کہانی - " سراب " از قلم : رہبر تماپوری۔
کہانی -
" سراب "
از قلم : رہبر تماپوری۔
شادی کے بعد میری زندگی ایک نئی راہ پر چل نکلی۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں خوابوں کی ایک نئی دنیا بسانے میں مگن ہو گئی، جبکہ میرا بھائی بھی اپنی زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا رہا۔ وقت گزرتا گیا اور ہماری راہیں رفتہ رفتہ جدا ہوتی چلی گئیں۔ ہمیں احساس تک نہ ہوا کہ اس دوری نے دل کی گہرائیوں میں ایک خاموش خالی پن جنم دے دیا ہے۔
ایک دن کسی معمولی بات پر میں نے بھائی کی شکایت ایک رشتہ دار سے کر دی۔ بس، اسی ایک بات نے ہمارے درمیان انا اور بدگمانی کی ایسی دیوار کھڑی کر دی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے تھے، مگر بات کرنے کی ہمت کھو چکے تھے۔ برسہا برس گزر گئے اور یہ خاموشی مزید گہری ہوتی گئی۔ میں ہمیشہ اسی آس میں رہی کہ ایک دن وہ خود پہل کرے گا، یا شاید کبھی میں ہی سب کچھ بھلا کر اس سے بات کر لوں گی، مگر وہ دن کبھی نہ آیا۔
پھر اچانک ایک دن اس کے انتقال کی خبر ملی۔ یہ سنتے ہی میں بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ آنکھیں بند کیے خاموش لیٹا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ میں اس کے سرہانے کھڑی اس کا بے جان چہرہ تکتی رہی۔ میرے ہونٹ کپکپائے، مگر الفاظ نے ساتھ نہ دیا۔ وہ سب کچھ جو برسوں سے دل کی تہوں میں دبا تھا— معافی، محبت، شکوہ اور پچھتاوا— سب میرے سینے ہی میں دفن ہو کر رہ گیا۔
میں عمر بھر اس خوش فہمی میں جیتی رہی کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم پھر پہلے کی طرح مل بیٹھیں گے، ہنسیں گے اور دل کی باتیں کریں گے۔ مگر اب سمجھ آیا کہ وہ امید محض ایک سراب تھی— جو دور سے چمکتا ہے، مگر قریب جاؤ تو وہاں صرف خالی پن ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment