نمبروں کا جنگل۔ - ازقلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔
نمبروں کا جنگل۔ -
ازقلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں۔
صبح کے وقت گاؤں کی پرانی چائے کی دکان پر غیر معمولی خاموشی تھی۔
وہی دکان… جہاں کبھی سیاست سے لے کر کرکٹ تک ہر موضوع پر زور دار بحث ہوا کرتی تھی۔
لیکن آج سب کے ہاتھوں میں موبائل تھے اور نگاہیں ایک ہی خبر پر جمی ہوئی تھیں۔
“دسویں جماعت کا نتیجہ جاری ہوگیا…!”
چائے والے رحیم چاچا نے عینک درست کرتے ہوئے اخبار ایک طرف رکھا اور حیرت سے بولے:
“ارے بھائی… یہ کیا زمانہ آگیا ہے؟ ہر دوسرے بچے کو 95 اور 98 فیصد نمبر مل رہے ہیں۔ اور یہاں تو کچھ بچوں نے پورے 100 فیصد بھی حاصل کرلیے!”
ساتھ بیٹھے قادر ماموں نے لمبی سانس لی اور ہلکے سے مسکرا کر بولے:
“رحیم بھائی… اب تو لگتا ہے کہ ہمارے زمانے کے سارے استاد قبر میں بھی شرمندہ ہورہے ہوں گے۔”
دکان پر بیٹھے سب لوگ ہنس پڑے، مگر اس ہنسی میں ایک عجیب سی اداسی بھی شامل تھی۔
کیونکہ حقیقت یہی تھی کہ زمانہ بدل چکا تھا۔
رحیم چاچا کو آج بھی اپنا دسویں جماعت کا نتیجہ یاد تھا۔
وہ دن اُن کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا۔
گاؤں کے پوسٹ آفس کے باہر نتیجہ لگایا گیا تھا۔
سیکڑوں بچے اپنے رول نمبر ڈھونڈ رہے تھے۔
کسی کی دھڑکن تیز تھی، کسی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
رحیم چاچا نے بڑی مشکل سے اپنا نمبر تلاش کیا۔
“پاس… 36 فیصد!”
بس… پھر کیا تھا۔
اُن کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا کی سب سے بڑی جنگ جیت لی ہو۔
گھر پہنچے تو والد نے سینے سے لگا لیا۔
ماں نے فوراً شکرانے کے نفل پڑھے۔
شام تک گھر میں مٹھائی تقسیم ہوتی رہی۔
گاؤں میں لوگ مبارکباد دینے آرہے تھے۔
“رحیم پاس ہوگیا!”
یہ جملہ اُس زمانے میں کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔
اُن دنوں 60 یا 70 فیصد نمبر لینے والا طالبِ علم پورے علاقے کی شان سمجھا جاتا تھا۔
اگر کسی بچے نے فرسٹ کلاس حاصل کرلیا تو مہینوں اُس کے چرچے ہوتے تھے۔
استاد بھی سخت ہوا کرتے تھے۔
اردو کے پرچے میں اگر ایک نقطہ غلط لگ گیا تو آدھا نمبر فوراً غائب۔
کانا، ماترا، زیر، زبر… سب کی الگ اہمیت تھی۔
انگریزی میں اسپیلنگ غلط ہوئی تو گویا پورا جواب بے کار۔
ریاضی میں جواب صحیح آنے کے باوجود اگر درمیانی مرحلہ غلط لکھ دیا تو استاد پورے اعتماد سے لکھ دیتے:
“طریقہ غلط ہے۔”
سائنس میں خاکہ ذرا ٹیڑھا ہوگیا تو نمبر ہوا میں اُڑ جاتے تھے۔
تب نمبروں سے زیادہ علم کی اہمیت تھی۔
اور آج…
رحیم چاچا موبائل پر نتائج دیکھتے ہوئے حیران تھے۔
محلے کے اسلم بھائی کا بیٹا 79 فیصد لایا تھا، مگر گھر میں خوشی کم اور پریشانی زیادہ تھی۔
“صرف 79 فیصد…!”
اسلم بھائی بار بار یہی کہہ رہے تھے۔
“کاش دو چار فیصد اور آجاتے تو اچھے کالج میں داخلہ آسان ہوجاتا…”
رحیم چاچا حیرت سے اُنہیں دیکھتے رہے۔
اُن کے ذہن میں فوراً اپنا 36 فیصد گھوم گیا…
وہی 36 فیصد جس پر پورا گاؤں خوشی سے جھوم اُٹھا تھا۔
شام کے وقت گاؤں کے میدان میں کچھ بچے خاموش بیٹھے تھے۔
کسی کے 72 فیصد آئے تھے، کسی کے 76۔
مگر کسی کے چہرے پر خوشی نہ تھی۔
ایک لڑکے نے آہستہ سے کہا:
“یار… ابو ناراض ہیں۔ کہتے ہیں شرما کے بیٹے کو 85 فیصد آئے ہیں…”
دوسرا بولا:
“میرے گھر والے کہہ رہے ہیں کہ اب اچھا کالج نہیں ملے گا…”
رحیم چاچا دور کھڑے سب سن رہے تھے۔
اُنہیں اچانک اپنا بچپن یاد آگیا۔
نتیجہ آنے کے بعد وہ اور اُن کے دوست سیدھے نہر پر نہانے چلے جاتے تھے۔
پھر شام کو بھیل پوری کھاتے، سینما دیکھتے اور رات گئے تک کھیلتے رہتے۔
کیونکہ اُس وقت نمبروں سے زیادہ خوشیوں کی اہمیت تھی۔
آج کے بچے ذہین ضرور ہیں۔
محنت بھی بہت کرتے ہیں۔
مگر شاید اُن کے کندھوں پر توقعات کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔
اب تعلیم، علم سے زیادہ نمبروں کی دوڑ بن گئی ہے۔
ہر بچہ ایک مشین کی طرح صرف فیصد کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
بچپن کہیں کھو گیا ہے۔
کھیل ختم ہوگئے ہیں۔
دوستیوں کی جگہ کوچنگ سینٹرز نے لے لی ہے۔
ہر گھر میں صرف ایک سوال گونجتا ہے:
“کتنے فیصد آئے؟”
رحیم چاچا نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر دھیرے سے بولے:
“زمانہ واقعی بدل گیا ہے…
لیکن ایک بات آج بھی نہیں بدلی…”
پاس بیٹھے قادر ماموں نے پوچھا:
“وہ کیا؟”
رحیم چاچا مسکرائے۔
“بیٹا…
زندگی کا حساب کبھی بھی صرف نمبروں سے نہیں لگایا جاتا۔
کیونکہ کاپی کے نمبروں کا حساب الگ ہوتا ہے…
اور زندگی کے حساب کتاب الگ…”
چائے کی دکان پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر دور مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز بلند ہوئی…
اور ہر شخص اپنے اپنے خیالوں میں گم ہوگیا۔
Comments
Post a Comment