ڈاکٹرانیس صدیقی کی کوچہ عزیزاں : درخشندہ شخصیتوں کی کہکشاں۔۔ ازقلم : واجداختر صدیقی ،گلبرگہ کرناٹک۔
ڈاکٹرانیس صدیقی کی کوچہ عزیزاں : درخشندہ شخصیتوں کی کہکشاں۔
ازقلم : واجداختر صدیقی ،گلبرگہ کرناٹک۔
فنِ خاکہ نگاری کے بارے میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا یہ واقعی ایک فن ہے یا محض دماغ پاشی، یا اسے باقاعدہ ایک ادبی صنف کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ابتدا اور اردو ادب میں اس کے ورود کی تاریخ بھی دلچسپی سے خالی نہیں، مگر ان تمام مباحث سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ خاکہ نگاری ایک ایسا وسیلۂ اظہار ہے جس میں جذبات، مشاہدات اور تاثرات ایک حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
خاکہ نگاری محض کسی شخصیت کا تعارف یا واقعات کا اندراج نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک پیکر تراشی ہے۔ ایک کامیاب خاکہ وہ ہوتا ہے جس میں شخصیت کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی جھلک بھی نمایاں ہو، جہاں الفاظ صرف بیان نہ کریں بلکہ تصویر بن جائیں، اور قاری اس شخصیت کو اپنے سامنے سانس لیتا ہوا محسوس کرے۔ گویا خاکہ نگاری فنِ مصوری کی طرح ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں رنگوں کی جگہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو خاکہ نگار اور صاحبِ خاکہ دونوں ایک مخصوص مسرت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ خاکہ نگار اس لیے شاداں ہے کہ وہ اپنے دل کی ان کہی باتوں کو قرطاس پر منتقل کر دیتا ہے، جب کہ صاحبِ خاکہ اس احساس سے سرشار ہوتا ہے کہ اس کی ذات دوسروں کے لیے موضوعِ دلچسپی بن گئی ہے۔ اسی لیے، اس پر آشوب اور تیز رفتار دور میں خاکہ نگاری کو ایک خوبصورت اور مثبت فن تسلیم کرنا بجا معلوم ہوتا ہے۔
یہی احساس اس وقت مزید مستحکم ہوتا ہے جب ہم ڈاکٹر انیس صدیقی کے مجموعۂ خاکات "کوچۂ عزیزاں" (2025) کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اپنے پیش لفظ "جواز" میں وہ لکھتے ہیں: "رہِ زیست کے پر پیچ کوچوں اور گلیاروں سے گزرتے ہوئے ہر موڑ پر کچھ ایسی قابلِ احترام شخصیتیں اور نفوسِ پر اخلاص ہم رکاب رہے… یہ نقوشِ لازوال میری ہستی کا جزو بن چکے ہیں۔"
یہ اقتباس اس امر کی دلیل ہے کہ انیس صدیقی کے ہاں خاکہ نگاری محض تحریر نہیں بلکہ ایک داخلی وابستگی اور قلبی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ وہ انہی شخصیات کو موضوع بناتے ہیں جنہوں نے ان کے شعور پر دیرپا نقوش ثبت کیے ہیں۔
اس کتاب میں شامل چودہ خاکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے اپنے انتخاب میں نہایت سلیقہ مندی اور حسنِ نظر سے کام لیا ہے۔ ہر شخصیت کے ساتھ دیا گیا ضمنی عنوان نہ صرف اس کی انفرادیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ قاری کے ذوقِ جستجو کو بھی مہمیز دیتا ہے۔ وہ چودہ شخصیات یہ ہیں (قوسین میں ضمنی عنوان درج ہیں):
حضرت سید شاہ خسرو حسینی (ادا دلفریب، نگہ دلنواز)،
اعظم اثر (کچھ باتیں، کچھ یادیں)،
وہاب عندلیب (گلشنِ اردو کا عندلیب)،
حامد اکمل (خوش خصال و باکمال)،
مسعود عبدالخالق (یادوں سے چراغاں شبستانِ وفا میں)،
ناظم خلیلی (ذات و صفات کے چند پہلو)،
محمد اعظم شاہد (محبت، بصیرت اور رجائیت کی تثلیث)،
میر شاہ نواز شاہین (اپنی مثال آپ)،
خواجہ پاشاہ انعام دار (سنجیدگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج)،
اکرم نقاش (انا، انکسار اور احساسِ جمال کی تصویر)،
ڈاکٹر فرزانہ فرح (خوش جمال و خوش خصال)،
ڈاکٹر داؤد محسن (ایک متنوع رنگ شخصیت)،
منظور وقار (عجز و انکسار اور بے ریائی کا پیکر)،
اور چاند اکبر (تفکر و تحریک کا آئینۂ تمثال)۔
فنِ خاکہ نگاری کے تقاضوں کے مطابق ایک اچھا خاکہ وہی ہے جو شخصیت کے پوشیدہ گوشوں کو منکشف کرے، اس کے مزاج، عادات، نفسیات اور انفرادیت کو اس انداز سے پیش کرے کہ وہ محض معلومات نہ رہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تصویر بن جائیں۔ ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنے خاکوں میں اسی اصول کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ ان کے ہاں محض واقعات نگاری نہیں بلکہ تاثراتی اور تخلیقی اظہار کی جھلک نمایاں ہے۔
اقتباسات کی روشنی میں ان کے اسلوب کا جائزہ لیا جائے تو ان کی زبان نہایت دلنشیں اور شعریت سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً حضرت سید شاہ خسرو حسینی کے خاکے میں وہ لکھتے ہیں: "علم و فضل، عجز و انکساری، نیک نفسی و بردباری جیسی اعلیٰ انسانی صفات سے متصف…" یہ اندازِ بیان نہ صرف شخصیت کے اوصاف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ایک تقدیسی فضا بھی قائم کرتا ہے۔"
اسی طرح میر شاہ نواز شاہین کے خاکے میں منظر نگاری ملاحظہ ہو: "سیاہ آسمان کا شب رنگ منظر، ستاروں کی جھلملاتی قندیلوں سے روشن ہے… رات ایک سست رو دریا کی طرح کائنات کے کناروں سے بہتی چلی آ رہی ہے۔"
خواجہ پاشاہ انعام دار کے ضمن میں ان کا اسلوب دیکھیے: "بزلہ سنج اور شگفتہ گفتار شخصیت کے مالک ہیں… لطیفہ گوئی ان کا خاصہ ہے۔"
اسی طرح اکرم نقاش کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: "مردانہ وجاہت کا پیکر… نفاست و شائستگی، حلم و انکسار…"
ان تمام اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انیس صدیقی نے خاکہ نگاری کو محض معلوماتی سطح پر نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ادبی اور جمالیاتی تجربہ بنا دیا ہے۔ ان کے ہاں منظر نگاری، مرقع سازی اور نغمگی کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے کہ قاری خود کو ایک تخلیقی فضا میں محسوس کرتا ہے۔
مزید یہ کہ انہوں نے اپنے خاکوں میں منفی پہلوؤں کو نمایاں کرنے کے بجائے مثبت اوصاف کو ترجیح دی ہے، جو ان کے تعمیری اور مثبت ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا اسلوب نہایت متوازن ہے—نہ غیر ضروری اختصار اور نہ ہی بے جا طوالت۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "کوچۂ عزیزاں" نہ صرف اپنے دلکش اسلوب اور معیاری پیشکش کے باعث اہم ہے بلکہ فنِ خاکہ نگاری کے باب میں ایک قابلِ قدر اضافہ بھی ہے۔ یہ کتاب قاری کو نہ صرف شخصیات سے روشناس کراتی ہے بلکہ ادب کے لطیف ذوق سے بھی آشنا کرتی ہے۔
140 صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتاب محبان اردو تنظیم برائے فروغ اردو زبان و ادب گلبرگہ نے شائع کی ہے۔
Comments
Post a Comment