بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل اور اس کا حل۔تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔
بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل اور اس کا حل۔
تحریر: نکہت انجم ناظم الدین۔
بچپن اور نوعمری زندگی کا نہایت حساس دور ہوتا ہے۔ اسی عمر میں فرد کی شخصیت، جذبات اور عادات تشکیل پاتی ہیں۔ اگر اس مرحلے میں بچے کو مناسب توجہ، اعتماد اور مثبت ماحول نہ ملے تو وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ موجودہ دور میں جدید ٹکنالوجی، تعلیمی دباؤ، معاشرتی مقابلے اور خاندانی مسائل نے بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔بچوں اور نو عمروں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل مندرجہ ذیل نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔
ذہنی دباؤ اور تعلیمی پریشانی:
آج کے دور میں بچوں پر تعلیمی دباؤ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ والدین اور اساتذہ اکثر بچوں سے غیر معمولی کامیابی کی توقع رکھتے ہیں۔ بچہ اول آئے، زیادہ نمبرات حاصل کرے اور ہر میدان میں نمایاں نظر آئے۔ بظاہر قابل قبول نظر آنے والی یہ بات اپنے آپ میں کئی خطرناک پہلو لیے ہوئے ہے۔ اسی سوچ نے بچوں سے ذہنی سکون چھین لیا ہے۔مسلسل امتحانات، ہوم ورک، کوچنگ کلاسز اور مقابلے کی فضا بچوں کو ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ بہت سے بچے ناکامی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر ان کے نمبر کم آجائیں تو وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی کیفیت ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو جنم دیتی ہے۔یہ ایسی کیفیت ہے کہ جو بچہ اچھا پرفارم کرسکتا تھا اس دباؤ کے چلتے اسکی وہ کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور وہ خود پر سے اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔
احساسِ کمتری اور خود اعتمادی کی کمی:
بچوں کا اوروں سے موازنہ کرنا ایک خطرناک رویّہ ہے۔ بعض والدین ہر وقت اپنے بچوں کو دوسروں سے کم تر ثابت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں بچہ زیادہ ذہین، خوبصورت یا کامیاب ہے۔ ایسے جملے بچوں کے دل و دماغ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔جب بچے کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے کم ہے تو اس کی خود اعتمادی ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ہر کام میں خوف محسوس کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتا ہے۔ ہم آئے دن اس رویے کے برے نتائج کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اسکے باوجود بچوں کے ساتھ یہ رویہ اپنایا جارہا ہے جو کافی فکرمندی کی بات ہے۔
ڈپریشن اور ذہنی بے سکونی:
ڈپریشن اب صرف بڑوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ بچے اور نوعمر بھی اس کا شکار ہورہے ہیں۔ اداس رہنا، خاموش رہنا، لوگوں سے دوری اختیار کرنا، کسی کام میں دلچسپی نہ لینا اور مایوسی محسوس کرنا ڈپریشن کی علامات ہیں۔بعض بچے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے۔ وہ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔ اگر ان کے مسائل کو سمجھا نہ جائے تو یہ کیفیت شدید ذہنی بیماری کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
تنہائی اور عدمِ تحفظ:
والدین کی مصروفیات اور خاندانی دوریوں نے بچوں میں تنہائی کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ بہت سے بچے اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے موبائل فون یا انٹرنیٹ میں مصروف رہتے ہیں۔جب بچے کو اپنی بات سننے والا کوئی نہ ملے تو وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ خاندانی جھگڑے، سخت رویّے اور محبت کی کمی بچوں میں عدمِ تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے بچے خوف زدہ اور ذہنی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جب بچہ والدین اور افراد خانہ سے کمفرٹیبل نہیں ہوتا ہے تو اس پر باہر کے افراد حاوی ہوجاتے ہیں۔ یا تو وہ بری صحبت میں گرفتار ہوجاتا ہے یا برے لوگوں کی برائیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔
موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال:
موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بلاشبہ ٹکنالوجی کے بہت سے فوائد ہیں لیکن اس کا بے جا استعمال بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔بچے گھنٹوں موبائل گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں۔ اس سے ان کی توجہ کمزور ہوتی ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور وہ حقیقی زندگی سے دور ہونے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی مصنوعی زندگی دیکھ کر بچے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کو وہ سوشل میڈیا کے بظاہر خوشنما نظر آنے والے ماحول سے موازنہ کرتے ہیں اور واضح فرق نظر پر مایوس ہوجاتے ہیں۔ ان کے رویے میں چڑچڑاپن اور ناپسندیدگی در آتی ہے۔
غصہ،ضد اور جارحانہ رویّے:
بعض بچے معمولی بات پر غصہ کرنے لگتے ہیں۔ چیخنا، لڑنا، ضد کرنا اور چیزیں توڑنا ان کے معمولات بن جاتے ہیں۔ یہ رویّے اکثر ذہنی دباؤ، سختی، توجہ کی کمی یا غیر معتدل گھریلو ماحول کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جو بچے محبت اور سکون سے محروم ہوں وہ اپنے جذبات کو غصے اور جارحیت کی صورت میں ظاہر کرتے ہیں۔ اگر بروقت رہنمائی نہ ملے تو یہ عادت مستقبل میں خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔
گھریلو جھگڑے اور منفی ماحول:
گھر اور گھر کا ماحول بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول پُرسکون نہ ہو اور والدین کے درمیان مسلسل لڑائی جھگڑے ہوں تو بچے کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ ایسے بچے خوف، بے چینی اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ بعض بچے خاموش ہوجاتے ہیں جبکہ بعض بدتمیزی اور جارحیت اختیار کرلیتے ہیں۔ خاندانی کشیدگی بچوں کے دل ودماغ پر دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔
مسائل کا حل:
محبت، توجہ اور اعتماد:
بچوں کو محبت، توجہ اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اہمیت دیں۔ جب بچے خود کو محفوظ اور محسوس کرتے ہیں تو ان کی ذہنی کیفیت بہتر ہوتی ہے۔
مثبت اور پُرسکون گھریلو ماحول:
گھر میں محبت، برداشت اور احترام کا ماحول قائم کرنا ضروری ہے۔ بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑوں اور تلخ گفتگو سے پرہیز کیا جائے۔ ایک خوشگوار ماحول بچے کی ذہنی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔
تعلیمی دباؤ میں کمی:
والدین کو چاہیے کہ بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ نہ ڈالیں۔ ہر بچے کی ذہنی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ بچوں کی کامیابی کو صرف نمبروں سے نہ ناپا جائے بلکہ ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو بھی اہمیت دی جائے۔ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت اور صلاحیت بھی اوروں سے مختلف ہوتی ہے۔ اسلیے اسے اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر ان پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر دباؤ نہ ڈالا جائے۔
موبائل اور انٹرنیٹ کا متوازن استعمال:
بچوں کے موبائل فون استعمال کرنے کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے۔ انہیں کھیل، مطالعہ، ورزش اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ حقیقی زندگی سے جڑے رہیں اور موبائل کے بے جا استعمال سے دور رہ سکیں۔
حوصلہ افزائی اور مثبت تربیت:
بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا چاہیے۔ مسلسل تنقید اور موازنہ ان کی خود اعتمادی کو تباہ کردیتا ہے۔ مثبت تربیت بچوں کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے۔ وہ خود پر اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ ان میں کچھ کردکھانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
کھیل، ورزش اور تفریح کے مواقع:
کھیل کود اور ورزش بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ جسمانی سرگرمیوں سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور بچوں میں خوشی اور تازگی پیدا ہوتی ہے اس لیے بچوں کو کھیل کود اور ورزش کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہیے۔
دینی اور اخلاقی تربیت:
دینی تعلیم انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ بچوں میں صبر، شکر، سچائی، برداشت اور احترام جیسے اخلاق پیدا کرنا ضروری ہے۔ دینی اور اخلاقی تربیت بچوں کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے۔
اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات کا کردار:
اساتذہ کو بچوں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا رویّہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کسی بچے میں شدید ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی علامات ظاہر ہوں تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت رہنمائی اور علاج ممکن ہوسکے۔
بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے نفسیاتی مسائل ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہیں۔ ذہنی دباؤ، ڈپریشن، تنہائی، احساسِ کمتری، غصہ اور بے چینی جیسے مسائل بچوں کی شخصیت اور مستقبل کو متاثر کررہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کو مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ محبت، مثبت تربیت اور پُرسکون ماحول ہی ایک ذہنی طور پر مضبوط اور کامیاب نسل کی تعمیر کرسکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment