کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ - سعید پٹیل جلگاؤں۔


کیا ہم نے قربانی کے پاکیزہ جذبوں کی یادگار کے فلسفہ کو سمجھا ہے؟ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ - 
سعید پٹیل جلگاؤں۔

 الله رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر اس کو افضلیت بخشی ہے۔اس لیۓ اس سے کام بھی بڑے اور بلند مرتبے والے لیۓ گیۓ ہیں۔کیونکہ حضرت انسان کو الله رب العزت نے فطری طور پر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ، مسائل و معاملات کو حل کرنے اور فکری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اسی لیۓ اس سے مطالبات بھی اسی درجے کےکیۓ گیۓ ہیں۔جن میں قربانی جیسا پاکیزہ عمل بھی شامل ہے۔جو سنت ابراہیم علیہ السلام کے طور پر ہم ادا کرتے ہیں۔جس کا بنیادی مقصد و اصل فلسفہ یہ ہےکہ انسان محض ظاہری جانور کی قربانی دینے کے بجاۓ اپنے اندر موجود انا ، ضد ، خواہشات نفس ، اقرباپروری ، جانبداری ، غرور ، اپنا غصہ ، اپنی کڑوی اور سخت لہجہ زبان اور برے جذبے کو اللّٰه کے واسطے چھوڑ دے اور اللّٰه کی مکمل فرمانبرداری اختیار کرے اور اس کے حکم کو خندہ پیشانی سے مانے۔ہر سال دی جانےوالی اس یادگار قربانی کے عمل سے گذرنے کے بعد اپنے اس نیک عمل کے ساتھ عبادتیں ، فرائض ، سادگی ، اور نمونہ و مثالی نیکیوں کو اپنے بزرگ والدین ، پڑوسیوں ، غریبوں ، ضرورتمندوں ، رشتہ داروں ، دوست احباب اور انسانیت میں پیار محبت ، اخوت و بھائی چارے کو تقسیم کرتے رہے۔ایسا کرنے سے سماج میں محروم اور مظلوم طبقات کو ان کا حق ملےگا ، ہمدردی اور محبت فروغ پائیں گی ، معاشرہ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے گا۔اس ترقی میں ہم انفرادی و اجتماعی طور پر سب شامل ہوں گے۔اس قربانی کے جذبے کی موجودہ حالات میں پھر ایک مرتبہ ضرورت آن پڑی ہے۔آج پوری مسلم قوم بےیار مدگار مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ آج اس کے پاس جو سب سے بڑی چیز ہے وہ یہ کہ اسوہ حسنہ کی پیروی کرکے نمونہ بن کر زندگی گذارے ، جس میں عاجزی اور خاکساری کا جذبہ ہو ، جس کی تکمیل صبر اور حکمت کے ساتھ درکار ہے۔ اس لیۓ ہمیں ہر ہر برے کام سے سچی توبہ کرکے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔تبھی ہم اللّٰا کی نصرت حاصل کرکے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوں گے۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر باپ اور بیٹے نے اللّٰا رب العزت کی فرماں برداری کرتے ہوۓ قربانی کا ایسا عمل پیش کیا جو قیامت تک امت محمدیہ کو کرنا واجب قرار دیا گیا ہے۔لیکن اس کی ادائیگی ہمارےلیۓ باعث ثواب کے ساتھ ساتھ اس جذبے کے ساتھ ہوکہ ہر برے عمل کو چھوڑ کر نیکی کے عمل کا سلسلہ جاری رہے۔اس لیۓ ہمیں اس قربانی کے پس منظر میں اپنا ایماندارانہ محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ کسی کےلیۓ بھی ہمارا اندرون اور بیرون دونوں پاکیزہ ہو اور نیکیوں کے حصول کا سلسلہ پاکیزہ جذبوں کے ساتھ جاری رہے اور ہمارا یہ عمل ہمیں اللّٰه کی بندگی تک پہونچاکر اس کی رضا اور قرب حاصل ہو تاکہ ہمیں بھی تقویٰ اور پرہیزگاری سے دنیا و آخرت کی بھلائی نصیب ہوسکے۔

سعید پٹیل saeedpatel1961@gmail.com

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔