اردو اکادمی آندھراپردیش کو اہل زبان کی امیدوں کا مرکز بنائیں. اہل اردو کی جانب سے تعمیری تجاویز۔


اردو اکادمی آندھراپردیش کو اہل زبان کی امیدوں کا مرکز بنائیں.
 اہل اردو کی جانب سے تعمیری تجاویز۔ 

اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔ یہ صرف ایک زبان نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ثقافت ہے جس نے محبت، انسانیت، رواداری اور علمی شعور کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج جبکہ مادی ترجیحات کے شور میں زبانیں اپنی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد کر رہی ہیں، ایسے وقت میں اردو کی بقا اور فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکے ہیں۔

اردو اکادمی آندھراپردیش چیرمن فاروق شبلی صاحب کی قیادت میں اردو اکیڈمی مختلف سطحوں پر زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ حالیہ دنوں میں منعقد ہونے والے چھوٹے چھوٹے ادبی و ثقافتی پروگراموں نے اردو سے وابستہ حلقوں میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ شعرا، ادباء، اساتذہ، طلبہ اور زبان سے محبت رکھنے والے افراد کی جانب سے ان سرگرمیوں کا خیرمقدم اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو سماج آج بھی اپنی زبان سے جذباتی وابستگی رکھتا ہے اور اگر مخلصانہ قیادت میسر آئے تو یہ زبان نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔اسی احساس اور جذبے کے تحت اُردو زبان کی ترقی و استحکام کے لیے چند اہم تجاویز پیش کی جا رہی ہیں یا پھر یوں سمجھیں کہ چند نئے تجاویز کے ساتھ یاد دہانی کروائی جارہی ہے کیونکہ مندرجہ ذیل مطالبات میں سے چند نکات پہلے سے ہی اکادمی کے اغراض و مقاصد میں شامل ہیں. 

1۔ اردو آنگن واڑی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اُردو زبان سے جوڑا جا سکے.
2۔ اردو کتابوں کی اشاعت کے لیے ادباء اور مصنفین کو مالی تعاون فراہم کیا جائے تاکہ معیاری ادب منظر عام پر آ سکے.
3۔ اردو شعرا، ادباء اور محققین کے لیے خصوصی اعزازی وظائف اور امدادی اسکیمیں جاری کی جائیں.
4۔ ہر اردو شادی خانہ میں ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر مفت ادبی نشستیں، مشاعرے، مذاکرے اور اصلاحی پروگرام منعقد کیے جائیں، تاکہ نئی نسل ادب سے وابستہ ہو.
5۔ اردو شادی خانوں میں سیاست سے بالاتر وسیع آڈیٹوریم، مطالعاتی مراکز اور جدید سنٹرل لائبریریاں قائم کی جائیں. 
6۔ اردو مصنفین جنہوں نے شدید مالی مشکلات کے باوجود اردو زبان کے لیے قیمتی تصانیف پیش کی ہیں، ان کی کتابیں اردو اکیڈمی خرید کر سرکاری لائبریریوں تک پہنچائے. 
7۔ مالی پریشانیوں سے دوچار شعرا، ادباء، ڈرامہ نگار، اداکار اور اُردو کے خدمت گزاروں کے لیے ماہانہ پنشن کا انتظام کیا جائے. 
8۔ ماضی کی طرح اُردو ڈرامے، سیمینار، مشاعرے، کل ہند ادبی کانفرنسیں اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے. 
9۔ اردو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر اعزازی اساتذہ کے ذریعے پورا کیا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو. 
10۔ ڈی ایس سی، نیٹ، سیٹ، یو پی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے اردو طلبہ کو مفت کوچنگ، رہنمائی اور کتابوں کی فراہمی کا انتظام کیا جائے. 
11. اردو صحافیوں کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے. 
12. ریسرچ اسکالرز کے لیے خصوصی طور پر اسکالر شپ دی جائے. 
13. تربیتی ورکشاپس اور روزگار سے متعلق اسکیمیں شروع کی جائیں. 

یہ مطالبات کسی فرد یا ادارے کے ذاتی مفاد کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ پورے اردو سماج کی دیرینہ خواہشات اور ضروریات کا آئینہ ہیں. حقیقت یہ ہے کہ آج اردو زبان کو صرف رسمی تقریبات نہیں بلکہ ایسے مضبوط تعلیمی، ادبی اور ثقافتی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کو اس زبان سے جوڑے رکھ سکے۔ اگر حکومت اور اردو اکیڈمی سنجیدگی کے ساتھ ان نکات پر توجہ دے تو نہ صرف اردو زبان کو تازہ فضاء ملے گی بلکہ ہزاروں طلبہ، ادباء اور فنکاروں کے مستقبل کو بھی استحکام حاصل ہوگا.

گزشتہ کئی برسوں سے اردو کے نام پر محض اعلانات اور رسمی بیانات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر خاطر خواہ پیش رفت دکھائی نہیں دی. ایسے ماحول میں اردو حلقوں کی نظریں اردو اکادمی کے نئے چیرمن جناب فاروق شبلی کی قیادت پر مرکوز ہیں. لوگوں کو یقین ہے کہ آپ نمائشی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیں گے اور اردو اکیڈمی کو حقیقی معنوں میں اہل زبان کی امیدوں کا مرکز بنائیں گے. 

.. آؤ اردو سیکھیں... حالیہ پروگرام میں چیرمن صاحب کا یہ جملہ بہت معنی رکھتا ہے، آپ نے کہا تھا کہ 
... میں باتوں سے زیادہ عمل پر یقین رکھتا ہوں...

اسی یقین کے ساتھ اردو سے محبت کرنے والے افراد آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ زبان و ادب کے تحفظ اور فروغ کے لیے سنجیدہ، مستقل اور دور رس فیصلے کیے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ارد سے فیض یاب ہو سکیں۔

ڈاکٹر انور ہادی جُنیدی
چیئرمین
امیرالنساء ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن
کڈپہ، آندھرا پردیش

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔