مہاراشٹر ریاست کیسے بنی۔ مولانا احمد بيگ ناندیڑ
مہاراشٹر ریاست کیسے بنی۔
مولانا احمد بيگ ناندیڑ
۲۰ ویں صدی کے شروع سے ہی ہندوستان میں سیاسی بیداری کا آغاز ہو چکا تھا۔ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہُوا۔اس وقت ہندوستان میں 500 سے زیادہ شاہی ریاستیں تھیں،جن میں سے ہر ایک کی اپنی زبان،اپنی ثقافت،اپنی تہذیب تھی۔اُس وقت اِن سب کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا بہت ہی مشکل تھا،کیوں کہ تمام بادشاہ اپنی ریاستوں، اپنی زمینوں،اپنی زبان اور اپنی ثقافت کی حفاظت میں مصروف تھے۔کیوں کے علاقہ کی پہچان اس کی روایت، ثقافت اور زبان سے ہوتی ہے۔مہاراشٹر ریاست اس کی بہترین مثال ہے۔ یہ ایک طویل جدو جہد، بہت سی قربانیوں،اور مراٹھی زبان کا ثمرہ ہے۔مہاراشٹر کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی ریاست کے لیے متحد ہو جاتا ہے تو تاریخ کا دھارا ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔آزادی کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت کے نام پر الگ ریاستوں کا مطالبہ کیا۔اس وقت مہاراشٹر کے مراٹھی بولنے والوں نے بھی اپنی زبان اور تہذیب کے نام پر الگ ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ایک علیحدہ مراٹھی ریاست کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تاکہ ان کی تہذیب اور زبان کی حفاظت کی جا سکے۔ 1916 کی ہوم رول لیگ کی تحریک ہو یا 1928 کی نہرو رپورٹ،ان سب نے زبان کے نام پر ریاستوں کے قیام کا ذکر کیا۔یہ خیال محض ریاستیں قائم کرنا نہیں تھا،بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مقصد یہ تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لوگ اپنی زبان،اپنی روایت اور اپنی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔مراٹھی لوگ، مراٹھی شاعروں، دانشوروں،اور ادیبوں نے اسی کو مسئلہ بنایا اور ایک تحریک چلائی عوامی میٹنگیں، سڑکوں پر ریلیاں،اور صحافتی مضامین سبھی مراٹھی ریاست کے مطالبے کا مرکزی نقطہ بن گئے، جس نے "متحدہ مہاراشٹر تحریک" کو جنم دیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تحریک شروع ہو گئی۔دیہات، شہر اور قصبوں کے لوگ،امیر و غریب، پڑھے لکھے اور ناخواندہ،مرد و خواتین، مزدور، و مالک اور طالب علم سبھی اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ یہ ایک ایسی تحریک بن گئی جس میں قلم اور سڑک دونوں نے یکساں کردار ادا کیا۔ سب سے اہم مسئلہ بمبئی شہر کا تھا۔ بمبئی اُس وقت بھی بہت اہم شہر تھا اور آج بھی ہے۔ بمبئی ملک کا اقتصادی دارالحکومت ہے۔اس وقت کی ہندوستانی حکومت کے وزراء بمبئی شہر کو الگ رکھنا چاہتے تھے یا اُسے مراٹھی اور گجراتی زبان کے ساتھ ملا کر گجرات میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ لسانی طور پر دیکھا جائے تو بمبئی میں مراٹھی، گجراتی، اردو، ہندی اور راجستھانی بولی جاتی ہیں،ملک کے کونے کونے سے لوگ یہاں کاروبار کرنے آتے ہیں۔اس لیے اُس وقت ہندوستانی حکومت کے وزراء نے محسوس کیا کہ بمبئی کو کسی ایک ریاست کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔لیکن مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے بمبئی صرف ایک اقتصادی شہر نہیں تھا۔یہ ان کی زبان،ان کی ثقافت،اور اُن کی تاریخ کا دل تھا۔یہ وہ شہر ہے جہاں سے مراٹھی تھیٹر کو فروغ ملا۔ یہیں سے بڑی بڑی تحریکوں نے جنم لیا۔ یہیں سے بڑے کاروبار اور تجارت ملک بھر کے لوگوں کو بمبئی شہر سے جوڑتی تھی۔عوام نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ’’مہاراشٹر بمبئی کے بغیر ادھورا ہے۔‘‘ یہ مطالبہ محض جذباتی نہیں تھا۔یہ ان کی مراٹھی زبان ثقافت اور تاریخ کا حصہ تھا۔1950 میں یہ مطالبہ اور تحریک مزید تیز ہو گئی۔ 1953 میں ریاستوں کی حدود قائم کرنے کے لئے ایک کمیشن بنایا گیا، اگر چہ اس کمیشن نے زبان کی بنیاد پر ریاستوں کے قیام پر اتفاق کیا،لیکن بمبئی شہر کے حوالے سے کشیدگی بڑھ گئی۔1956 میں جب بھارتی حکومت نے بمبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی کوشش کی تو لوگوں میں مرکزی حکومت کے خلاف غصہ بڑھ گیا،1956 کی تحریک نے ایک نیا موڑ لیا اور اپنی تحریک کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ بمبئی کی سڑکیں نعروں سے گونج رہی تھیں،بڑے بڑے جلوس نکالے جا رہے تھے اور تحریک پُر امن تھی۔ تاہم پولیس نے اچانک مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔اس وقت بمبئی کے حالات کافی خراب ہو گئے تھے، پولیس کی فائرنگ میں 105 افراد مارے گئے تھے۔ یہ واقعہ اُس وقت نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا حادثہ تھا۔مرنےوالوں کی قربانیوں نے تحریک کو نئی قوت اور اخلاقی طاقت عطا کی۔اور ان کے خون نے اس تحریک کی جڑیں اور مضبوط کر دی،جیسے روکنا بھارتی حکومت کے لیے اب نا ممکن نظر آ رہا تھا۔اس واقعے کے بعد بمبئی کی تحریک میں، مزدور،کالج کے طلبہ، مراٹھی ادیب،مراٹھی شاعر اور عام لوگ سب ایک پلیٹ فارم پر آ گئے، سیاسی دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ حکومت ہند کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑی اور بمبئی کو مہاراشٹر کو دینا پڑا، بامبے ریاست کو تقسیم کر کے مراٹھی لوگوں کے لئے مہاراشٹر اور گجراتی لوگوں کے لئے گجرات بنایا گیا اِس طرح دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا،اور بمبئی کو مہاراشٹر کی دارالحکومت بنایا گیا۔1 مئی 1960 کو ریاست مہاراشٹر کا اعلان کیا گیا، یہ دن نہ صرف مہاراشٹر کا یوم تاسیس ہے بلکہ مہاراشٹر کی تشکیل اور بمبئی کو مہاراشٹر میں شامل کرنے کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے،ریاست مہاراشٹر کی تحریک سے جوڑنے والے،مہاراشٹر ریاست کے لئے احتجاجی مظاہرے کرنے والے، مہاراشٹر کے قیام کے لئے تحریکوں میں حصہ لینے والے اور اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی کامیابی کا دن ہے، یکم مئی ان سب کی کامیابی کا دن ہے،آج ہم اُن سب کو یومِ مہاراشٹر پر دِل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک بادی پیش کرتے ہیں۔ ہماری طرف سے مہاراشٹر دن مُبارک ہو۔ جئے مہاراشٹر۔
Comments
Post a Comment