بشیر بدر کے اعزاز میں تعزیتی نشست، بیجاپور میں شعرا و ادب نوازوں کا خراجِ عقیدت۔
بیجاپور، نمائندہ خصوصی: اردو ادب کے ممتاز، مقبول اور عہد ساز شاعر بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بزمِ سخنوران، بیجاپور کے زیر اہتمام ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں شہر کے ممتاز شعرا، ادبا اور ادب دوست احباب نے شرکت کی اور مرحوم کو منظوم و نثری خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اجلاس کی صدارت معروف شاعر محمود انعام دار محمود نے کی جبکہ آصف بالسنگ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر شہر کے منتخب شعرا جن میں محمود انعام دار محمودؔ، مومنؔ بیجاپوری، مجیب احمد مجیبؔ، رضوان احمد رضوانؔ اور ڈاکٹر عبدالستار عاجزؔ شامل تھے، نے بشیر بدر کی منتخب غزلیں اور اشعار پیش کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کو یاد کیا۔
صدرِ نشست محمود انعام دار محمودنے کہا کہ بشیر بدر نے جدید اردو غزل کو نئی جہت عطا کی اور اپنے منفرد اسلوب، سادہ مگر پُرتاثیر زبان اور انسانی جذبات کی ترجمانی کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں قارئین و سامعین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کی شاعری محبت، رواداری، انسان دوستی اور معاشرتی شعور کا حسین امتزاج تھی۔
رضوان احمد رضوان ؔ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم بشیر بدر کے انتقال کی خبر نے عیداکی خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایک طرف عید کی مسرت تھی تو دوسری جانب اردو ادب کے ایک درخشاں ستارے کے غروب ہونے کا صدمہ دل کو بے حد مغموم کر گیا۔ بشیر بدر جدید لب و لہجے کے نمائندہ شاعر تھے جن کی غزلیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔"
شعرا نے اس بات پر زور دیا کہ بشیر بدر کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ انسانی احساسات کی ایک مکمل داستان ہے۔ ان کے اشعار آج بھی زبانِ زدِ عام ہیں اور ہر طبقۂ فکر کے لوگ ان سے قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اردو ادب بشیر بدر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گا اور ان کی تخلیقات آنے والے زمانوں میں بھی ادب کے افق پر روشن رہیں گی۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔
Comments
Post a Comment