ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔ ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی)
ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام فاروق سید کی یاد میں۔
ازقلم : محمد اقلیم ، (ایڈیٹر ھما شما اخبار۔ ممبئی)
٥ ستمبر ١٩٦٨ کو اس دنیا میں آنکھیں کھولنے والے فاروق سید ممبئی کے اردو صحافتی منظر نامے کا ایک معتبر اور جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے اپنی بے باک صحافت، منفرد اسلوبِ تحریر اور سماجی مسائل پر گہری نظر کی وجہ سے اردو دنیا میں اپنی ایک خاص پہچان بنائی۔ ممبئی کی متحرک اور تیز رفتار زندگی میں اردو زبان و ادب اور صحافت کے فروغ کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔
فاروق سید کا تعلق مہاراشٹر کی تجارتی اور ثقافتی راجدھانی ممبئی سے تھا۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں آنکھ کھولی جب ممبئی اردو صحافت اور ادب کا ایک بڑا مرکز ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد صحافت کے میدان کو اپنے روزگار اور جنون کے طور پر چنا۔ ان کے اندر معاشرے کی اصلاح اور سچائی کو سامنے لانے کا جو جذبہ تھا، اس نے انہیں جلد ہی صحافتی حلقوں میں ممتاز کر دیا۔
فاروق سید نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی کے معروف اردو اخبارات سے کیا۔ انہوں نے مختلف حیثیتوں سے کام کیا، جن میں بطور نامہ نگار، کالم نگار اور ایڈیٹر خدمات شامل ہیں۔
ان کی تحریروں میں ممبئی کے غریب، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے مسائل کو نمایاں جگہ ملتی ہے۔ وہ عوامی مسائل، بلدیاتی نظام کی خامیاں، تعلیم اور روزگار جیسے موضوعات پر بے باکی سے قلم اٹھاتے ہیں۔
فاروق سید کے کالموں کو قارئین میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ ان کے لکھنے کا انداز سادہ، عام فہم لیکن انتہائی اثر انگیز ہوتا ہے۔ وہ پیچیدہ سیاسی صورتحال کو بھی نہایت آسان الفاظ میں عوام کے سامنے پیش کرنے کا ہنر جانتے تھے۔
انہوں نے نہ صرف سیاسی اور سماجی بلکہ ممبئی کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اپنے اخبارات میں بھرپور کوریج دی، جس سے نئے لکھنے والوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
فاروق سید کی صحافت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی **دیانت داری اور غیر جانبداری** ہے۔ آج کے دور میں جہاں صحافت مختلف دباؤ کا شکار ہے، انہوں نے ہمیشہ زرد صحافت (Yellow Journalism) سے دوری اختیار کی اور سچی صحافت کے اصولوں پر کاربند رہے۔
> "فاروق سید کی تحریروں میں ممبئی کا دھڑکتا ہوا دل نظر آتا تھا۔ وہ صرف خبریں نہیں لکھتے، بلکہ خبروں کے پیچھے چھپے انسانی درد کو بھی نمایاں کرتے تھے۔"
اردو صحافت میں ان کی طویل اور مخلصانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف سماجی، ادبی اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ممبئی کے ادبی حلقوں میں انہیں انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر، فاروق سید ممبئی کی اردو صحافت کا ایک ایسا ستون تھے جنہوں نے زبان کی بقا اور عوامی بیداری کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ ان کی تحریریں آج بھی نئے آنے والے صحافیوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آج ١٩ مئی ٢٠٢٦ کی شام تقریباً سات بجے انہوں نے آخری سانس لی۔ کل بعد نماز ظہر انہیں ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔ اللہ ربّ العزت ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔
Comments
Post a Comment