انکاؤنٹر - (مراٹھی کہانی سے ماخوذ ) پٹھان شریف خان۔
انکاؤنٹر - (مراٹھی کہانی سے ماخوذ )
پٹھان شریف خان۔
9422409471
وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مٹھائی کا ڈبہ لیٔے میرے گھر آئیں۔میں کمر پر تولیہ لپیٹے، ہال میں بچھی چٹائی پر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ فلم چل رہی تھی " ہم دل دے چکے صنم۔"
اور صحن میں کرسی ڈال کر میری بیوی، فرحانہ، انسٹاگرام کی ریلس دیکھنے میں محو تھی۔دروازہ کھلا تو بیوی چونکی بھی اور خوش بھی ہوئی۔
کہنے لگی:
“ارے سنتے ہو! ہماری پڑوسن، شاہین باجی آئیں ہیں! ”میں گھبرا کر اندر گیا، منہ دھویا، کپڑے بدلے اور واپس آیا۔
بیٹھنے کو ہمارے پاس ایک پلاسٹک کی کرسی تھی، بس وہی پیش کی گئی۔گھر سادہ تھا نہ فرنیچر، نہ سجاوٹ۔
ایک لوہے کی الماری، جس میں میری کتابیں میرا اصل سرمایہ۔
وہ بیٹھی اور نگاہوں سے گھر کا جائزہ لینے لگی۔اس کے بنگلے اور میرے گھر کا فرق اس کے چہرے پر صاف عیاں تھا۔اس نے مٹھائی پیش کی اور اپنے بیٹے سے کہا:
“بیٹا، انٹی کو سلام کرو اور دعائیں لو!”
باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
وہ بولی:
“آج دسویں کا نتیجہ آیا ہے… میرا فرحان بیٹا اسکول میں اول آیا ہے 97 فیصد!”۔۔۔لایا۔۔
میں نے دل سے مبارکباد دی۔
پھر اس نے پوچھا:
“آپ کا بیٹا؟”
بیوی نے ہلکی آواز میں کہا:
“وہ لینے گیا ہے…”
اتنے میں میرا بیٹا دوستوں کے ساتھ آیا، پسینے میں شرابور، پانی پیا اور ہنستے ہوئے بولا:
“I am proud of you!”
پھر ادب سے کہا:
“آنٹی، دعا دیجیے!”
اس نے پوچھا:
“کتنے فیصد آئے؟”
وہ ہنسا:
“ابا سے زیادہ! مجھے ٪78 فیصد ملے!”
اور خوشی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا…
میرا بیٹا جالنہ کے پولی ٹیکنک میں داخل ہو گیا زندگی کے ساتھ ہنستا کھیلتا، کبھی سنجیدہ، کبھی بے پرواہ…
ادھر پڑوسی شاہین کا بیٹا کوٹا میں دن رات پڑھتا رہا
اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے…
ہر ٹیسٹ میں اعلیٰ نمبر…
ماں کا ایک ہی جملہ:
“اور محنت کرو… ہم نے تم پر بہت خرچ کیا ہے…”
پھر بارہویں کا نتیجہ آیا
89 فیصد۔۔۔۔!
اور ان کے گھر میں کہرام مچ گیا…
“ہماری امیدوں پر پانی پھر گیا!”
“لوگ کیا کہیں گے؟”
اس رات گھر خاموش رہا…
اگلی صبح دروازہ نہ کھلا…
کافی کوشش کے بعد دروازہ توڑا گیا…
وہ لڑکا اپنے بستر پر بے حس و بے حرکت پڑا تھا…
سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
اس کے ٹیبل پر ایک خط رکھا تھا
“پیار ی امی،
مجھے معاف کردیجیے… میں آپ کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا…
دو سال میں بس چند دن ہی جیا… باقی صرف پڑھتا رہا…
امی، آپ ناراض نہ ہوں…
میں تھک گیا تھا…
امی، اگر اللہ مجھے ایک اور موقع دیتا…
تو میں ایسی زندگی نہ مانگتا جس میں جینے سے زیادہ توقعات کا بوجھ ہو…؟
آپ نے جو میرے لیے کیا، میں اس کا شکر گزار ہوں…
مگر میں خود کو کھو بیٹھا…
مجھے معاف کر دیجیے…
آپ کا بیٹا.............!
میں نے خط اس کے باپ کے ہاتھ میں دیا…
اور دل میں ایک ٹیس اٹھی…میں دھیرے سے بولا:
“تم ماں باپ نہیں ہو…
تم تو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ہو…
جو اپنی ہی اولاد کو اپنی توقعات کے بوجھ تلے مار دیتے ہو…”
اور میرے کانوں میں ایک ہی لفظ گونجتا رہا
" نکاؤنٹر… انکاؤنٹر… انکاؤنٹر…"
پٹھان شریف خان
@9422409471
(مراٹھی کہانی سے ماخوذ )
Comments
Post a Comment