دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔۔ تحریر : ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)


دلوں کا علاج: قرآن، ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کی روشنی میں۔
تحریر :  ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل: 9325217306

انسانی جسم میں دل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، مگر اسلام نے صرف جسمانی دل ہی کو اہمیت نہیں دی بلکہ روحانی اور باطنی دل کو انسان کی اصل حقیقت قرار دیا ہے۔ یہی دل اگر ایمان، اخلاص، تقویٰ اور یادِ الٰہی سے منور ہو تو انسان کی پوری زندگی نور بن جاتی ہے، اور اگر یہی دل حسد، تکبر، ریاکاری، دنیا پرستی اور غفلت سے آلودہ ہوجائے تو انسان بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی روحانی اعتبار سے مردہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح، اس کی پاکیزگی اور اس کے علاج پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے۔
آج کا انسان بظاہر مادی ترقی کی بلند ترین منزلوں پر پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بے سکونی، اضطراب، حسد، نفرت، لالچ اور ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان نے اپنے ظاہری جسم کی فکر تو بہت کی مگر اپنے قلب و روح کی اصلاح کو فراموش کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دل بیمار ہوجائے تو انسان کے اعمال، اخلاق، تعلقات اور عبادات سب متاثر ہوجاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سن لو! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔”
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کی اصل اصلاح دل کی اصلاح سے وابستہ ہے۔ اسی لیے اسلام نے دلوں کے علاج کے متعدد ذرائع بیان کیے ہیں۔
سب سے پہلی اور سب سے عظیم دوا قرآنِ مجید ہے۔ قرآن صرف احکام کی کتاب نہیں بلکہ دلوں کے لیے شفا اور روحوں کے لیے سکون ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی، اور سینوں کے امراض کے لیے شفا اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت آگئی۔”
قرآن کی تلاوت جب تدبر، خشوع اور اخلاص کے ساتھ کی جاتی ہے تو سخت سے سخت دل بھی نرم ہوجاتا ہے۔ قرآن انسان کے اندر امید پیدا کرتا ہے، گناہوں سے نفرت پیدا کرتا ہے اور بندے کو اپنے رب سے جوڑ دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ قرآن کو صرف ثواب کی کتاب سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ زندگی بدل دینے والی کتاب ہے۔
دلوں کے علاج کا دوسرا اہم ذریعہ ذکرِ الٰہی ہے۔ انسان دنیا کی ہر نعمت حاصل کرلے، دولت، شہرت، عہدہ اور آسائش سب کچھ پالے، تب بھی اس کے دل کو حقیقی سکون نہیں مل سکتا، کیونکہ سکون کا سرچشمہ صرف اللہ کی یاد ہے۔ قرآن کہتا ہے:
“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
ذکرِ الٰہی دل کی زنگ آلود کیفیت کو ختم کرتا ہے۔ تسبیح، تہلیل، استغفار، درود شریف اور دعا انسان کے دل کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والے ہر حال میں ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
اسی طرح توبہ و استغفار بھی دل کے علاج کی عظیم دوا ہے۔ گناہ دل پر سیاہ دھبے چھوڑتے ہیں۔ جب انسان مسلسل گناہوں میں مبتلا رہتا ہے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے اور نیکی سے دور ہونے لگتا ہے۔ لیکن جب بندہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو دوبارہ پاکیزگی عطا فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرلے تو وہ دھل جاتا ہے۔
آج انسان دوسروں کا احتساب تو بہت کرتا ہے مگر اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا۔ حالانکہ دل کی اصلاح کے لیے محاسبۂ نفس انتہائی ضروری ہے۔ انسان اپنے آپ سے سوال کرے کہ میں کیوں ناراض ہوتا ہوں؟ کیوں حسد کرتا ہوں؟ کیوں دکھاوا کرتا ہوں؟ کیوں لوگوں کی تعریف کا طلبگار ہوں؟ جب انسان اپنے باطن کا جائزہ لیتا ہے تو اس کے اندر اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
دلوں کی تباہی کا ایک بڑا سبب حسد، تکبر اور ریاکاری بھی ہے۔ حسد انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے، تکبر انسان کو حق قبول کرنے سے روکتا ہے، اور ریاکاری عبادت کے نور کو ختم کردیتی ہے۔ شیطان کی پہلی نافرمانی بھی تکبر ہی تھی۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
صحبت بھی دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ صالحین کی صحبت انسان کے اندر نیکی، عاجزی اور اللہ کی محبت پیدا کرتی ہے، جبکہ غافل لوگوں کی مجلس دل کو مردہ کردیتی ہے۔ اسی لیے بزرگوں نے ہمیشہ نیک صحبت اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے رفتہ رفتہ انہی جیسا بن جاتا ہے۔
اسی طرح مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک بھی دل کی اصلاح کا اہم ذریعہ ہے۔ صدقہ، غریبوں کی مدد، معاف کرنا، لوگوں کی حاجت روائی کرنا اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا دل کو نرم بناتا ہے۔ جو انسان صرف اپنی ذات میں گم رہتا ہے اس کا دل رفتہ رفتہ سخت ہوجاتا ہے، جبکہ دوسروں کے لیے جینے والا انسان روحانی سکون حاصل کرتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو جس سب سے بڑی ضرورت کا سامنا ہے وہ صرف ظاہری ترقی نہیں بلکہ باطنی اصلاح ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو دوبارہ قرآن سے جوڑنا ہوگا، ذکرِ الٰہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، توبہ واستغفار کو معمول بنانا ہوگا اور اخلاص و تقویٰ کے راستے پر چلنا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ دلوں کا علاج کسی دواخانے میں نہیں بلکہ اللہ کے دربار میں ملتا ہے۔ جو بندہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرلیتا ہے، اس کا دل دنیا کے طوفانوں کے باوجود مطمئن رہتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا ہر مسلمان کو اپنے معمولات میں شامل کرلینی چاہیے:
“یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک”
اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ایمان، اخلاص، محبتِ الٰہی اور نورِ قرآن سے منور فرمائے، اور ہمیں ظاہری وباطنی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔