کہانی - " ادھوری خواہش " از قلم : رہبر تماپوری۔
کہانی - " ادھوری خواہش "
از قلم : رہبر تماپوری۔
رہبر کے گھر میں روٹی بھلے مشکل سے ملتی، مگر کتاب ہمیشہ موجود رہتی تھی۔ باپ دن بھر مزدوری کرتا، ماں گھر کے اخراجات سنبھالتی۔ محلے کے لوگ اکثر طنز کرتے: "مزدور کا بیٹا پڑھ لکھ کر کون سا افسر بن جائے گا؟" ایسے ماحول میں ماں ہمیشہ اس کی ہمت بندھاتی اور کہتی: "بیٹے! دنیا کی ہر خواہش ادھوری رہ سکتی ہے، مگر علم کی سچی تڑپ کبھی ادھوری نہیں رہتی۔"
رہبر ماں کی بات دل سے لگا بیٹھا۔ وہ دن بھر کام کرتا، رات کو چراغ کی مدھم روشنی میں پڑھتا۔ جہاں دوسرے بچے زر، زمین اور منصب کے لیے پڑھتے، رہبر کا مقصد صرف سیکھنا تھا۔ اس کا یہ شوق کامیابی لے آیا۔ مگر یونیورسٹی کی فیس ایک پہاڑ تھی، نہ وسیلہ تھا، نہ سفارش۔
ایک شام چھت پر بوجھل دل کے ساتھ بیٹھا، اسے لگا کہ یہ خواہش ادھوری رہ جائے گی۔ اسی وقت استاد کا فون آیا: "رہبر! مایوس مت ہو، تمہیں ایک ادارے نے مکمل وظیفہ دیا ہے۔" رہبر نے روتے ہوئے سجدہ شکر ادا کیا۔
برسوں بعد، اسی محلے میں ایک تعلیمی مرکز کھلا جس پر لکھا تھا: "رہبر تماپوری ویلفیئر سینٹر— مفت تعلیمی رہنمائی۔" وہی لوگ جو کبھی مذاق کرتے تھے، آج اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے آتے۔ بوڑھے باپ نے فخر سے بیٹے کو دیکھا تو رہبر نے مسکرا کر کہا: "ابا! جب نیت صرف علم بانٹنا ہو، تو خواہش کبھی ادھوری نہیں رہتی۔"
---
"لوگ پڑھتے تھے زر، زمیں، زیور کے لیے
رہبر تو پڑھتا تھا کچھ سیکھنے کے لیے"
Comments
Post a Comment