حضرت ابراہیم سمرقندی رحمہ اللّٰہ علیہ کے ١٢٢٦ واں عرس مبارک کے موقع پر - ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔



حضرت ابراہیم سمرقندی رحمہ اللّٰہ علیہ کے ١٢٢٦ واں عرس مبارک کے موقع پر - 
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔

اہلِ بیتِ اطہارؓ کے چشم و چراغ، اہلِ قریش قبرستان کے روحانی تاجدار مہاراشٹر کی سرزمین صدیوں سے اولیاءِ کرام، صوفیاءِ عظام اور اہلِ دل بزرگوں کی نسبت سے روحانی عظمت رکھتی ہے۔ اسی مقدس دھرتی پر تعلقہ جننر ضلع پونہ کے تاریخی گاؤں پاڈلی میں ایک ایسی عظیم المرتبت ہستی آرام فرما ہیں جنہیں عقیدت مند *حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ* کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک صاحبِ کرامت بزرگ تھے بلکہ اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے نسبت رکھنے والی وہ نورانی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے اخلاق، عبادت، زہد و تقویٰ اور خدمتِ خلق سے ہزاروں دلوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے منور کیا۔ آپ کا مزارِ اقدس اہلِ قریش قبرستان پاڈلی میں مرجعِ خلائق ہے جہاں آج بھی عقیدت مند حاضر ہو کر روحانی سکون، قلبی اطمینان اور فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ اہلِ علاقہ کے دلوں میں آپ کی محبت ایک چراغ کی مانند روشن ہے جس کی لو کبھی مدھم نہیں ہوئی۔
*نسبِ مبارک اور روحانی عظمت*
حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق اہلِ بیتِ اطہارؓ سے ہیں۔ یہی نسبت آپ کی شخصیت میں نورانیت، شفقت، حلم اور روحانی کشش کا سبب بنی۔ آپ کی ذات میں خانوادۂ رسول ﷺ کی پاکیزگی اور صوفیانہ فقر کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔ لوگ آپ کو نہ صرف ایک ولیٔ کامل بلکہ محبت و انسانیت کا پیکر سمجھتے تھے۔
“سمرقندی” نسبت اس بات کی علامت مانی جاتی ہے کہ آپ کے بزرگوں کا تعلق وسط ایشیا کے علمی و روحانی مرکز سمرقند سے ہے ۔جہاں سے بے شمار اولیاء و صوفیاء نے عالمِ اسلام کو روحانی روشنی عطا کی۔
عبادت و ریاضت کا پیکر
حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، مجاہدۂ نفس اور خدمتِ خلق میں بسر فرمایا۔ روایت ہے کہ آپ اکثر راتوں کو عبادت میں گزارتے اور فجر سے قبل طویل مناجات میں مشغول رہتے۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص ایک عجیب روحانی کیفیت محسوس کرتا تھا۔ آپ دنیاوی نمود و نمائش سے بے حد دور رہتے۔ سادگی آپ کا شعار اور عاجزی آپ کی پہچان تھی۔ فقراء، مساکین اور مسافروں کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ آپ کی خانقاہی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔
کراماتِ حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
اولیاءِ کرام کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کرامات سے مزین ہوتی ہیں۔ حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی متعدد روحانی واقعات اور کرامات منقول ہیں جنہیں اہلِ علاقہ آج بھی عقیدت سے بیان کرتے ہیں۔
دعاؤں کی قبولیت کہا جاتا ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ آپ کے مزار پر حاضر ہو کر دعا مانگتا، اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرما دیتا۔ بے اولاد جوڑوں کو اولاد کی نعمت، بیماروں کو شفا اور پریشان حال لوگوں کو سکون نصیب ہونے کے کئی واقعات زبان زدِ عام ہیں۔
روحانی بصیرت
آپ لوگوں کے دلوں کے احوال سمجھ لیتے تھے۔ کوئی شخص پریشانی میں حاضر ہوتا تو آپ اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی اس کی کیفیت بیان فرما دیتے۔ یہی روحانی فراست لوگوں کے ایمان و عقیدت میں اضافہ کرتی تھی۔ محبت و اخوت کا درس
آپ کی سب سے بڑی کرامت یہ تھی کہ آپ نے نفرتوں کو محبت میں بدل دیا۔ مختلف برادریوں مزاہب اور طبقات کے لوگ آپ کی مجلس میں بیٹھ کر بھائی چارے اور انسانیت کا درس حاصل کرتے تھے۔
خدماتِ دین و انسانیت
حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے دینِ اسلام کی تبلیغ نہایت حکمت، نرمی اور محبت کے ساتھ فرمائی۔ آپ کے کردار میں تصوف کی اصل روح نمایاں تھی جس کا مقصد انسان کو اللہ سے جوڑنا اور مخلوقِ خدا سے محبت سکھانا ہے۔
آپ نے:
لوگوں میں اخلاقِ حسنہ کو فروغ دیا
نوجوانوں کو دینی و روحانی تربیت دی
ذکر و فکر کی محفلوں کا اہتمام فرمایا
غریبوں اور مسکینوں کی مدد کی‌ بھائی چارہ، صبر اور رواداری کا پیغام عام کیا
آپ کی تعلیمات آج بھی اہلِ پاڈلی اور اطراف کے علاقوں میں زندہ ہیں۔
*مزارِ اقدس کی روحانی فضیلت*
اہلِ قریش قبرستان پاڈلی میں واقع آپ کا مزار شریف روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ عرس مبارک اور دیگر مذہبی مواقع پر عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضر ہو کر فاتحہ، درود و سلام اور محافلِ ذکر و نعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ مقام صرف ایک مزار نہیں بلکہ محبت، عقیدت اور روحانی سکون کا مرکز ہے جہاں آنے والا ہر شخص اپنے دل میں ایک نورانی کیفیت محسوس کرتا ہے۔آج ٢١ مئ بہ روز جمعرات آپ کا ١٢٢٦ واں عرس مبارک اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک کے کونے کونے سے آپ کے چاہنے والے فیوض وبرکات حاصل کریں گے۔
صوفیانہ پیغام
حضرت ابراہیم سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ:
“تصوف لباس کا نام نہیں، بلکہ دل کو محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ سے روشن کرنے کا نام ہے۔”
آپ نے انسانوں کو نفرت نہیں محبت، غرور نہیں عاجزی، اور دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کا نام احترام، عقیدت اور روحانی عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔آپ شہزادہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
حضرت ابراہیم سمرقندی اُن عظیم صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے خاموشی کے ساتھ دلوں کی دنیا بدل دی۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ محبت، عبادت، خدمتِ خلق اور روحانی فیوض کا حسین مرقع ہے۔ اہلِ پاڈلی اور اطراف کے علاقوں کے لیے آپ کی ذات آج بھی مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اولیاءِ صالحین کی سچی محبت اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔