سوال صرف عوام سے ہی کیوں؟ - سید فاروق احمد قادری۔
سوال صرف عوام سے ہی کیوں؟ -
سید فاروق احمد قادری۔
2014 سے آج تک عوام کو صرف قربانی، صبر اور بچت کا درس دیا جا رہا ہے۔
کبھی نوٹ بندی…
کبھی جی ایس ٹی…
کبھی لاک ڈاؤن…
کبھی مہنگائی…
اور اب نئی اپیل:
سونا مت خریدو، پیٹرول کم استعمال کرو، بیرونِ ملک سفر بند کرو!
لیکن قوم آج سوال پوچھ رہی ہے —
نوٹ بندی سے کیا ملا؟
کالا دھن واپس آیا؟
ہر شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ آئے؟
دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار ملا؟
کسان خوشحال ہوا؟
غریب کا چولہا آسانی سے جلنے لگا؟
حقیقت یہ ہے کہ:
روپیہ کمزور ہوتا گیا،
ڈالر مضبوط ہوتا گیا،
مہنگائی آسمان چھوتی گئی،
بے روزگاری بڑھتی گئی،
اور عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی۔
کورونا کے وقت عوام نے قربانی دی۔
مزدور پیدل چلتے رہے،
چھوٹے کاروبار تباہ ہوئے،
نوجوان بے روزگار ہو گئے،
کسان قرض میں ڈوب گیا،
کتنوں نے خودکشی کی،
کتنے گھر برباد ہو گئے۔
لیکن حکومت آج بھی عوام کو ہی نصیحت دے رہی ہے:
“مزید بچت کرو… مزید قربانی دو…”
قوم پوچھ رہی ہے —
آخر حکمران کب قربانی دیں گے؟
ایم ایل اے، ایم پی، وزیروں کی مراعات کب کم ہوں گی؟
سرکاری فضول خرچی کب رکے گی؟
عوام کے ٹیکس کا پیسہ آخر کہاں جا رہا ہے؟
آج نوجوان ڈگری لے کر در بدر ہے،
کسان اپنی فصل کا صحیح دام مانگ رہا ہے،
اور غریب آدمی عزت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
عوام اب جاگ رہی ہے…
اور سوال پوچھ رہی ہے کہ ہمارے دیش کے وزیراعظم سے
“سب کا ساتھ، سب کا وکاس” آخر کہاں ہے؟
Comments
Post a Comment