کوچنگ کلاسز — مافیا یا “تعلیم ”؟ ایک سنجیدہ سوال ہے - سید فاروق احمد قادری۔
کوچنگ کلاسز — مافیا یا “تعلیم ”؟ ایک سنجیدہ سوال ہے -
سید فاروق احمد قادری۔
آج کے دور میں کوچنگ کلاسز صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کی امید بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، افسر، ٹیچر اور مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے بے شمار نوجوان انہی کوچنگ اداروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں ہر کوچنگ کلاس کو “مافیا” کہنا کہاں تک درست ہے؟ یہ سوال سنجیدگی سے سوچنے کا ہے۔
اصل میں “مافیا” اُس طاقت یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو غیر قانونی طریقے سے عوام کا استحصال کرے، دھونس، بلیک مارکیٹنگ، خوف یا ناجائز کمائی کے ذریعے نظام پر قبضہ جما لے۔
جیسے:
• ریت مافیا
• گھٹکہ مافیا
• زمین مافیا
• منشیات مافیا
یہ وہ عناصر ہوتے ہیں جو قانون توڑتے ہیں اور معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
لیکن اگر کوئی کوچنگ کلاس محنت سے بچوں کو تعلیم دے رہی ہو، اساتذہ کو سے روزگار دے رہی ہو، کرائے، بجلی، اسٹاف اور انتظامی اخراجات اٹھا رہی ہو، تو اسے سیدھا “مافیا” کہنا انصاف نہیں ہوگا۔
ہاں، اگر کچھ ادارے ضرورت سے زیادہ فیس لیں، تعلیم کو صرف کاروبار بنا دیں، غریب طلبہ کا استحصال کریں یا غیر ضروری خوف پیدا کرکے والدین سے پیسے وصول کریں، تو اس پر تنقید ہونی چاہیے۔ مگر چند اداروں کی غلطیوں کی بنیاد پر پورے شعبے کو “مافیا” کہنا درست طرزِ فکر نہیں۔
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو کوچنگ کلاسز نے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار دیا ہے۔
• اساتذہ
• آفس اسٹاف
• کتابوں کی دکانیں
• ہاسٹل
• ٹرانسپورٹ
• اسٹیشنری کاروبار
یہ سب اسی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ ایک مکمل تعلیمی معیشت کا حصہ بن چکا ہے۔
سیاسی انداز میں دیکھا جائے تو اکثر اوقات “مافیا” کا لفظ جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی غصے کو ہوا دینے کے لیے ہر منظم شعبے کو “مافیا” کہنا آسان ہو گیا ہے۔ لیکن ذمہ دار قیادت وہی ہوتی ہے جو اصلاح کی بات کرے، نہ کہ پورے شعبے کو بدنام کرے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
• فیس میں شفافیت ہو
• غریب طلبہ کے لیے رعایت ہو
• حکومت بہتر سرکاری تعلیم فراہم کرے
• اور کوچنگ ادارے تعلیم کو خدمت بھی سمجھیں، صرف تجارت نہیں۔
کیونکہ تعلیم اگر صحیح ہاتھوں میں ہو تو قوم بنتی ہے،
اور اگر صرف الزام تراشی ہو تو نوجوانوں کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔
Comments
Post a Comment