سب کے ساتھ جسٹس ہواور سب تک وسائل پہنچیں، اس کی فکر باشندگان ملک پر لازم ہے - ویلفیرپارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر مجتبیٰ فاروق سے محمدیوسف رحیم بیدری کاانٹرویو۔۔


بیدر (یوسف بیدری)  جناب مجتبیٰ فاروق مسلم سیاست کا اہم نام ہے جن کے پس پردہ اور موجودہ کام سے وہی لوگ واقف ہیں، جو سیاست کے گلیاروں میں دورتک چلے ہیں یا موجودہ منظر نامہ پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔آسام میں UDFکو بنانے والوں میں مجتبیٰ فاروق ایک اہم نام رہاہے، اسی طرح ویلفیرپارٹی آف انڈیا کے قیام میں بھی جناب مجتبیٰ فاروق کااہم رول رہاہے۔وہ ویلفیرپارٹی آف انڈیا(WPI)کے پہلے قومی صدررہ چکے ہیں۔ان دِنوں قومی نائب صدر کافریضہ نبھارہے ہیں، مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے مجتبیٰ فاروق سے محمدیوسف رحیم بیدری کا لیاگیاانٹرویو پیش خدمت ہے۔ 
سوال:۔سیاست کی طرف آنا مجتبیٰ فاروق کااپنا فیصلہ تھا یا جماعت اسلامی ہند کا؟
مجتبیٰ فاروق:۔ میری اپنی رائے تھی۔ چوں کہ میں جماعت اسلامی ہند میں شعبہ ء ملکی وملی مسائل سے وابستہ تھا، اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ایسے مواقع بھی آئے کہ ایک سیاسی پارٹی کی شدید ضرورت کا احساس ہونے لگا۔ آسام میں جب UDFبنا۔ چند لوگوں نے مل کر اس کو لانچ کیا۔ مہمان مقررین میں دونام شامل تھے ایک نام مولانا ارشد مدنی کااور دوسرانام مجتبیٰ فاروق کاتھا۔ہم نے کہیں نہ کہیں سیاسی گراؤنڈ بناکر دیا ہے۔
سوال:۔ آج کی سیاست کی تعریف کن الفاظ میں کی جاسکتی ہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ آج کی سیاست ایک رخی ہوتی جارہی ہے۔ ہندوتوافرقہ پرستی، راشٹر بھکتی، اورملکی کلچر کانام دیتے ہوئے ہندوستانی تہذیب کو سامنے لایاجارہاہے۔ اور ان باتوں میں سبھی طبقات کو کشش محسوس ہوتی ہے۔ گویا سبھی میں ہندتوا سرایت کرگیاہے۔ سیکولرپارٹیاں بھی سافٹ ہندتوا سے بچ نہیں پارہی ہیں۔ ابھی جو انتخابات ہوئے ہیں اس کے نتائج نے سیکولرپارٹیوں کو حاشیہ پرلاڈالاہے۔ آسام میں 35%مسلمان ہیں لیکن وہاں معاشی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اس کے باوجود جو 19اراکین اسمبلی منتخب ہوکر آتے ہیں ان میں 18مسلمان ہیں ا ورصرف ایک ہند و۔ وہاں کانگریس اگر بچ پائی ہے تو صرف مسلمانوں کی وجہ سے بچی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کانگریس کا ووٹ بینک کدھر گیا؟اسی طرح مغربی بنگال میں ممتابنرجی کو 80نشستیں حاصل ہوئی ہیں،ان میں سے 32نشستیں مسلمانوں نے جیتی ہیں۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ سیکولرپارٹیوں کاووٹ بینک کدھر گیا؟ہندوسماج پولرائز نہیں ہوا، یہ بات محل ِ نظر ہے۔ 
سوال:۔ ویلفیرپارٹی کا آسان لفظوں میں تعارف کیاہوسکتاہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ ویلفیرپارٹی (WPI)سیاست کا وہ تصور رکھتی ہے جو اقدار اور اصولوں پر مبنی ہے۔ جس میں اصول زیادہ ہیں۔ان اصولوں اور اقدار کوازبر کرلینا چاہیے۔ 
سوال:۔ وچار دھاراکی بات سیاست میں ہوتی ہے، ویلفیرپارٹی کی وچار دھارا کیاہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ ہماری وچار دھارا عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ عدل وانصاف کسی مخصوص طبقہ کے لئے نہیں ہے بلکہ پورے انسانی سماج کے لئے عدل وانصاف کاقیام ہم چاہتے ہیں۔ 
سوال:۔ ہندوستانی مسلمانوں کاموڈ کھانے دانے کی طرف ہے یا حکومت کرنے کی جانب؟
مجتبیٰ فاروق:۔ مسلمان دراصل آزادی کے بعد سے سیاست سے کاٹ دئے گئے۔ اور اس کاٹ دئے جانے کو قبول کرلینا مسلمانوں نے اپنی مجبور ی سمجھا۔ اسی کو دیکھ لیں کہ صرف چار پانچ ریاستوں میں پورے ملک کے 55%مسلمان رہتے ہیں۔ جیسے یوپی، بہار، بنگال اور آسام وغیرہ۔ ان ریاستوں میں تقسیم کے اثرات بہت زیادہ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی سیاست کی اجازت نہیں دی گئی جس کے وہ آئندہ بھی عادی ہوتے چلے گئے۔ یوپی میں یادو 7%ہیں۔ اوراکھلیش کو جتاکر وزیراعلیٰ بناتے ہیں۔ 9%جاٹو مایاوتی کو جتاتے ہیں۔ خود مسلمان 20%ہیں، کسی کو خیال نہیں آتاکہ مسلمانوں کو جتایاجائے۔ 
سوال:۔ آرایس ایس /بی جے پی کو سمجھنے کے لئے گولوالکر کی فلاں اور فلاں کتاب پڑھادی جاتی ہے جس سے بی جے پی /آرایس ایس کاسیاسی نظریہ سمجھ میں آجاتاہے۔ ویلفیرپارٹی کو سمجھنے کے لئے کوئی کتاب یاکتابچہ؟
مجتبیٰ فاروق:۔ کوئی جامع کتاب نہیں لکھی گئی اور نہ ہی کتابچہ ہے۔ ہمارابنیادی لٹریچر ہے جیسے خلافت وملوکیت، مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش انھیں پڑھنا ہوگا۔ویلفیر
پارٹی کے ویژن ڈاکومنٹ کو پڑھ کر پارٹی کو سمجھاجاسکتاہے۔  
سوال:۔ کاکروچ ڈیجیٹل جنتاپارٹی کے بارے میں کیاکہیں گے؟یہ جین زی ہیں یا ان کے پیچھے کوئی اور بھی ہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ یہ جین زی ہیں لیکن منظم نہیں ہیں۔ ایک لڑکے نے CJIکے کاکروچ والے بیان پر ردعمل دیا۔تائید ملی۔ تائید کو تنظیم کی شکل ملے اس کے لئے انتظار ضروری ہے لیکن مودی جی جو دعویٰ کرتے ہیں کہ خواتین ان کے ساتھ ہیں۔ ملک ترقی کررہاہے وغیرہ۔ بلاشبہ ملک ترقی کررہاہے لیکن چند خاندانوں کے لئے۔ جب کہ نوجوان محرومی اور بے چینی کاشکار ہے۔ کاکروچ جنتاپارٹی کے لئے نوجوانوں کاتیزی سے جمع ہونا اس بات کی واضح علامت ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت سے نوجوان طبقہ مطمئن نہیں ہے۔
سوال:۔ اسدالدین اویسی صاحب کی سیاست کا مثبت پہلو کیاہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ پیدائشی سیاست دان ہیں، اور وہ سیاست کو بخوبی جانتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کامؤقف سلیقہ سے پیش کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کی تنہا لیکن اثرانداز ہونے والی آواز ہوتی ہے جس کے سبب مسلمانوں کولگتاہے کہ وہ ان کے ترجمان ہیں اور یہ بات ریکارڈ پر بھی آتی ہے۔ 
سوال:۔ مسلم مینارٹیز کو سیاسی طورپر کسی سے ہاتھ ملانا چاہیے یا خود کوشش کرتے رہیں؟
مجتبیٰ فاروق:۔ ہاتھ ملائے بغیر کوئی پارٹی نہیں رہ سکتی۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ بغیر ہاتھ ملائے گزار ہ ہوسکے۔ مسلمان اس عمل سے علیحدہ نہیں رہ سکتے۔ 
سوال:۔ بے روزگاری اور مہنگائی کا سیاسی حل کس طرح ممکن ہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ مہنگائی اور بے روزگاری کاخاتمہ برسراقتدار پارٹی کی سوچ پر منحصر ہے۔ مہنگائی اوربے روزگاری کاخاتمہ انسانی بنیادوں پر ہوتو آسان رہے گا لیکن نظریہ اوردھرم کی بنیاد پر پیسے کا ارتکاذ چند افراد تک محدود ہوگا۔ وہ چوں کہ دھرم کاپالن کرتے ہیں۔ دھرم انہیں اسی طرح کی اقدارکاموقع دیتاہے جس کے سبب کئی طبقات محروم رہ جاتے ہیں 
سوال:۔ اس ملک کے مسائل کیاہیں؟
مجتبیٰ فاروق:۔ اس ملک کاسب سے بڑا مسئلہ زیر اقتدار پارٹی کی سوچ کامسئلہ ہے جس کے دعویدار دھرم کو استھاپت کرنا چاہتے ہیں۔ جس کی بنیاد میں انصاف نہیں ہے وہ طبقاتی سوچ کے تحت ہے۔ سب کے لئے وکاس کی بات صرف کہی جاتی ہے۔ مواقع دوسروں کے لئے ہیں۔ ریزرویشن ہی کو لیجئے۔ ان کے ہاں محروم طبقہ کی بلندی ادھرم ہے۔ سیاسی سوچ میں انصاف نہ ہوتو ملک میں مسائل تو کھڑے ہوں گے ہی۔ 
سوال:۔ SIRحقیقت میں کیاہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ SIRکے پیچھے سیاسی مقصد کارفرماہے۔ ایس آئی آر پہلی دفعہ ہونہیں رہاہے،خصوصاً چند مخصوص طبقات جیسے لفٹ، مسلمان اور عیسائیوں کو شہری حقوق نہ دے کر ان کے شہری حقوق چھیننے کی کوشش ہے جس کی وجہ سے ووٹ دینے کارائٹ (حق) بھی چھن جاتاہے۔ مخالف ووٹ کو ڈائلیوٹ کرنے کی سعی کے تحت مغربی بنگال میں مسلمان نشانے پر رہے۔ پہلے 90-95لاکھ ووٹرس کو محروم کیاجاتاہے۔ سپریم کورٹ جانے کے بعد تھوڑاریلیف ملتاہے۔ جب تک الیکشن سامنے آجاتاہے۔ 27لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ عدالت کہتی ہے کہ باقی آئندہ دیکھتے ہیں۔ یہ دراصل سی اے اے کی طرف پیش قدمی ہے۔ 
سوال:۔ ویلفیرپارٹی کے ترجمان بھی شائع ہوتاہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ بنگال اور کیرلہ میں ویلفیرپارٹی کا ترجمان وہاں کی زبانوں میں شائع ہوتاہے۔ 
سوال:۔ گائے کو قومی جانور قرار دینے کی مہم سے نقصان کسانوں کاہوگا یاکچھ اور لوگوں کا؟
مجتبیٰ فاروق:۔ گائے کو قومی جانور بنانے کامطالبہ مولانا ارشد مدنی کا ہے۔ اس مطالبہ کے بعد اگر قومی جانور کا درجہ دے دیاجاتاہے تو اس سے لاکھوں کروڑوں جانور بوجھ بن جائیں گے۔ جس کے سبب گھروں سے نکال دیاجائے گا۔ کھلی بستیوں اور سڑکوں پر ان جانوروں کی بھیڑہوگی۔ہمارا ملک کی 65%آبادی زراعت پیشہ ہے۔ اور انہیں دوراستوں سے مالی مدد ملتی ہے۔ (۱) فصل سے (۲) مویشی پالن سے۔ جب گائے کو قومی جانور قرار دیاجائے گاتو اس سے صرف کسانوں کانقصان نہیں ہوگابلکہ ہر لحاظ سے معاشی اورسماجی نقصان بھی ہوگا۔ 
سوال:۔ مجتبیٰ فاروق مسلم عورتوں کی بے پردگی کے قائل ہیں۔ اس الزام کے بارے میں کیاکہیں گے؟
جواب:۔ بے پردہ رکھنے یادیکھنے والا شخص وہ ہوتاہے جس میں حیانہیں ہوتی جو شخص کسی عورت ہی کا بیٹا ہے،کسی عورت کا شوہر ہے وہ کس طرح بے پردگی کا قائل ہوسکتاہے؟شریعت پردہ کا ا ختیار دیتی ہے۔ چہرے کا پردہ ہے نہیں ہے ہر دوروایت ثابت شدہ ہیں۔ یہ ان خواتین کاحق ہے کہ جس پر چاہیں عمل کریں۔ شوہروں کاحق نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے ان پر تھوپ دیں۔ یہ حق عورت کواللہ نے دیاہے اللہ کے رسول کے توسط سے۔ پر دہ طئے شدہ ہے۔ اپنے مؤقف کو دوسرے کے مؤقف پر نہ تھوپیں۔ دوسرا بھی ایساہی عمل اگر آپ کے ساتھ کرے تو؟شارح ہم نہیں ہیں، شریعت جس نے دی ہے وہ شارح ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سماجی اعتبار سے عورت کا کیارول ہونا چاہیے، اس کی بنیادد ین ہے۔ عبدالحلیم ابوشقی ٰ کی کتاب ہے ”عورت۔ عہدِ رسالت میں“ انھوں نے اپنی تحقیق کو بخاری اور مسلم کے حوالے سے ابواب باندھ کر پیش کئے ہیں۔ کافی دلچسپ اور اہم کتاب ہے۔ عورت پر ذمہ داری عائد نہیں ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو لیکن ضرورت پڑنے پر وہ فوجی سے کم نہیں ہوگی۔ جنگ احد میں جن بھی خواتین نے تعاون کیا اس پر حیرت ہوتی ہے۔ بغیر تربیت کے اس طر ح کاتعاون ممکن نہیں۔ خواتین دراصل ہنگامی حالات میں اپنا تحفظ بھی نہ کرسکیں، ایسی معذور خواتین اسلام تیار کرنا نہیں چاہتا۔ خواتین وہ ہیں جو وقت آنے پر اپنا دفاع کرسکیں۔ کتاب بتاتی ہے کہ سماجی، معاشی اور سیاسی اعتبار سے اس کاحوالہ دیاجاسکتاہے۔ 
سوال:۔ مذہب کومقصد ِ زندگی بنایاگیاہے، کیا سیاست بھی مقصدِ زندگی ہوسکتی ہے؟
مجتبیٰ فاروق:۔ سیاست مقصد ِ زندگی کاحصہ ہے۔ بغیر کسی نظریہ کے وجود میں آنے والی سیاست فائدہ مند نہیں ہوگی۔ دینی ذوق رکھنے والا شخص اپنے ذوق کو کُل دنیاسمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتا۔ سیاست کے لئے کام کرنے والے دراصل نظام کے تقاضوں کوپورا کرتے ہیں۔ لہٰذا سیاست کل نہیں ہے جس سیاست میں خدمت نہ ہو، انصاف نہ ہو، اس کو ہوس ِ ِاقتدار ہی کہیں گے۔ جو ایک بے لگام سیاست ہو گی جو زندگی پر اثر انداز ہوتی ضرور ہے۔ مجموعی طورپر سیاست کُل کا ایک حصہ ہے۔             
سوال:۔ ملک عزیز کے باشندوں کے لئے کیاپیغام رکھتے ہیں؟
جواب:۔ سیاسی طورپر باشندگان ِ ملک گمراہ کئے جاتے ہیں لیکن چند دِنوں کے لئے۔ دوسری طرف اتنے بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ اس کو فرقہ پرستی یعنی مسلم دشمنی کے سبب انگیز کیاجارہاہے۔ باشندگان ِ ملک آنکھیں کھول کر تجزیہ کریں کہ ملک میں جو ہورہاہے وہ کس کے حق میں ہے۔ سب کے ساتھ جسٹس ہواور سب تک وسائل پہنچیں، اس کی فکر باشندگان ملک پر لازم ہے۔  
٭٭٭

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔