آہ فاروق سیدؔ؛ ادب کا دوست، ادب نوازوں کا دوست - عقیل خان بیاولی۔


آہ فاروق سیدؔ؛ ادب کا دوست، ادب نوازوں کا دوست۔ 
عقیل خان بیاولی۔

کبھی زندگی کی راہوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں ہوتے بلکہ ایک انجمن، ایک تحریک اور ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرحوم فاروق سیدؔ بھی انہی درخشاں شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی صحافتی، ادبی اور انسانی خدمات کے ذریعے بے شمار دلوں میں محبت، خلوص اور اپنائیت کے چراغ روشن کیے۔
گزشتہ دنوں ان کی عمرۂ مبارکہ کو روانگی، پھر طبیعت کی ناسازی، صحتیابی اور دوبارہ علالت کی خبریں مختلف ذرائع سے موصول ہوتی رہیں۔ دل مسلسل بے چین رہا، دعاگو رہا۔ حال ہی میں میرے ایک عزیز دوست ممبئی گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات بھائی امتیاز شیخ سے ہوئی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے وطنِ عزیز جلگاؤں کے احباب، قلم کاروں اور مرحوم فاروق سیدؔ سے وابستہ محبت بھرے تعلقات اور بے لوث اپنائیت کا خصوصی ذکر کیا، جس نے دل کو مغموم بھی کیا اور ان کی شخصیت کی عظمت کا احساس بھی تازہ کردیا۔
ایک طویل عرصے تک ہمیں روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی میں مرحوم کے ساتھ رہنے، اور کام کرنے کا شرف حاصل رہا۔ فاروق سیدؔ نہایت تیز رفتار، متحرک اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کے جس میدان میں قدم رکھا، وہاں اپنی محنت، خلوص اور صلاحیتوں کی روشن مثال قائم کردی۔ وہ مسلسل آگے بڑھتے رہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا شاید ان کی فطرت میں ہی نہ تھا۔ مرحوم جہاں بھی جاتے، وہاں کے مقامی دوستوں، اہلِ قلم اور جان پہچان والوں کی خیریت ضرور دریافت کرتے۔ ان کے دل میں ہر انسان کے لیے محبت، ہر قلم کار کے لیے احترام اور ہر ادبی شخصیت کے لیے خلوص تھا۔ وہ واقعی ادب کے دوست اور ادب نوازوں کے سچے رفیق تھے۔
بھوساول میں منعقدہ اردو اکادمی کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مرحوم نے جس خلوص، جدوجہد اور محنت کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی اہلِ ادب کے حافظے میں محفوظ ہے۔ ان کی ادبی خدمات، صحافتی بصیرت، شائستگی، ملنساری اور انسان دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کے جانے سے اردو ادب و صحافت کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم فاروق سیدؔ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ پسماندگان، اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
دعاگو عقیل خان بیاولی ؛ سعید پٹیل، نوشاد حمید و جملہ اراکین۔ خاندیش اردو کونسل جلگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔