شہنشاہِ تعلیم الحاج مرحوم ڈاکٹر امان اللہ شاہ (امان دادا)"ایک عہد ساز تعلیمی و سماجی رہنما".( سالگرہ پر خراج عقیدت)۔ عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔


شہنشاہِ تعلیم الحاج مرحوم ڈاکٹر امان اللہ شاہ (امان دادا)
"ایک عہد ساز تعلیمی و سماجی رہنما".
( سالگرہ پر خراج عقیدت)
عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔

"اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" ؛ یہی وہ آفاقی پیغام ہے جسے حرزِ جاں بنا کر مرحوم الحاج ڈاکٹر امان اللہ شاہ، المعروف امان دادا، نے اپنی پوری زندگی تعلیم و اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کردی۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک فکر اور ایک روشن عہد کا نام تھے ایسا عہد جس نے خاندیش، خصوصاً ضلع جلگاؤں میں تعلیمی بیداری کی نئی تاریخ رقم کی۔
ستر کی دہائی کا وہ دور جب خواتین کی تعلیم کا تصور بھی ایک خواب معلوم ہوتا تھا، ملت میں تعلیمی شعور اپنی ابتدائی منزلوں میں تھا، ایسے میں امان دادا نے نہ صرف اس خواب کو دیکھا بلکہ اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے میدانِ عمل میں اترے۔ انجمن تعلیم المسلمین (قیام 1942ء) کے طویل جمود کے بعد انہوں نے اس ادارے میں نئی روح پھونکی اور تعلیمی سرگرمیوں کو عملی جہت عطا کی۔
طلبہ کے مسائل کو قریب سے محسوس کرتے ہوئے انہوں نے بیرونِ شہر سے آنے والے نوجوانوں کے لیے "امینیہ ہوسٹل"کے قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ محدود وسائل، مگر بلند حوصلہ' چیریٹی پروگرام اور چندہ کے ذریعے اس خواب کو حقیقت بنایا گیا، جو بعد ازاں کامیابی کی ایک روشن مثال بن گیا۔
1970ء کے فرقہ وارانہ فسادات نے شہر کے قدیم علاقوں کو عدم تحفظ اور خوف کی کیفیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایسے میں امان دادا نے ایک محفوظ، باوقار اور معیاری بستی کے قیام کا تصور پیش کیا۔ ابتدا میں یہ خیال لوگوں کو اجنبی محسوس ہوا، مگر ان کی بصیرت نے بالآخر کامیابی حاصل کی۔ قصبہ مہرون میں شاہی جامع مسجد و آستانہ اسمعیل شاہ قادری کے پہلوں اور مہرون تالاب کی ٹھنڈک میں، " ڈاکٹر علامہ اقبال کالونی" کی بنیاد رکھی گئی، اور پھر "ڈاکٹر ذاکر حسین کالونی" کا قیام عمل میں آیا۔ آج یہ بستیاں نہ صرف رہائش بلکہ تعلیمی و تہذیبی شناخت کی علامت بن چکی ہیں۔
تاہم ان کی جد وجہد کا اصل محور دخترانِ ملت کی تعلیم تھا۔ برسوں کی انتھک کوششوں، ملاقاتوں اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود وہ پیچھے نہ ہٹے۔ بالآخر 1978ء میں "انجمن خدمتِ خلق" کے تحت لڑکیوں کے ایک تعلیمی ادارے کو جماعتِ ہشتم کی نان گرانٹ منظوری حاصل ہوئی۔ ابتدا صرف 13 طالبات اور دو کمروں سے ہوئی ،جہاں ایک ہی جگہ کلاس روم، دفتر اور اسٹاف روم قائم تھا۔ مگر یہی مختصر آغاز بعد میں ایک عظیم تعلیمی سلسلے میں تبدیل ہوا۔
یہ ادارہ رفتہ رفتہ پری پرائمری، پرائمری، سیکنڈری اور جونیئر کالج تک پھیل گیا۔ بڑھتی ہوئی تعداد اور محدود وسائل کے باوجود امان دادا کا عزم کمزور نہ پڑا۔ 1988ء میں پالدھی میں بھی ہائی اسکول کے قیام کی منظوری حاصل کی گئی، جہاں احباب کے تعاون سے تعلیمی عمارت تعمیر ہوئی۔ ان کے رفقائے کار الحاج محمد یاسین باغبان، الحاج محمد حنیف بابا، الحاج شیخ حسن نور محمد، الحاج ڈاکٹر محمد طاہر شیخ اور دیگر احباب نے اس مشن میں بھرپور ساتھ دیا۔
امان دادا کی خدمات صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہ رہیں۔ انہوں نے پسماندہ طبقات، خصوصاً شاہ فقیر چھپر بند برادری کو بھی تعلیمی دھارے سے جوڑا، اسکالرشپ اسکیم دتک اسکیم شروع کی ،ایک مزدور بستی قاسم واڑی ؛رچنا کالونی میں محنت کشوں کے بچوں کے لیے اسکول قائم کیا۔ اسی کے ساتھ وہ انجمن مسلم شاہ برادری کے ریاستی صدر بھی رہے اور اپنی قیادت سے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔
زندگی نے انہیں کئی سخت آزمائشوں سے گزارا۔کینسر جیسی مہلک بیماری، دل کی سرجری اور نیورولوجکل حملے، مگر ان کا حوصلہ کبھی متزلزل نہ ہوا۔ قریباً نوے برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، تازہ توانا، بلند حوصلہ ، ان کی تعلیمی و سماجی میراث آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔
ان کے والد، مرحوم عثمان شاہ، بھی اپنے دور کے ممتاز معلم تھے، اور یہی علمی وراثت امان دادا کو منتقل ہوئی۔ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر ان کی دسترس نے انہیں ایک ہمہ جہت شخصیت بنا دیا۔
آج، یکم مئی ،ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر،ہم سب ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا کرے۔
خراج عقیدت:
"وہ شمعِ علم تھے، جل کر زمانہ روشن کیا'
ہر ایک دل میں انہوں نے چراغِ فن کیا.
نہ تھکے، نہ رکے، نہ جھکے حادثات کے سامنے
خدا نے ان کے ارادوں کو معتبر کر دیا
اس موقع پر یہ بھی کہا جاسکتا کہ ۔۔۔
"جہاں میں نام رہے گا ہمیشہ دادا کا,
کہ اس نے علم سے بدلا نصیب دختران کا،
وہ رہنما کہ اندھیروں میں روشنی بن کر
ہزار دل میں جگاتا رہا یقین کا نور۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔