ہارمون اور احساسات (انشائیہ)از قلم محمود علی۔
ہارمون اور احساسات (انشائیہ)
از قلم محمود علی۔
8055402819
انسان اپنے آپ کو جتنا عقل مند سمجھتا ہے، اتنا وہ ہے نہیں۔ویسے اتنا بے وقوف بھی نہیں
وہ اکثر یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے فیصلے، اس کی رنج غم مایوسی اس کی خوشیاں اور اداسیاں سب اُس کے شعور کی پیداوار ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کے باطن میں ایک خاموش کیمیا مسلسل کام کرتی رہتی ہے۔ یہی کیمیا کبھی آنکھوں میں روشنی اور چمک پیدا کرتی ہے اور کبھی دل کو بے وجہ بوجھل کر دیتی ہے۔ ہم اسے سادہ لفظوں میں “ہارمون” کہتے ہیں۔
Hormones are the body's chemical messengers. Produced by various glands, they travel through the bloodstream to specific organs and tissues, telling them exactly what to do and when. They control vital functions like growth, metabolism, and mood
انسانی جسم محض گوشت پوست کا ڈھانچا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ کائنات ہے، جہاں ہزاروں پیغامات خون کے راستے سفر کرتے رہتے ہیں۔ یہی ہارمون انسان کے مزاج کیفیت نیند غصے خوف محبت اور یہاں تک کہ عبادت کے ذوق تک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اپ نے Thyriod بیماری کا نام سنا ہوگا یہ بھی ہاموں کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے
کبھی آدمی معمولی بات پر ٹوٹ جاتا ہے اور کبھی بڑے سے بڑا صدمہ خاموشی سے برداشت کر لیتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ یہ اس کی مضبوطی یا کمزوری ہے مگر پس منظر میں شاید کسی ہارمون کی کمی یا زیادتی خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
جدید دور نے انسان کو مشینوں کے قریب اور فطرت سے دور کر دیا ہے۔ رات بھر جگنے والا انسان موبائل کی نیلی روشنی میں ڈوبا ہوا ذہن بے ترتیب غذا مسلسل ذہنی دباؤ اور مصنوعی طرزِ زندگی… یہ سب ہمارے جسم کے اندر اُس نازک توازن کو بگاڑ دیتے ہیں جس پر احساسات کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اور بغیر بلڈوزر سے گررتی بھی ہے
اسی لیے آج انسان کے پاس سہولتیں زیادہ ہیں مگر سکون کم ہے۔
وہ ہنستا بھی ہے تو اکثر اس کے اندر اداسی کا ایک خاموش کنواں موجود رہتا ہے۔
غصہ بھی محض اخلاقی مسئلہ نہیں، بعض اوقات جسمانی کیمیا کا اضطراب ہوتا ہے۔
خوف صرف بزدلی نہیں اعصاب کی تھکن بھی ہو سکتا ہے۔
بے خوابی صرف ایک عادت نہیں بلکہ ذہن اور جسم کے درمیان بگڑتی ہوئی مفاہمت کی علامت ہے۔
اسی طرح محبت بھی صرف شاعری نہیں۔ انسان کے اندر کچھ ہارمون ایسے ہیں جو قربت، اپنائیت اور تعلق کے احساس کو گہرا کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ اچانک کسی کے بغیر ادھورے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ کبھی کچھ لوگ کسی خوبصورت خاتون کو دیکھ کر پگھل جاتے ہیں اسکو کیمیائی لوچا کہا جا سکتا ہے لیکن بوڑھاپے میں عادت کی وجہ سے چپلوں کی کمپنیوں کے نام ازبر ہوجاتے ہیں ایسے بوڑھے لوگوں کو میں Old dimond کہتا ہوں ایسے لوگ اپ کو ہر گلی اور محلوں کی نکڑ پر مل جائینگے اس کا مطلب ہم گوشت خور لوگ ہیں یہ ہر گز نہیں
لیکن اس حقیقت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبورِ محض ہے۔
اگر ہارمون احساسات پر اثر انداز ہوتے ہیں تو انسان کا طرزِ زندگی بھی ہارمون پر اثر ڈالتا ہے۔ اچھی نیند، متوازن غذا، ورزش عبادت خاموشی فطرت سے قربت اور محبت بھرے رشتے انسان کے اندر ایک نئی کیمیا پیدا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سکون صرف دوا سے نہیں، کبھی کبھی دعا سے بھی آ جاتا ہے۔
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے اخلاق کا فیصلہ تو فوراً کر لیتے ہیں مگر اُن کے اندر چلنے والی خاموش جنگ کو نہیں دیکھتے۔
ہر چڑچڑا انسان بدتمیز نہیں ہوتا، ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا اور ہر اداس آدمی کمزور نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی انسان اپنے ہی جسم کے اندر برپا ایک غیر مرئی طوفان سے لڑ رہا ہوتا ہے۔
انسان کو سمجھنے کے لیے صرف اُس کے الفاظ نہیں اُس کی تھکن اُس کی نیند اُس کی خاموشی اور اُس کے اندر کی کیمیا کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
کیونکہ بعض اوقات دل وہی محسوس کرتا ہے جو جسم اُسے محسوس کروانا چاہتا ہے۔
ختم شد
Comments
Post a Comment