اویسی کی اقلیتی سیاست: فریبِ نظر یا کارگر حکمتِ عملی؟(بھارتی مسلمانوں کی سیاسی الجھن اور ووٹ کی تقسیم)۔ از قلم: اسماء جبین فلک۔


اویسی کی اقلیتی سیاست: فریبِ نظر یا کارگر حکمتِ عملی؟
(بھارتی مسلمانوں کی سیاسی الجھن اور ووٹ کی تقسیم)
از قلم: اسماء جبین فلک۔

بھارت کی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے اور اسی تنوع کا سب سے کٹھن امتحان اقلیتی سیاست ہے، جو ووٹ کی دو دھاری تلوار پر کھڑی ہے۔ سوچ سمجھ کر چلائی جائے تو یہ تلوار مؤثر ثابت ہوتی ہے اور بے محل اٹھائی جائے تو اپنے ہی محافظوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے یہ امتحان گزشتہ کچھ عرصے میں ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے، جہاں آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (AIMIM) کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے انفرادی اور خالص مسلم قیادت کا بیانیہ پیش کر کے سیاسی الجھن کو مزید گہرا کر دیا۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14.2 فیصد ہے۔ سیاسیات کے ماہر مورس ڈوورجر کے قانون (Maurice Duverger's Law) کے مطابق، فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (First-past-the-post) کے انتخابی نظام میں چھوٹی جماعتوں کو ووٹ ضائع ہونے کے خوف سے عموماً نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دو بڑی جماعتوں یا اتحادوں کا غلبہ قائم ہو جاتا ہے۔ اسی تاریخی اور شماریاتی حقیقت کے پیشِ نظر اقلیتوں نے عموماً وسیع تر جمہوری اتحادوں کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دی ہے۔
مغربی بنگال کے 2026 اسمبلی انتخابات میں یہ سیاسی کشمکش اپنے عروج پر نظر آئی، جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کا تناسب تقریباً 27 فیصد ہے۔ انتخابات سے قبل مجلسِ اتحاد المسلمین نے عام جنتا انّین پارٹی (AJUP) کے رہنما ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا تاکہ ترنمول کانگریس (TMC) کے متبادل کے طور پر مسلم ووٹروں کو راغب کیا جا سکے۔ تاہم، 10 اپریل 2026 کو ترنمول کانگریس کی جانب سے ہمایوں کبیر کا ایک مبینہ اسٹنگ آپریشن منظرِ عام پر لایا گیا، جس نے اس سیاسی بساط کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس ویڈیو میں ہمایوں کبیر کو مبینہ طور پر بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں، بشمول شبھیندو ادھیکاری اور آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما، سے رابطوں اور 1000 کروڑ روپے کی ڈیل پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا، جس کا بظاہر مقصد ٹی ایم سی کو اقتدار سے ہٹانا اور ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے بی جے پی کو بالواسطہ فائدہ پہنچانا تھا۔ اگرچہ اس ویڈیو کے فوراً بعد اویسی نے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا، لیکن اس واقعے نے مسلم ووٹروں میں شدید انتشار پیدا کیا۔ ووٹوں کی اس تقسیم، ہمایوں کبیر فیکٹر اور ترنمول کانگریس کی کمزوری کا حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ 2026 کے انتخابات میں بی جے پی نے بھاری اکثریت، تقریباً 206 نشستیں، کے ساتھ مغربی بنگال میں پہلی بار حکومت بنا لی، جبکہ ٹی ایم سی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور مجلس خود کوئی نشست حاصل نہ کر سکی۔
یہی سیاسی الجھن اتر پردیش کے انتخابی میدان میں بھی دیکھی گئی، جہاں 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی تقریباً 19.3 فیصد یعنی 3.85 کروڑ سے زائد ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں مجلس نے 38 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، مگر تقریباً سب کی ضمانتیں ضبط ہوئیں اور مجموعی ووٹ شیئر محض 0.2 فیصد کے قریب رہا۔ 2022 کے انتخابات میں پارٹی نے تقریباً 100 نشستوں پر قسمت آزمائی، لیکن نتیجہ مزید مایوس کن رہا؛ 99 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں، کوئی نشست نہ مل سکی، اور ووٹ شیئر بمشکل 0.47 فیصد رہا۔ اس کے برعکس، ریاست کے مسلم ووٹروں کی بھاری اکثریت نے سماج وادی پارٹی اور اس کے اتحاد کو ترجیح دی، جس نے مجموعی طور پر تقریباً 36.6 فیصد ووٹ حاصل کیے، حالانکہ بی جے پی کے زیرِ قیادت این ڈی اے 43.8 فیصد ووٹوں کے ساتھ اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ قبل ازیں، 2012 میں سماج وادی پارٹی کی واضح کامیابی بھی اقلیتی اور یادو ووٹروں کے مضبوط اتحاد کا نتیجہ تھی۔ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اتر پردیش میں مجلس کی انفرادی سیاسی پرواز اقلیتی ووٹروں کا وسیع اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بہار میں مجلس کی کارکردگی قدرے مختلف رہی، مگر اس کے اثرات بھی وسیع تر سیکولر اتحاد کے لیے چیلنج بنے۔ بہار میں مسلمانوں کا تناسب 16.87 فیصد ہے۔ 2020 کے انتخابات میں مجلس نے سیمانچل کے علاقے میں 5 نشستیں جیت کر حیران کن کامیابی حاصل کی، لیکن 2022 تک ان میں سے چار ارکانِ اسمبلی راشٹریہ جنتا دل (RJD) میں شامل ہو گئے۔ 2025 کے حالیہ بہار انتخابات میں پارٹی نے ایک بار پھر سیمانچل میں 5 کے قریب نشستیں حاصل کیں، لیکن انتخابی تجزیوں کے مطابق، اس کی موجودگی نے مہاگٹھ بندھن کے ووٹ بینک کو تقسیم کیا، جس کا بڑا سیاسی فائدہ این ڈی اے کو پہنچا اور وہ ریاست میں شاندار کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب، آسام کی سیاسی تاریخ نے ایک مختلف اور کامیاب حکمتِ عملی کی مثال پیش کی۔ آسام، جہاں مسلمانوں کی آبادی 2011 کے مطابق 34 فیصد سے زائد ہے، میں مولانا بدر الدین اجمل کی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) نے 2016 میں تنہا 73 نشستوں پر الیکشن لڑ کر صرف 13 نشستیں جیتی تھیں۔ لیکن 2021 میں جب پارٹی نے کانگریس کے ساتھ باضابطہ اتحاد کیا، تو اس نے محض 20 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور 16 نشستیں جیت کر 80 فیصد کا شاندار اسٹرائیک ریٹ (Strike Rate) حاصل کیا۔ آسام کی اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ اس انتخابی نظام میں شراکت داری تنہا پرواز سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ہوتی ہے۔
تاریخی شواہد بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی سیاسی نمائندگی وسیع تر قومی یا ریاستی جماعتوں کے ساتھ جڑ کر ہی مؤثر ترین رہی ہے۔ آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد، ملک کے پہلے مسلم صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ غلام نبی آزاد، مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ عبدالرحمٰن انتولے، اور آسام کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ سیدہ انورہ تیمور جیسی شخصیات کا ابھرنا اسی شراکتی سیاست کے ثمرات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اسد الدین اویسی کی پارٹی تلنگانہ میں اسی عملیت پسندی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 119 نشستوں پر مشتمل تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کا اثر و رسوخ حیدرآباد شہر کی 7 نشستوں تک محدود ہے، جہاں اس نے 2018 اور 2023 کے انتخابات میں مسلسل یہ سات نشستیں برقرار رکھی ہیں۔ اس تسلسل کے پیچھے تلنگانہ راشٹرا سمیتی، موجودہ بی آر ایس، یا کانگریس جیسی اکثریتی اور حکمران جماعتوں کے ساتھ ان کی مفاہمت اور اسٹریٹجک شراکت داری کا بڑا ہاتھ رہا ہے، جس کی بدولت انہیں مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کے لیے معاونت ملتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شراکت داری حیدرآباد میں سیاسی دانشمندی سمجھی جاتی ہے، اسے اتر پردیش، بنگال یا بہار میں سیاسی سمجھوتہ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
گزشتہ کئی انتخابات کے شماریاتی رجحانات اور سیاسی واقعات ایک اہم سبق دیتے ہیں کہ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام میں کسی بھی 14 سے 20 فیصد آبادی والی کمیونٹی کے لیے خالصتاً اپنی انفرادی شناخت پر مبنی سیاسی جماعت کے ذریعے وسیع سطح پر اقتدار پر اثر انداز ہونا انتہائی کٹھن ہے۔ ہمایوں کبیر کے اسٹنگ آپریشن اور بہار 2025 میں مہاگٹھ بندھن کے نقصانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جب تک اقلیتی ووٹ کو وسیع تر جمہوری اتحاد کا حصہ نہ بنایا جائے، ووٹوں کی تقسیم کا براہِ راست فائدہ اکثریتی سیاست کرنے والی جماعتوں کو پہنچتا ہے۔ اقلیتی سیاست کا پائیدار راستہ تنہائی اور انفرادی طاقت کے سراب میں نہیں، بلکہ سیاسی شعور کے ساتھ ایسے مستحکم جمہوری اتحادوں کی تشکیل میں مضمر ہے، جہاں اقلیتیں بی جے پی جیسی سخت گیر قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملکی اور ریاستی سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور حصہ دار بن سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔