سنسان گلی - از قلم : رہبر تماپوری۔


سنسان گلی - 
از قلم : رہبر تماپوری۔

رات کا ہولناک سناٹا سنسان گلی پر چھایا تھا، جہاں ایک قدیم پرانا کھنڈر وحشت ناک خاموشی کے ساتھ کھڑا تھا۔ مقامی لوگوں میں مشہور تھا کہ یہ ویرانہ جنات کا قدیم مسکن ہے، جہاں آدھی رات کو آسیب جاگتے ہیں اور انسانی بو سونگھتے ہی اسے اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔ اظہر ان کہانیوں کو محض وہم اور فرسودہ افسانہ سمجھتا تھا۔ ایک طوفانی رات جب بادل گرج رہے تھے، دوستوں نے اسے للکارا، تو وہ بہادری کا مظاہرہ کرنے بارہ بجے کی ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں وہاں کیل ٹھونکنے پر آمادہ ہو گیا۔ جیسے ہی وہ کھنڈر کی سیڑھیاں چڑھا، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں، خوف کے مارے اس نے اپنی دھوتی کا پلو دانتوں میں دبا لیا۔ جب اس نے آخری ضرب لگائی تو اچانک ایک یخ بستہ ہوا کا جھونکا آیا، اور خشک شاخیں کسی چڑیل کی ہنسی کی طرح بجنے لگیں۔ اظہر بدک کر پلٹا، لیکن کسی نادیدہ قوت نے اسے پیچھے سے جکڑ لیا۔ اس نے چھڑانے کی پوری کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اگلی صبح جب لوگ وہاں پہنچے تو اظہر غائب تھا، وہاں صرف دیوار میں پیوست کیل اور دھوتی کا ایک خون آلود چیتھڑا باقی رہ گیا تھا۔ آج بھی وہ سنسان گلی ایک عبرت ناک راز بنی ہوئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔