ان خواتین نے سماج کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دیا - فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)


ان خواتین نے سماج کی بہتری کے لیے خود کو وقف کر دیا - 
فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خواتین کو معاشرے میں وہ مقام اور مرتبہ حاصل نہیں تھا جو آج ہے ۔ تاریخ کے اوراق کی گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اٹھارویں صدی تک خواتین کا استحصال بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ انھیں کسی بھی طرح کے حقوق حاصل نہیں تھے۔ وہ مسلسل ظلم‌و جبر کا شکار رہیں۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا،ستی کی رسم، کمسنی کی شادی ،بیواؤں کی دوبارہ شادی نہ ہونے دینا جیسے مسائل بڑے پیمانے پر ہوتے تھے۔ 
انہیں عزت و احترام بھی حاصل نہ تھا۔ اس کے خلاف سب سے پہلے راجہ رام موہن رائے نے آواز اٹھائی اور 1829ءکو ستی کی رسم پر پابندی کا قانون نافذ کروایا۔حالانکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سلطنت تھی، اور ان کے یہاں رضیہ سلطان ،چاند بی بی ،نور جہاں ،اور دیگر خواتین علم و ذہانت کے علاوہ اقتدار سنبھال چکی تھیں۔ تا ہم عام خواتین مظالم کا شکار رہیں۔ اس کے بعد مہاتماجوتی راؤ پھلے نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 1844ء میں پہلا مدرسہ پونہ میں شروع کیا۔ اور سماج میں خواتین کی حیثیت کو متعارف کروانے کے لیے ، انہیں علم و شعور کی روشنی دینے کے لیے ، خواتین کی بیداری کے لیے مختلف اقدامات کیےتھے۔ ان کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے بھی خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے سوچا۔ ان کی اس سوچ میں ملک کے مختلف علاقوں سے خواتین نے بھی حصہ لیا۔ اور معاشرے کے اس علاقے کو روشن کر نے کی پہلی سعی کی جو برسوں سے تاریکی میں جی رہا تھا۔ 
آئیے ان مصلح خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے، جنہوں نے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، خواتین کی بیداری ، قوم‌ و ملک کی عظمت اور اپنے آپ کو معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کر دیا۔ 
ساوتری بائی پھلے: 
ہندوستان کی پہلی خاتون استانی ،جنھوں نے نچلی ذات کے لوگوں کے لیے بہت سی خدمات انجام دیں ۔ انھوں نےخواتین کے لیے تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ تعلیم کے متعلق کتنی فکرمند تھی اس کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے، جو میرے استاذنے یوم اساتذہ کے موقع پر ہمیں سنایا تھا۔ ایک بچے کے پاس امتحان کی فیس دینے کے لیے پیسے نہیں تھے وہ فریاد لے کر ساوتری بائی پھلےکے گھر گیا؛تو انھوں نےاپنے گلے کا منگل ستر نکال کر اسے دے دیا۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح کی قربانیاں دی ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ذات پات کی تفریق کو ختم کرنے، پدرسری نظام کو بدلنے اور خواتین پر مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی یہ اولین کاوشیں ہی جدید بھارت کی بنیاد ہے۔
فاطمہ شیخ:
فاطمہ شیخ ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون استاذ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ یہ وہ سماجی مصلح اور تعلیمی مجاہدہ تھیں، جنہوں نے 19ویں صدی میں خواتین اورنچلی ذات کے طبقات کی تعلیم و تربیت کے لیے مثالی خدمات انجام دیں ۔انہوں نے اپنا گھر ایک اسکول کے طور پر فراہم کیا تاکہ سماج کے پسماندہ طبقات کی بچیوں کو تعلیم دی جا سکے۔ وہ ساوتری بائی پھلے کے ساتھ گھر گھرجا کر تعلیم دینے اور لوگوں کو روشنی دکھانے کا کام کرتی تھیں۔ بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ لوگ انہیں بڑی کلمات کہیں گےیا ان پر پتھر پھینکیں گے ۔وہ سچائی اور انصاف کے ساتھ ڈٹی رہی اور تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔
پنڈتا رما بھائی:
پہلی خاتون جنہیں کلکتہ یونیورسٹی نے پنڈتا اور سرسوتی کا خطاب دیا۔پنڈتا رما بائی نے ہندو بیوہ خواتین کے حالات بہتر بنانے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے "شاردا ساگر آشرم" قائم کیا ۔جہاں بیوہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ ہنر اور تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔
نواب سلطان جہاں بیگم: 
 نواب سلطان جہاں بیگم 1901 ء میں بھوپال ریاست کے تخت پر بیٹھی تھیں۔ آپ تعلیم اور خواتین کے حقوق کی علمبردار تھیں ۔مختلف موضوعات پر آپ نے تقریبا 50 کتابیں لکھیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی مسلم خاتون چانسلر بنیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی اعزاز سے نوازا گیا۔ حتی کہ انگریز حکومت نے بھی آپ کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ آپ نے معاشرے میں پھیلی برائیوں اور حقوق نسواں کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔
بیگم رقیہ سخاوت حسین: 
ان کا تعلق بنگال اور بنگلہ دیش سے رہا ۔مسلم خواتین کے لیے تعلیم کی راہ ہموار کرنے میں ان کی خدمات قابل تحسین ہے۔ انھوں نے 1911 میں "سخاوت میموریل اسکول" قائم کیا۔ جو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے وقف تھا ۔انھوں نے خواتین کی آزادی اور معاشرے میں ان کے مقام کے لیے جدوجہد کی۔ بیگم رقیہ ان خواتین میں شمار ہوتی ہیں جو جدید بھارت کی معمار سمجھی جاتی ہیں۔

سروجنی نائیڈو: 
"بلبل ہند "کہی جانے والی سروجنی نائیڈو نے اپنی شاعری، خطابت اور سیاسی جدوجہد سے اپنا منفرد مقام بنایا۔ وہ ہندوستانی خواتین کے حقوق، آزادی کی تحریک اور قومی یکجہتی کی علامت بنیں۔ وہ "آل انڈیا و یمنز کانفرنس" کی سرگرم رکن تھیں ۔آپ نے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے محنت کی۔ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔آپ خود اعتمادی ،حب الوطنی اور شعور نسواں کی بہترین مثال تھیں۔
سلام ہے ان خواتین کو اور ان کی جذبے و قربانیوں کو ۔ موجودہ دور کی خواتین کو ان خواتین سے حوصلہ پاکر معاشرے کی بہتری کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور مثال قائم کرنی چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔