علم کی روشنی یا عمل کی کمی؟ نسلِ نو کا اصل المیہ۔ معلومات کا سیلاب، عمل کی کمی قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری جائزہ - تحریر | عالیہ مبین (کرناٹک)


علم کی روشنی یا عمل کی کمی؟ نسلِ نو کا اصل المیہ۔ 
معلومات کا سیلاب، عمل کی کمی قرآن و سنت کی روشنی میں ایک فکری جائزہ
تحریر | عالیہ مبین (کرناٹک)

“موجودہ نسل کی بے حیائی” دراصل ایک علامت ہے، بیماری اس سے کہیں زیادہ گہری ہے—اور وہ ہے تربیت کی کمزوری، ترجیحات کی تبدیلی اور ماحول کا بگاڑ۔
قرآنِ کریم ہمیں واضح طور پر متوجہ کرتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"
(سورۃ التحریم: 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی بچوں کی تربیت کرنا ہے۔

آج کا المیہ: علم ہے، عمل نہیں
آج کا نوجوان دین کو جانتا ہے، اچھے برے کی پہچان رکھتا ہے، لیکن عمل کمزور ہے۔
اس بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يُسأل عن علمه ماذا عمل به"
(ترمذی)
ترجمہ: قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کے علم کے بارے میں یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس پر کتنا عمل کیا؟
یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ صرف علم کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل ہی اصل کامیابی ہے۔

والدین کی ذمہ داری — صرف سہولت نہیں، تربیت بھی
آج کے والدین بچوں کو ہر سہولت دیتے ہیں، مگر کردار سازی پیچھے رہ جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"كلكم راعٍ وكلكم مسؤول عن رعيته"
(بخاری، مسلم)
ترجمہ: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ذمہ دار ہیں—ان کی تعلیم کے بھی، اور ان کی تربیت کے بھی۔

بچوں کی تربیت حکمِ نبوی ﷺ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مُروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين"
(ابو داؤد)
ترجمہ: اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔
یہ صرف نماز کا حکم نہیں، بلکہ ایک اصول ہے کہ بچوں کو ابتدا ہی سے عمل کی عادت ڈالی جائے۔
بے حیائی کا بڑھنا — قرآن کی تنبیہ
قرآن خبردار کرتا ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ..."
(سورۃ النور: 19)
ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ بے حیائی کو معمولی سمجھنا یا اسے فروغ دینا کتنا خطرناک ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں حل
1. علم کے ساتھ عمل کی تربیت
قرآن بار بار "الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ" کی تاکید کرتا ہے—ایمان کے ساتھ عمل لازم ہے۔

2. گھر کو تربیت گاہ بنائیں
گھر میں نماز، قرآن اور اخلاقی ماحول کو فروغ دیں۔

3. عملی نمونہ بنیں
نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ سب سے بہترین مثال ہے۔

4. نرمی اور حکمت اختیار کریں
"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ" (النحل: 125)

5. دعا کو لازم پکڑیں
"رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي" (سورۃ ابراہیم: 40)

یاد رکھیے:
علم روشنی ہے، مگر عمل کے بغیر یہی روشنی اندھیرا بن سکتی ہے۔
تربیت وہ قوت ہے جو علم کو کردار میں بدل دیتی ہے۔

اگر والدین اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں،
تو یہی نسل—جو آج شکایت کا موضوع ہے—کل امت کا سرمایہ بن سکتی ہے۔

آخری پیغام:
“بچے ہمارے کہنے سے نہیں، ہمارے کرنے سے سیکھتے ہیں”
اور اگر والدین سنور جائیں، تو نسلیں خود بخود سنور جاتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔