
وچن کے دینے والے نے وچن اپنا نبھایا تھا
محترم میراجی کی نظم ہے ”مجھے گھر یاد آتا ہے“ وہ کہتے ہیں ؎
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو
وہ کیسی مسکراہٹ تھی بہن کی مسکراہٹ تھی، میرا بھائی بھی ہنستا تھا
وہ ہنستا تھا بہن ہنستی ہے اپنے دل میں کہتی ہے
یہ کیسی بات بھائی نے کہی دیکھو وہ اماں اور ابا کو ہنسی آئی
مگر یوں وقت بہتا ہے تماشا بن گیا ساحل
مجھے ساحل نہیں ملتا
ساحرؔلدھیانوی کی نظم ”پرچھائیاں“ کاایک شعر ؎
ان جانے والے دستوں میں غیرت بھی گئی برنائی بھی
ماؤں کے جواں بیٹھے بھی گئے بہنوں کے چہیتے بھائی بھی
فہمیدہ ریاض کی نظم ہے ”تم بالکل ہم جیسے نکلے“۔اس میں وہ کہتی ہیں ؎
تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
منیرؔنیازی صاحب اپنے شعراء بھائیوں سے کہہ رہے ہیں ؎
اپناتو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا
جاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا
اب ہم مرثیہ اور مثنوی وغیرہ کی جانب توجہ کرتے ہیں۔ مثنوی اور مرثیوں میں بھائی بہنوں کا ذکرخوبی کے ساتھ ملتاہے یعنی جس کندھے پر سر رکھ کر رویاجاسکے، وہ کندھا بھائی ہی کا ہوتاہے۔دشمن سے لڑائی کرنے کے لئے بھائی کے ساتھ کی ضرورت پڑتی ہے اور بھائی نہ ہوتو بے یارومددگار ہونے کااحساس مزید بڑھ جاتاہے، چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ میرانیس کہتے ہیں ؎
اس طرف لشکرِ اعدامیں صف آرائی ہے
یاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہے
میرانیس ایک مرثیہ میں کہتے ہیں ؎
یوں جاکے روئے ان کے تن پاش پاش پر
جس طرح بھائی روتاہے بھائی کی لاش پر
ایک اورمرثیہ میں پھر ایک بار میرانیس کو ملاحظہ فرمائیں ؎
جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آڑہو
پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو
میرحسن ایک مثنوی میں لکھتے ہیں ؎
نہیں ہمسر اس کاکوئی، جو علی
کہ بھائی کا بھائی، وصی کاوصی
ایک مرثیہ میں جوش ؔرقمطراز ہیں ؎
وہ دل بجھے ہوئے، وہ ہوائیں تھمی ہوئی
وہ اک بہن کی بھائی پہ نظریں جمی ہوئی
مرزا سلامت علی دبیرکہہ رہے ہیں ؎
کلثوم صبر کر چکیں مظلوم بھائی کو
زینب نے بھی لٹا دیا ماں کی کمائی کو
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی ایک مثنوی میں بھائیوں کامنظر پیش کرتے ہیں ؎
دی آنکھ جو شہ نے رونمائی
چشمک سے نہ بھائیوں کے بھائی
مرزا سلامت علی دبیر کاکہناہے ؎
حضرت نے بے کسی سے کہا جب کہ یہ سخن
مل کر گلے سے بھائی کے رونے لگی بہن
مزید اشعار پڑھ لیں اور بھائی سے متعلق شعراء کے تجربات اور زندگی کے رنگ ڈھنگ ملاحظہ کریں ؎
اک بھائی کو دوجے بھائی سے لڑنے کا جو دیتے ہیں پیغام
وہ لوگ نہ جانے پھر کیسے جمہور کی باتیں کرتے ہیں
عبید الرحمان
خدا بخشے وہ دن بھی کیاسہانے تھے
جہاں میں اپنے بھائی کتنے یگانے تھے
امجد اسلام امجد
پسند آتاہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
جون ایلیا
تری خاطر نظر انداز کرتاہوں اسے ورنہ
وہ جو ہے ناترابھائی مجھے اچھانہیں لگتا
عامر امیر
چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو
جگنوبھیا! جی مت بھاری کیاکرو
راحت ؔاندروی
دل ہے نیرنگی ء ایام پہ حیراں اب تک
اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو
احمد مشتاق
کوئی دیوانہ کہتاجاتاتھا
زندگی یہ نہیں میرے بھائی
عبیداللہ علیم
دشمن ِ جاں ہے بھائی بھائی کا
دوردورہ ہے یہ برائی کا
اقبال آصف ؔ
ہم بزرگوں کی روایت سے جڑے ہیں بھائی
نیکیاں کر کے کبھی پھل نہیں مانگا کرتے
طفیل چترویدی
دیکھو بھائی ایسا ہے
یہ دل درپن جیسا ہے
آدرش دبے
مہینوں بھائی بندوں نے مرا ماتم کیا مضطرؔ
مہینوں روئے خالی چارپائی دیکھنے والے
مضطر خیرآبادی
چھوٹے بھائی سے بھی جذبات نہیں ملتے ہیں
خون ملتا ہے خیالات نہیں ملتے ہیں
محشر آفریدی
اس زاویے سے پیڑ لگایا ہے بھائی نے
آتا نہیں ذرا سا بھی سایہ مری طرف
معین شاداب
بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر
پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر
مژدم خان
روزو شب وہ دیکھو چاہتے تھے
میرے بھائی مجھ کو چاہتے تھے
میرؔبیدری
آخر میں نظیرؔاکبر آبادی کی بات پر مضمون ختم کیاجاتاہے۔نظیرؔکہتے ہیں ؎
کس کو کہئے نیک اور ٹہرائیے کس کو برا
غور سے دیکھاتو سب اپنے ہی بھائی بندہیں
اللہ تعالیٰ تمام بھائیوں کوایک دوسرے سے محبت کرنے والا بنائے رکھے۔پیدائش سے موت تک ان میں محبت باقی رہے۔ آمین
Comments
Post a Comment