حالات حاضرہ اور مسلمان۔۔ تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔


حالات حاضرہ اور مسلمان۔ 
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی۔
 9881836729

 ایک حدیث ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کلکم راع ، وکلکم مسئول عن رعیتہ۔ تم میں سے ہر ایک شخص ذمہ دار ہے، اور ہر ایک شخص اپنے رعایا کی تئیں عنداللہ جواب دہ ہے۔ یہ حدیث شریف امت محمدیہ اور تمام معاشرے کے لیے ایک ایسا مفید کن اور مختصر مثبت جملہ ہے کہ مومن اگر اس کو صحیح طور پر جان لیں تو امت میں ہر شخص مخلص قائد اور بہترین رہنما ہوگا۔ بہترین سیاست دان اور بہترین مسیحا ہوگا۔ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کمر بستہ ہوگا۔ جس قوم و ملت کا کوئ رہنما یا قیادت کرنے ولا نہ ہو، جس قوم و ملت کا کوئ والی نہ ہو ، اور نہ کوئ امانت دار سیاسی قائد ہو، تو قوم و ملت کی درگت ہی بنینگی نہ کہ کامیابی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی ایک ( Leader) قائد کو ہی سب کچھ مان لیتے ہیں۔ اور کبھی قوم ملت کے رہنما اور قائد کو بھی برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے۔ ہونا تو یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص علم کے ساتھ ( political sense) سیاسی بصیرت اور شعور کا حامل ہو۔ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنی اپنی رعایا اور قوم و ملت کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ اور اس کے تئیں بروز قیامت عندا للہ مسئول ہوگا۔ ایک ( philosopher) فلاسفر کا قول ہے، Great things are done when men mountain meets : This is not done by jostling in the street ) یعنی بڑے بڑے کام تب ہی انجام پاتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔ یعنی پہاڑ کو ہٹانا کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے۔ قوم و ملت کو سنوارنا اور ان کے حق میں کام کرنا پہاڑ سے بھی زیادہ مشکل ترین کام ہے۔ لیکن اللہ نے انسان کو اس روے زمین پر علم کے ساتھ بادشاہت بھی عطا کی ہے۔ اور اس کے دستور اور قوانین سے بھی آگاہ کیا ہے۔ واعظ اور رہنما، اور قیادت کوئ تماشا یا کوئ کھیل نہیں ہے۔ اور نہ ہی نام و نمود کا مشغلہ، وہ انسانیت اور خلق خدا کے لیے ایک موثر رہنمائ ہے۔ بقول حضرت م مولانا وحیدالدین خان دہلی نوراللہ مرقدہ عوامی اور انسانی نمائندگی کا حق صرف اس کو ہے جو اپنی ہستی اور انا کو خدا میں گم کردے۔ اور مزید رقم طراز ہیں۔ جو لوگ اس کے بغیر نمائندگی یا پھر وعظ اور پند و نصیحت کرتے ہیں ، وہ حقیقتا مجرم ہیں نہ کہ واعظ۔ قرآن نے اس کو اسطرح بیان کیا ہے۔ جس کا مفہوم ہے جو تم کہتے ہو ,وہ خود تم نہیں کرتے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں۔ بے باقی حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن۔ مکاری درد باہی پہ اتراتا ہے مومن۔ جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن۔ کردار کا، گفتار کا عمل کا مومن قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن۔ سرحد کا مومن کوئی پنجاب کا مومن۔ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا قران کا مومن۔ اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں قرآن اور حدیث، اللہ کے دستور اور شریعت محمدیہ ،اور ان الدین عند اللہ الاسلام کے مطابق، ہماری قوم و ملت کے پاس دینی سیاسی اور معاشرہ کو بہتر بنانے کے لیے سیکڑوں قائد، رہنما ،اور سیاسی شعور اور بصیرت رکھنے والے دستیاب ہونا تھا۔ لیکن افسوس کہ اس کا فقدان ہے۔ پھر اس ہر ستم یہ کہ ہمارے کچھ قائد جو انگلیوں پر گنے جاتے ہیں ،وہ ایسے حالات اور خطرات کی پینشن گوئ کرتے ہیں جس کا واقع ہونا قدرے مشکل ہو۔ لیکن ہماری اس پینشن گوئ سے ہم سوے ہوے دشمن جگانے کا کام کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم خاموش پالیسی اختیار کرکے نسل نو اور قوم وملت کے نوجوانوں میں اعلی تعلیم کو ترویج دیں۔ ہم تعلیمی مراکز ،جامعات اور علم۔ و ہنر کے مراکز کو فوقیت دیں ۔ اور سایسی سوجھ بوجھ کو فروغ دیں یہ ہمارے قوم و ملت کے مسقبل کو روشن اور ملت کی رہنمائ کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ مومن ایک بل کے دوبارہ ڈسا نہیں جا سکتا۔ہمارے پاس اللہ کی طرف سے روزانہ کامیابی اور فتح کے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ لیکن ہم آپسی اختلافات اور چھوٹی چیز کو پانے پانے میں الجھے ہوے ہیں ،گویا کہ ہم یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کہ ہمیں بڑی چیز پانے یا حاصل کرنے میں کوئ دلچسپی نہیں۔ جبکہ قیادت ، رہنمائ ہمارا شیوہ اور طرہ امتیاز تھا جس کا ہم میں اب فقدان نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم پس و پیش کا شکار ہورہی ہے۔ گویا کہ ہمارے سیاست قیادت اور رہنمائ کے اوصاف کسی اور نے سرقہ کر لیے ہیں۔ نیلسن منڈیلا اپنی قوم کو بام عروج پر اور انہیں حقوق دلوانے میں کافی جد و جہد کی۔ اور ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب نیلسن منڈیلا 27 سال جیل کی سعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1990 میں جب جیل سے رہا ہوے تو ، قوم نے ملک کے فلیگ کے ساتھ ان کی جیل سے رہائ کا جشن منایا۔ جو تاریخ کا ایک سنہرہ باب ہے۔ جس نے جنوبی افریقہ کی سمت ترقی اور امن کی طرف گامزن کیا۔ چناں چہ حدیث میں میں ہے۔ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قائد اور رہنما ،چاہے وہ سیاسی ہو، یا پھر مذہبی ہو نیت خالص معنی رکھتی ہے۔ اچھی نیتوں کے بہتر فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ اور غلط نیت سے نقصان کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم اگر صرف نیتوں کو درست کرلیں تو ہم سے بہترین قیادت کا ظہور ہوگا۔ اورہم کس سمت جارہے ہیں؟ ہم نے تاریخ تو مرتب کی ہے۔ لیکن تاریخ جاری نہیں رکھا۔ ہم نے سلطنت اور بادشاہت تو کی ہے ،لیکن اس کو باقی نہیں رکھا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔