بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ - (ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت)بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
بشیر بدر: جدید اردو غزل کے ایک عہدِ زریں کا خاتمہ -
(ایک چراغ اور بجھ گیا: اردو ادب کا عظیم خسارہ اور لازوال وراثت)
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
اردو غزل کے افق پر جو چراغ دہائیوں تک اپنی سادگی، معصومیت اور جذباتی حلاوت کے ساتھ فروزاں رہا، وہ بالآخر 28 مئی 2026ء کو ہمیشہ کے لیے گل ہو گیا۔ مایہ ناز اور عہد ساز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے فتح گڑھ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ "بشیر منزل" کے اسی گوشے میں اپنی آخری سانسیں لیں جہاں وہ کبھی مشاعروں کی بزم سجایا کرتے تھے۔ ان کی رحلت پر ان کی شریکِ حیات ڈاکٹر راحت بدر نے انتہائی رنجیدہ دل کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس الم ناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: "بشیر صاحب ہمیں چھوڑ گئے، دعاؤں کی درخواست ہے"۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی علمی و ادبی حلقوں میں رنج و ملال کی لہر دوڑ گئی۔
ممتاز نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری پیاری زبان اردو غریب تر ہو گئی ہے اور ایک انتہائی خوش الحان اور مدھر شاعر ہماری بزم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا ہے۔ اسی طرح نامور شاعرہ انجم بارابنکوی نے انہیں خراجِ اعتراف پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے پوری دنیا میں نئی غزل کی تحریک کے سب سے عظیم شاعر کو کھو دیا ہے جو غزل کو ایک نیا محاورہ اور منفرد قامت عطا کر گیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ جدید اردو غزل کے اس سنہری دور کا اختتام ہے جس نے غزل کو درباری تصنع سے نکال کر عام انسان کی دھڑکن بنا دیا تھا۔ ان کی غزلوں کا یہ شاہکار شعر آج ان کی رخصت پر ایک عالم کا نوحہ بن چکا ہے:
> اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
> نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو برطانوی بھارت کے متحدہ صوبے (موجودہ اتر پردیش) کے تاریخی اور ثقافتی شہر ایودھیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن ضلع فیض آباد کا موضع 'بکیا' (نزد ہنسور، امبیڈکر نگر) تھا۔ وہ سید محمد نظیر اور عالیہ بیگم کے چوتھے فرزند تھے۔ ان کے والد محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ کے معزز عہدے پر فائز تھے۔ بشیر بدر نے بچپن ہی سے غیر معمولی فکری بالیدگی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ پیدائشی طور پر ایک شعری جینیئس تھے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے محض سات برس کی ننھی عمر میں اپنے سفرِ سخن کا آغاز کیا اور سنہ 1946ء میں، یعنی صرف گیارہ برس کی عمر میں، اپنی پہلی غزل کہی۔
جب وہ ابھی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے، تو ان کا کلام اس دور کے مایہ ناز نقاد نیاز فتح پوری کے ممتاز ادبی جریدے "نگار" (لکھنؤ) میں شائع ہوا، جس نے اٹاوہ کے علمی حلقوں میں ایک زبردست کھلبلی مچا دی تھی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم حلیم کالج، کانپور سے حاصل کی اور 1949ء میں اسلامیہ کالج، اٹاوہ سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ان کے والد کی علالت کے باعث تعلیمی سلسلے میں ایک عارضی تعطل آیا کیونکہ خاندان کی معاشی کفالت کی ذمہ داری ان کے جوان کندھوں پر آ پڑی تھی۔ تاہم علم کی سچی تڑپ نے انہیں دوبارہ کتابوں کی سمت موڑا اور انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انہوں نے بی اے، ایم اے اور بالاخر 1973ء میں "آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ" کے عنوان سے گراں قدر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ ان کی طالب علمی کے دور میں ہی ان کا کلام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی نصاب میں شامل ہو چکا تھا۔
اپنی تعلیمی بساط سمیٹنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی اردو کے لکچرار کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ میرٹھ منتقل ہو گئے اور وہاں کے مشہور میرٹھ کالج میں شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے تقریباً 17 برس تک گراں قدر علمی و تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی یکساں دسترس رکھتے تھے جس نے ان کے فکری کینوس کو کثیر الجہتی وسعت عطا کی۔ عام سوانحی خاکوں میں ان کی نجی زندگی کا یہ گوشہ اکثر تشنہ یا غیر مستند ملتا ہے کہ ان کی شادی نوجوانی میں ہی ان کے والد کی زندگی کے دوران ان کی چچازاد بہن قمر جہاں سے ہو چکی تھی، جن سے ان کے ہاں نصرت بدر اور صبا واحد پیدا ہوئے۔
مئی 1984ء میں جب وہ ایک مشاعرے کے سلسلے میں پاکستان کے دورے پر تھے، تو پیچھے میرٹھ میں ان کی شریکِ حیات قمر جہاں کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کڑے وقت میں ان کے محلے کے غیر مسلم پڑوسیوں نے ہی ان کی تدفین کے تمام فرائض انجام دیے تھے۔ اس اندوہناک صدمے نے ان کی روح کو اندر سے چھلنی کر دیا۔ بعد ازاں، 1986ء میں انہوں نے بھوپال کی ڈاکٹر راحت سلطان سے عقدِ ثانی کیا جنہوں نے ان کی بکھری ہوئی زندگی اور ادبی تخلیق نو میں ایک مضبوط اور ہمدرد سہارے کا کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کا سب سے بڑا تخلیقی کارنامہ غزل کی کلاسیکی اور روایتی لغت میں ایک اچھوتا اور انقلابی روزمرہ داخل کرنا تھا۔ انہوں نے غزل کو میر تقی میر جیسی سادہ نغمگی اور فکری ارضیت عطا کی جس نے جدید غزل کو ایک نئی حیات بخشی۔ انہوں نے روایتی مضامین اور نظریاتی حصار سے آزاد ہو کر شہری زندگی کی منافقتوں، مادی تہذیب کے مشینی رویوں اور عام انسان کے سچے جذباتی رشتوں کو اپنے اشعار کا موضوع بنایا۔ ان کے یہاں ایسی اچھوتی لفظیات اور پیکر تراشی ملتی ہے جو ان سے پہلے غزل میں اجنبی سمجھی جاتی تھی۔ وہ شہری زندگی کی بے حسی اور مشینی عہد کا رونا اتنے تخلیقی پیرائے میں روتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے کہ ریل کی پٹری پر میری شہرت رکھ دی، بس کے پہیوں سے روزی روٹی باندھی۔ اسی طرح روزمرہ کے مادی پہناووں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ زعفرانی پلوور اسی کا حصہ ہے، کوئی جو دوسرا پہنے تو دوسرا ہی لگے گا۔ مادی عمارتوں اور انسانوں کے سیلاب کی عکاسی کرتا ہوا ان کا یہ شعر ان کے عصری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بلڈنگیں لوگ نہیں ہیں جو کبھی بھاگ سکیں، روز انسان کو سیلاب بڑھا جاتا ہے۔
ممتاز نقاد گوپی چند نارنگ نے ان کی اسی دھرتی سے جڑی حسیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بشیر بدر نے شاعری میں نئی بستیاں آباد کی ہیں، ان کی شاعری وہ خوشبو ہے جو ہمارا رشتہ آریائی مزاج سے، ہماری دھرتی سے، گنگ و جمن کی وادی اور تمام مقامی بولیوں سے جوڑتی ہے۔ جبکہ ندا فاضلی نے ان کے منفرد لہجے کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ بشیر بدر کی آواز دور سے پہچانی جاتی ہے اور یہ کسی بھی شاعر کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔
ان کی پُر وقار ادبی زندگی کا سب سے المناک موڑ اپریل 1987ء میں میرٹھ کے ہولناک فرقہ وارانہ فسادات تھے۔ ان دنگوں کے دوران شرپسندوں نے ان کا ہنستا بستتا گھر اور نایاب کتابوں سے سجا کتب خانہ لوٹ کر نذرِ آتش کر دیا۔ اس اندھی نادانی کی آگ میں ان کا زندگی بھر کا مادی سرمایہ اور سب سے بڑھ کر ان کی بے شمار غیر مطبوعہ غزلیں اور ادبی مسودات ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ اس قیامت خیز واقعے نے امن اور انسانیت کے اس سفیر کو شدید مایوسی اور ڈپریشن کے اندھیروں میں دھکیل دیا اور وہ طویل عرصے تک گوشہ نشینی کا شکار رہے۔ اس کربِ مسلسل کے بعد ان کے قلم سے یہ سدا بہار شعر نکلا جو فسادات کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی نوحہ مانا جاتا ہے:
> لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
> تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
اس سانحے کے بعد ان کا دل میرٹھ سے بالکل اچاٹ ہو گیا اور انہوں نے دوستوں کے اصرار پر بھوپال کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ان کی تصانیف میں تنوع کا ایک سمندر موجزن ہے جس میں "اکائی"، "امیج" (1993ء)، "آمد" (1994ء)، "آہٹ" (2009ء) اور "آسمان" شامل ہیں۔ ان کا سب سے معرکہ آرا شعری مجموعہ "آس" ہے جو 1993ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کی غیر معمولی ادبی حیثیت کے اعتراف میں حکومتِ بھارت کی جانب سے انہیں 1999ء میں ملک کے چوتھے بڑے سول اعزاز "پدم شری"سے نوازا گیا اور اسی سال 1999ء میں ان کے مجموعے "آس" پر انہیں بھارت کا سب سے باوقار ادبی انعام "ساہتیہ اکادمی ایوارڈ" دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے چار مرتبہ اور بہار اردو اکادمی کی طرف سے بھی گراں قدر انعامات سے سرفراز کیا گیا۔ پاکستان سے ان کی غزلوں کا جامع کلام "کلیاتِ بشیر بدر" کے عنوان سے شائع ہوا جو سرحد پار بھی ان کی بے پناہ مقبولیت کی گواہی دیتا ہے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کا اثر صرف ادبی گوشوں تک محدود نہ تھا بلکہ وہ عوامی ثقافت اور سیاسی حلقوں کے سب سے پسندیدہ شاعر تھے۔ ان کے اشعار کو برصغیر کے رہنماؤں نے سفارتی اور سیاسی مذاکرات میں کثرت سے استعمال کیا۔ 1972ء میں شملہ معاہدے کے تاریخی موقع پر جب پاک و بھارت کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو بشیر بدر کا یہ تاریخی شعر سرحدوں کے پار محبت کا پیغام بن کر گونجا تھا جسے زمرہ بندیوں سے بالاتر ہو کر دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے کمالِ فہم کے ساتھ دہرایا:
> دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
> جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
عوامی زندگی میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ پبلک سروس براڈکاسٹر 'وِودھ بھارتی' کے مشہور ریڈیو شو "اجالے اپنی یادوں کے" کا عنوان بھی ان کے اسی لافانی شعر سے مستعار لیا گیا ہے۔ بالی ووڈ کی فلموں اور نوجوان نسل کے فکری حلقوں میں بھی ان کی غزلوں کو کمالِ احترام کے ساتھ گایا اور پڑھا گیا ہے۔ ان کی وراثت ان کے صاحبزادے نصرت بدر کی شکل میں فلمی دنیا تک پہنچی جو خود ایک نامور نغمہ نگار تھے اور انہوں نے فلم 'دیوداس' کے مشہور گیت "ڈولا رے ڈولا" پر فلم فیئر کی نامزدگی حاصل کی تھی۔ نصرت بدر نے اپنے طویل سفر میں 100 سے زائد فلموں کے لیے تقریباً 800 گیت لکھے۔ تاہم، 24 جنوری 2020ء کو نصرت بدر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ جوان سال بیٹے کی موت کے صدمے نے ضعیف العمر بشیر بدر کی ذہنی اور جسمانی کمر توڑ کر رکھ دی اور ان کی بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا۔
اپنی زندگی کی آخری دو دہائیوں میں ڈاکٹر بشیر بدر ایک خاموش اور تنہا دنیا میں قید ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ الزائمراور شدید ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے جس کے باعث وہ اپنی شاندار مقبولیت، مشاعروں اور یہاں تک کہ اپنی لازوال شاعری کو بھی یکسر فراموش کر چکے تھے۔ یہ تقدیر کا کیسا ستم ظریف المیہ تھا کہ جس شخص نے دنیا کو اپنی یادوں کے اجالے ساتھ رکھنے کی فہمائش کی تھی، وہ خود اپنی زندگی کی شام آنے سے پہلے اپنے ماضی کی تمام یادوں کے اندھیرے میں کھو گیا تھا۔ بیماری کے سبب وہ عوامی مشاعروں سے بالکل کٹ گئے تھے، تاہم ان کی بیگم راحت بدر نے ان کا مثالی خیال رکھا۔
یادداشت کے مکمل زوال کے باوجود ان کی درویشانہ معصومیت اور مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ جو کوئی بھی ان کی عیادت کے لیے پہنچتا، وہ خود اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر ان کا تپاک سے استقبال کرتے، اگرچہ وہ یہ بھول چکے ہوتے تھے کہ ان کے سامنے کھڑا شخص کون ہے۔ بالاخر 28 مئی 2026ء کو یہ عظیم تخلیق کار یادوں کی بزم کو سوگوار چھوڑ کر عدم کی بے کراں گلیوں کا مسافر بن گیا۔ بشیر بدر کا انتقال بلا شبہ اردو ادب کا ایک ایسا عظیم خسارہ ہے جس کا خلا کبھی پُر نہ ہو سکے گا۔ ان کی سچی اور مٹی کی سوندھی خوشبو سے گندھی غزلیں جب تک پڑھی اور گائی جائیں گی، ان کی یادوں کے اجالے دنیائے ادب کو منور کرتے رہیں گے۔
Comments
Post a Comment