غزل - ازقلم : اقبال آصف، بیجاپور ( کرناٹک )
غزل -
ازقلم : اقبال آصف، بیجاپور ( کرناٹک )
چل پڑا اس طرح میں کسی کی طرف
جیسے بارش کا پانی ندی کی طرف
گھپ اندھیروں میں جلتا دیا دیکھ کر
میں لپکتا گیا روشنی کی طرف
ہو کے مایوس جس سے نکل آیا تھا
مڑ کے دیکھا نہ پھر اس گلی کی طرف
اس کو دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہا
میں نے دیکھا نہیں پھر کسی کی طرف
حسب ِ وعدہ وہ آکر چلا بھی گیا
دیکھتا رہ گیا میں گھڑی کی طرف
اک سراپا غزل اس طرف لے گئی
دھیان میرا نہ تھا شاعری کی طرف
جاتے جاتے کسی آدمی نے کہا
آدمی ہے تو آ آدمی کی طرف
میں اِدھر جانب ِ موت بڑھتا ہوا
وہ اُدھر تھا رواں زندگی کی طرف
آگیا صرف آصف نشانے پہ میں
تیر پھینکے تھے اس نے کئی کی طرف
Comments
Post a Comment