خاندانی نظام کا بحران اور جدید معاشرہ۔ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔


خاندانی نظام کا بحران اور جدید معاشرہ۔
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔

انسانی تہذیب کی پوری تاریخ پر اگر گہری نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت نہایت نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ دنیا کی ہر مضبوط قوم، ہر پائیدار تہذیب اور ہر مستحکم معاشرے کی بنیاد کسی نہ کسی مضبوط خاندانی نظام پر قائم رہی ہے۔ خاندان صرف چند افراد کے ایک چھت تلے جمع ہو جانے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی پہلی درسگاہ، پہلی عدالت، پہلا معاشرہ، پہلی معیشت اور پہلی اخلاقی تربیت گاہ ہے۔ انسان دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے خاندان ہی کی آغوش میں محبت، احترام، قربانی، ایثار، ادب، غیرت اور ذمہ داری کا شعور سیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک خاندان مضبوط رہا، معاشرے میں توازن، صبر، وفاداری، احترام اور اجتماعی احساس باقی رہا، مگر جیسے ہی جدید مادّی تہذیب نے فرد کو خاندان سے بڑا اور خواہش کو ذمہ داری سے مقدم بنا دیا، ویسے ہی خاندانی نظام کی جڑیں کمزور ہونا شروع ہو گئیں۔ آج جدید معاشرہ بظاہر ترقی، آزادی، حقوق اور سہولیات کے نعروں سے جگمگا رہا ہے، مگر اس چمکتی ہوئی سطح کے نیچے ایک خوفناک تنہائی، جذباتی ٹوٹ پھوٹ، نفسیاتی بے سکونی اور رشتوں کی بکھرتی ہوئی لاشیں دفن ہیں۔ ماں باپ زندہ ہیں مگر اولاد سے کٹے ہوئے، اولاد موجود ہے مگر تربیت سے محروم، میاں بیوی ایک گھر میں رہتے ہیں مگر دلوں کے درمیان میلوں کی دوری ہے۔ انسان نے بڑی بڑی عمارتیں تو بنا لیں مگر اپنے گھر کا سکون کھو دیا، بے شمار رابطے پیدا کر لیے مگر رشتوں کی حرارت کھو دی، اور یہی جدید معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ترقی کے نام پر اس نے انسان سے اس کا خاندانی وجود چھین لیا.
جدید معاشرے میں خاندانی نظام کے بحران کی سب سے بڑی وجہ فردیت پرستی اور مادّی آزادی کا وہ فلسفہ ہے جس نے انسان کو صرف “میں” تک محدود کر دیا ہے۔ پہلے انسان اپنی ذات کو خاندان کے اندر دیکھتا تھا، اب خاندان کو اپنی ذات کے اندر دیکھنا چاہتا ہے۔ پہلے قربانی رشتوں کو زندہ رکھتی تھی، اب خواہش رشتوں پر حاکم ہے۔ شوہر بیوی کو ذمہ داری کے بجائے سہولت سمجھنے لگا ہے، بیوی شوہر کو رفاقت کے بجائے ذاتی آزادی کی رکاوٹ محسوس کرنے لگی ہے، اولاد والدین کو بوجھ سمجھنے لگی ہے، اور والدین اولاد کو صرف مستقبل کی سرمایہ کاری۔ یہی وجہ ہے کہ گھر اب تربیت گاہ کے بجائے عارضی رہائش گاہ بنتے جا رہے ہیں۔ مغربی معاشروں میں صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شادی ایک مستقل رشتہ نہیں بلکہ وقتی معاہدہ بن گئی ہے، جبکہ مشرقی معاشرے بھی اسی طوفان کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، تنہائی کا بڑھتا ہوا رجحان، ناجائز تعلقات کی کثرت، اور نفسیاتی امراض کا پھیلاؤ دراصل اسی ٹوٹتے ہوئے خاندانی نظام کی علامتیں ہیں۔ جدید تہذیب نے عورت کو آزادی دی مگر سکون نہیں، مرد کو طاقت دی مگر اطمینان نہیں، اور بچوں کو سہولیات دیں مگر تربیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ مگر اندر سے شدید کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔
اس بحران کو مزید خطرناک بنانے میں ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا نے بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد جسمانی طور پر قریب مگر روحانی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ ماں موبائل میں مصروف، باپ معاشی دوڑ میں گم، بچے مصنوعی دنیا کے اسیر، اور پورا گھر خاموش اسکرینوں کا قیدی بن چکا ہے۔ گفتگو ختم ہو رہی ہے، مشورہ ختم ہو رہا ہے، اجتماعی بیٹھکیں ختم ہو رہی ہیں، اور سب سے بڑھ کر برداشت ختم ہو رہی ہے۔ پہلے خاندان اختلافات کے باوجود قائم رہتے تھے کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو وقت دیتے تھے، اب تعلقات معمولی مزاجی فرق پر ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ لوگوں کے پاس رشتہ نبھانے کا صبر باقی نہیں رہا۔ سوشل میڈیا نے انسان کو موازنہ سکھایا، قناعت چھین لی، خواہشات بڑھا دیں اور مصنوعی زندگی کو حقیقی سکون پر ترجیح دے دی۔ اب لوگ رشتہ بنانے سے زیادہ اس کی نمائش میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ محبت کم اور تاثر زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں کے اندر خاموشی بڑھ رہی ہے، مگر موبائل کی اسکرینیں روشن ہیں؛ دل ویران ہو رہے ہیں مگر تصویریں مسکراتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔خاندانی نظام کے بحران کا ایک نہایت خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب تربیت کا مرکز والدین کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا، انٹرنیٹ اور بازار کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔ پہلے بچہ ماں کی گود سے اخلاق سیکھتا تھا، باپ کی مجلس سے غیرت سیکھتا تھا، بزرگوں کی صحبت سے صبر سیکھتا تھا، مگر اب وہ کردار موبائل، فلموں، ڈراموں اور مصنوعی مشاہیر نے سنبھال لیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل کے نزدیک آزادی، بے قیدی کا نام بن گئی؛ محبت، خواہش کا نام بن گئی؛ اور کامیابی، صرف دولت و شہرت تک محدود ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر حکمت نہیں، تعلقات بہت ہیں مگر اخلاص نہیں، خواہشات بہت ہیں مگر ضبط نہیں۔ جدید معاشرہ انسان کو یہ تو سکھا رہا ہے کہ “اپنے لیے کیسے جیا جائے”، مگر یہ نہیں سکھا رہا کہ “دوسروں کے ساتھ کیسے جیا جائے”۔ حالانکہ خاندان صرف محبت سے نہیں چلتا بلکہ برداشت، ایثار، خاموش قربانی، اور خود کو پیچھے رکھنے کے جذبے سے چلتا ہے۔ جب یہ صفات کمزور ہو جائیں تو گھر عمارت تو رہ جاتا ہے مگر خاندان نہیں رہتا۔اس تمام بحران کا حل محض قوانین، نعروں یا وقتی اصلاحی مہمات میں نہیں بلکہ فکر کی اصلاح اور خاندانی شعور کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان دوبارہ یہ نہیں سمجھے گا کہ خاندان صرف معاشرتی ضرورت نہیں بلکہ انسانی بقا کی بنیاد ہے، اس وقت تک یہ بحران بڑھتا ہی رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کو دوبارہ تربیت گاہ بنایا جائے، رشتوں کو وقتی جذبات کے بجائے مستقل ذمہ داری سمجھا جائے، اولاد کو صرف تعلیم نہیں بلکہ اخلاق بھی دیے جائیں، اور آزادی کو حدود و ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جائے۔ جدید معاشرے نے انسان کو “آزاد فرد” تو بنا دیا، مگر “پرسکون انسان” نہ بنا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ جتنی ترقی بڑھ رہی ہے اتنی ہی بے سکونی بھی بڑھ رہی ہے۔ اگر خاندان کمزور ہو گیا تو معاشرہ بکھر جائے گا، اور اگر معاشرہ بکھر گیا تو تہذیب اپنی تمام تر چمک کے باوجود اندر سے کھوکھلی ہو جائے گی۔ انسانیت کی بقا صرف معاشی ترقی، سیاسی طاقت یا تکنیکی ایجادات میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، متوازن اور باوقار خاندانی نظام میں پوشیدہ ہے؛ کیونکہ جب خاندان ٹوٹتا ہے تو صرف ایک گھر نہیں ٹوٹتا، پوری تہذیب کے ستون ہلنے لگتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔