بچوں کے ادب، صحافت اور اردو زبان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان…۔ ازقلم: ایچ ایم جعفر۔
بچوں کے ادب، صحافت اور اردو زبان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان…
ازقلم: ایچ ایم جعفر۔
(مدیر: نوائے اردو ای خبر نامہ)
ادبِ اطفال کے درخشندہ ستارے، ممتاز صحافی، بے لوث مربی اور ماہنامہ "گل بوٹے" ممبئی کے بانی و مدیرمحترم فاروق سید صاحب کے سانحۂ ارتحال کی اندوہناک خبر نے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس خبرِ وحشت اثر کو سننے کے بعد سے دل رنج و الم کی اتہاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور زبان گنگ ہے۔
فاروق سید صاحب محض ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن اور تحریک تھے۔ انہوں نے اپنی حیاتِ مستعار کا ایک ایک لمحہ اردو زبان و ادب، بالخصوص ادبِ اطفال کی آبیاری اور ترویج کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ایک ایسے دور میں جب بچوں کے لیے لکھنا اور ان کی فکری تربیت کرنا پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا، فاروق سید صاحب نے "گل بوٹے" کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی، اخلاقی اور ادبی بیداری کا وہ عظیم فریضہ انجام دیا جو تاریخِ ادب میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں کے کچے ذہنوں میں مطالعے کی جوت جگائی اور انہیں اردو تہذیب سے جوڑے رکھا۔ ان کی یہ مخلصانہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلیں ان کی احسان مند رہیں گی۔
مرحوم سے میری پہلی ملاقات کا یادگار موقع سن 2018 میں 'بال بھارتی بھون، پونے' میں آیا تھا۔ وہ پہلی ہی ملاقات نقش بر حجر ہو کر رہ گئی۔ ان کی شخصیت میں بلا کی سادگی، درویشی اور عاجزی تھی۔ پہلی ہی گفتگو میں ان کی شفقت، بزرگانہ رویے اور بچوں کے ادب سے ان کی جنون کی حد تک وابستگی نے میرے دل پر ایک سحر انگیز اور گہرا اثر چھوڑا تھا۔ وہ سچے معنی میں ایک مخلص مربی اور رہنما تھے۔
فاروق سید صاحب کا اٹھ جانا اردو صحافت اور علم و ادب کا وہ نقصان ہے جس کا تدارک ممکن نہیں۔ آج ادبِ اطفال کا ایک توانا ستون گر گیا ہے اور بچے اپنے ایک عظیم ہمدرد سے محروم ہو گئے ہیں۔
اس گھڑی میں نوائے اردو ای خبر نامہ کی پوری ٹیم مرحوم فاروق سید صاحب کی ادبی و ملی خدمات کو مکرر خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ ہم اس عظیم صدمے اور غم کی گھڑی میں مرحوم کے تمام سوگوار اہلِ خانہ، قارئین، متعلقین اور اردو دنیا کے ساتھ برابر کے شریکِ غم ہیں۔
دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔ بارگاہِ الٰہی میں التجا ہے کہ ان کی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور تمام پسماندگان کو اس عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان پر صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
آمین، ثم آمین۔ یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment