"اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو۔ - نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے"۔ از قلم : عثمان احمد۔


"اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو۔ -  
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے"

از قلم : عثمان احمد۔ 
(مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمرکھیڑ ضلع ایوت محل)

مشہور و معروف شاعر، استاد اور اردو غزل کو ایک نیا اور اچھوتا لہجہ دینے والے ڈاکٹر بشیر بدر کا سفرِ حیات اردو ادب کا ایک سنہرا باب ہے۔ ان کی رحلت نہ صرف اردو شاعری بلکہ عالمی ادبی منظر نامے کے لیے ایک ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے، بلکہ اپنے عہد کی آواز اور محبت، درد اور فلسفۂ حیات کے سچے ترجمان تھے۔ اردو غزل کا درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا

بشیر بدر کا یہ شعر خود ان کی زندگی اور رخصت پر اس طرح صادق آتا ہے کہ دل اداس ہو جاتا ہے۔ وہ رخصت تو ہو گئے، لیکن اپنی غزلوں کے جو اجالے وہ چھوڑ گئے ہیں، وہ تاابد اردو دنیا کو منور کرتے رہیں گے۔ بشیر بدر عصرِ حاضر کے ان چند چیدہ چیدہ شعرا میں سے تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی روایت کا پاس رکھتے ہوئے اسے جدید دور کے مسائل، احساسات اور عام انسان کے سچے جذبات سے جوڑا۔
منفرد اسلوب اور سادگیِ بیاں
بشیر بدر کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا سہلِ ممتنع (انتہائی سادہ مگر گہرا) اسلوب تھا۔ انہوں نے غزل کو بھاری بھرکم اور روایتی الفاظ کے بوجھ سے آزاد کرایا۔ انہوں نے روزمرہ کی زبان، گلی کوچوں کے محاوروں اور گھریلو زندگی کے استعاروں کو اس خوبصورتی سے شاعری میں ڈھالا کہ ہر شخص کو ان کی غزل اپنی ہی کہانی محسوس ہونے لگی۔
ان کی شاعری میں جہاں ہجرت کا دکھ اور بچھڑنے کا ملال ہے، وہاں حالات سے لڑنے اور امید کا دامن نہ چھوڑنے کا حوصلہ بھی دکھائی دیتا ہے:
"کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو"
محبت اور بھائی چارے کے سفیر
بشیر بدر صرف ہجر و وصال کے شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ سماجی ہم آہنگی اور انسانیت کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ ان کے کلام میں معاشرتی تلخیوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج اور امن کی خواہش ہمیشہ نمایاں رہی۔ انہوں نے نفرتوں کے دور میں محبت کے چراغ جلانے کا ہنر سکھایا:
"لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں"
ادبی خدمات اور اعزازات
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے اور بعد میں میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر بشیر بدر نے علمی اور تخلیقی، دونوں سطحوں پر اردو کی لاجواب خدمت کی۔ ان کے متعدد شعری مجموعے جیسے ’اکائی‘، ’امیج‘، ’آمد‘، اور ’آہٹ‘ اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ حکومتِ ہند کی جانب سے انہیں پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیسے باوقار اعزازات سے نوازا گیا، جو ان کی عظمت کا اعتراف تھا۔
حرفِ آخر
ڈاکٹر بشیر بدر کا اٹھ جانا ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ وہ مشاعروں کی جان تھے اور ان کا شعر پڑھنے کا دھیما، پرکشش انداز سامعین کو سحر زدہ کر دیتا تھا۔ آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے الفاظ، ان کی بحریں اور ان کے رسیلے اشعار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جب تک اردو زبان زندہ ہے، بشیر بدر کا نام ادب کے افق پر چمکتا رہے گا۔ اردو ارب کے لیے آپ کی گراں قدر خدمات کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا ۔ آپ کی زبان کی شائستگی قارئین کو سکون عطا کرتی ہے ۔ آپ نے تا عمر اردو کی خدمت کی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے مداحوں و پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)
"مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی"
اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ سے راضی ہو آمین یارب العالمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔