اصل قربانی — باپ بیٹے کی وہ گفتگو، جو ہم بھول گئے ۔ ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔


 اصل قربانی — باپ بیٹے کی وہ گفتگو، جو ہم بھول گئے ۔ 
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔

آج کے حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم قربانی جیسے مقدس فریضے کو صبر، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔ چند شرپسند عناصر ہر سال عیدالاضحیٰ سے پہلے ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی سوشل میڈیا پر نفرت پھیلائی جاتی ہے، کبھی افواہیں اڑائی جاتی ہیں، اور کبھی معمولی باتوں کو فساد کا رنگ دیا جاتا ہے۔ بنگال، حیدرآباد اور ملک کے مختلف علاقوں میں جو ناخوشگوار واقعات سامنے آئے، وہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو مزید احتیاط، صبر اور قانون کی پابندی کے ساتھ قربانی ادا کرنی چاہیے۔
اسلام نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور دوسروں کے جذبات کے احترام کا درس دیا ہے۔ قربانی عبادت ہے، نمائش نہیں۔ اس لیے ہمیں ایسے ہر عمل سے بچنا چاہیے جس سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہو یا کسی کو تکلیف پہنچے۔ سمجھداری، صفائی، خاموشی اور نظم و ضبط کے ساتھ قربانی کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔
ہم ہر سال قربانی کرتے ہیں…
جانور خریدتے ہیں، ان کی قیمتیں بتاتے ہیں، تصویریں کھینچتے ہیں، گوشت تقسیم کرتے ہیں… اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہی قربانی ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔
اصل قربانی تو ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی وہ گفتگو تھی، جسے آج ہم بھول چکے ہیں۔
ذرا اس منظر کو دل میں اتاریے…
ایک طرف اللہ کے نبی حضرت ابراہیمؑ ہیں، جنہیں خواب میں اپنے لختِ جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملتا ہے۔
دوسری طرف نوجوان بیٹا حضرت اسماعیلؑ ہیں، جن کی عمر کھیلنے کودنے کی تھی، مگر ایمان ایسا کہ باپ سے کہتے ہیں:
“ابّا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے، وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا…
یہ ایمان کی معراج تھی۔
یہ اللہ پر کامل بھروسہ تھا۔
یہ باپ اور بیٹے کے درمیان اعتماد، محبت اور اطاعت کی سب سے خوبصورت مثال تھی۔
آج ہمیں قربانی کے جانور یاد ہیں،
مگر حضرت اسماعیلؑ کا صبر یاد نہیں۔
ہمیں گوشت کی تقسیم یاد ہے،
مگر حضرت ابراہیمؑ کی فرمانبرداری یاد نہیں۔
قربانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے غرور کو ذبح کرے،
اپنی انا کو قربان کرے،
نفرت، حسد اور تکبر کو ختم کرے،
اور اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔
آج اگر گھروں میں اولاد والدین کی عزت نہیں کرتی،
اگر رشتوں میں اعتماد کمزور ہو گیا ہے،
اگر معاشرے میں برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے،
تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے قربانی کی روح کو چھوڑ دیا اور صرف رسم کو اپنا لیا۔
عیدالاضحیٰ ہمیں صرف جانور ذبح کرنا نہیں سکھاتی،
بلکہ یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے لیے اپنی خواہشات، اپنی ضد اور اپنی انا کو قربان کرنا ہی اصل عبادت ہے۔
 جانور ذبح کرنے سے پہلے،
اپنے اندر کے غرور، نفرت اور تکبر کو ذبح کیجیے…
تبھی قربانی، واقعی قربانی بنے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔