بے بس بادشاہ - ازقلم : نعیم بن اسماعیل۔
بے بس بادشاہ -
ازقلم : نعیم بن اسماعیل۔
شطرنج کے کھیل میں پیادہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا پیادہ بھی طاقت ور ہوتا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بادشاہ حملہ کرنے کا اہل نہیں ہوتا اور سب بادشاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔منظم طریقہ سے اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔وزیر ہر سو سے حملہ اور ہو سکتا ہے۔ہاتھی سیدھا ٹکر مارے گا۔گھوڑا اچھلتے ہوئے ڈھائی خانہ تک حملہ کی استطاعت رکھتا ہے۔اونٹ کی ذمہ داری کالے اور سفید خانوں تک محدود اور اونٹ کو نصحیت کہ سیدھے مت آنا ترچھی سمت سے حملہ کرنا پیادہ جان نثار سپاہی کی طرح خراماں خراماں آگے بڑھتا ہے اور جام شہادت نوش کرنے میں پہل کرتا ہے۔بادشاہ اپنی فوج کے پیچھے چھپا ہوا ہوتا ہے۔
لیکن
دنیاوی سطح پر کسی بھی گھر کا سرپرست بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اپنی اولادوں کے ہوتے ہوئے بھی تنہا رہتاہے۔نہ کوئی جاں نثار پیادہ، نا معاملات سلجھانے اور مصیبت میں ڈھال بننے والا وزیر، نا سیدھی راہ پر چلنے والا ہاتھی، نا اونٹ کی طرح دن و رات(سفید و سیاہ چوکھٹے) نا ڈھائی حد تک چھلانگ لگانے والا گھوڑا۔ کوئی بھی ساتھ نہیں۔
لیکن
یہ بوڑھا سرپرست کبھی ہار نہیں مانتا۔زمانے کے نشیب و فراز سے واقفیت رکھتا ہے۔مصائب سے نبرد آزما ہوتا ہے اور اپنوں کے چہروں پر خوشیاں لانے کے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ بچوں کے ہونٹوں کی مسکراہٹ ہی اس بوڑھے کی روحانی خوشی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی بیوی کی محبت ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہ بوڑھا کیا چاہتا ہے۔
اس بوڑھے کی خواہش صرف اتنی ہے کہ اس کے بچے گھڑی دو گھڑی اس کے پاس بیٹھیں اور مزاج پرسی کریں۔محبت کے دو میٹھے بول بولیں۔ ابو آپ کھانا کھائے۔ابو آپ ٹھیک تو ہیں چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔ماتھے پر بیٹا ہاتھ رکھ کر پوچھے ابو بخار ہے۔
آج چھٹی کا دن ہے ابو آپ کیا کھانا پسند کروگے آپ؟
خواہشات کی طویل فہرست نہیں ہے یہ۔ انسان کی ہر خواہش پوری ہو جائے یہ ممکن نہیں لیکن یہ تو بیٹوں کا فرض ہے اور یہ فرض ہم نے ادا نہیں کیا تو؟
تب
آخری عدالت میں ہم کیا جواب دیں گے؟
ازقلم : نعیم بن اسماعیل۔
Comments
Post a Comment