مختلف ادوار میں گائے اور قربانی۔۔ از قلم : محمود علی لیکچرر ۔
مختلف ادوار میں گائے اور قربانی۔
از قلم : محمود علی لیکچرر ۔
گائے صدیوں سے انسانی تہذیب معیشت اور مذہبی روایات کا اہم حصہ رہی ہے۔ مختلف مذاہب اور ادوار میں اس کی حیثیت الگ الگ رہی کہیں اسے قربانی اور خوراک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تو کہیں تقدس اور احترام کی علامت سمجھا گیا۔ یہی تنوع انسانی تاریخ اور مذہبی فکر کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
قدیم تہذیبوں میں مویشی دولت اور رزق کی علامت تھے۔ قدیم بنی اسرائیل میں گائے اور بیل کی قربانی عبادت، شکرانے اور کفارے کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ توریت اور دیگر یہودی روایات میں اس کے واضح احکام ملتے ہیں بنی اسرائیل میں گائے کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔ قرآن مجید اور یہودی مذہبی روایات دونوں میں اس کے حوالے ملتے ہیں۔
سب سے مشہور واقعہ قران مقدس کی سورۂ البقرہ میں بیان ہوا ہے جہاں حضرت موسی نے بنی اسرائیل سے اللہ کے حکم پر ایک گائے ذبح کرنے کو کہا۔ اسی واقعے کی نسبت سے سورہ کا نام “البقرہ” رکھا گیا۔
اس واقعے میں:
بنی اسرائیل بار بار سوال کرتے رہے:
گائے کیسی ہو؟
اس کا رنگ کیا ہو؟
اس کی عمر کیا ہو؟
پھر آخرکار انہوں نے گائے ذبح کی۔
یہودی شریعت میں بھی قربانی کا نظام موجود تھا جس میں گائے بیل بکری
بھیڑ وغیرہ کی قربانیاں شامل تھیں، خاص طور پر قدیم زمانے میں First Temple اور بعد میں Second Temple کے دور میں۔
یہ قربانیاں عبادت
گناہوں کے کفارے
اور شکرانے کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔
بعد میں جب معبد (Temple) تباہ ہوگیا تو یہودی مذہبی زندگی میں قربانی کی جگہ زیادہ تر دعا، عبادت اور شریعت پر عمل نے لے لی قرآن کریم نے بھی سورۂ البقرہ میں بنی اسرائیل کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے جس میں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔
تاریخی اور ویدک مطالعوں کے مطابق قدیم ہندوستان کے بعض ادوار میں گائے سمیت مختلف جانوروں کا گوشت کھانے کے شواہد ملتے ہیں۔ خاص طور پر ابتدائی ویدک دور میں قربانی (یَجّیہ) کے موقع پر مویشی ذبح کیے جانے کے حوالے بعض سنسکرت متون میں موجود ہیں بعد کے زمانے میں ہندو مذہبی اور سماجی روایات میں گائے کو مقدس مقام حاصل ہوا اور گاؤ کشی و گائے کے گوشت سے اجتناب مضبوط ہوتا گیا
اس موضوع پر مؤرخین اور اسکالرز کے درمیان بحث بھی موجود ہے کیونکہ
مختلف ویدک متون کی تشریح الگ الگ کی جاتی ہے
ہندوستان کے مختلف علاقوں اور زمانوں میں روایات مختلف تھیں
بعد کے ہندو فلسفے خصوصاً اہنسا (عدمِ تشدد) نے گائے کے احترام کو بہت بڑھایا
اسلام میں قربانی کی اصل روح تقویٰ ایثار اور اللہ کی اطاعت ہے۔عید الضحیٰ کے موقع پر مسلمان اونٹ گائے بکری اور بھیڑ کی قربانی کرتے ہیں قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اللہ تک نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون بلکہ انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے
یہ حقیقت اہم ہے کہ مذاہب اور تہذیبیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں جو چیز ایک دور میں عام تھی ممکن ہے دوسرے دور میں مقدس یا ممنوع قرار پائے اس لیے تاریخ اور مذاہب کا مطالعہ تعصب کے بجائے تحقیق احترام اور مکالمے کے جذبے سے کرنا چاہیے مختلف عقائد کے ماننے والوں کے جذبات کا احترام ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
Comments
Post a Comment