پروفیسر سید شاہ حسین نہری کے انتقال پر بیڑ میں تعزیتی نشست کا انعقاد - وہ بلند پایہ شاعر اور اونچی سوچ کے انسان تھے : سید حسین اختر۔
بیڑ۔ (نامہ نگار) مرحوم پروفیسر سید شاہ حسین نہری کے سانحۂ ارتحال پر شہر میں ایک پُراثر اور باوقار تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے وابستہ معزز شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آ رہی تھی، جب مقررین نے مرحوم کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نشست میں قاضی مجیب، قاضی مخدوم (مدیر اعلیٰ روزنامہ تعمیر)، ناصر باغوان، شفیق ہاشمی، ڈاکٹر محمد الیاس فاضل، ڈاکٹر محمد صفی انوری اور مہاراشٹر اردو اکیڈمی ممبئی کے چیئرمین سید حسین اختر سمیت دیگر اہم شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے مرحوم سے اپنی والہانہ عقیدت اور دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک مخلص استاد بلکہ ایک باکمال ادیب اور اردو زبان کے سچے خدمت گزار تھے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کی کمی مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔
سید حسین اختر نے اپنے خطاب میں گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“میرے مرحوم سے دیرینہ تعلقات تھے۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر اور اونچی سوچ کے انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، وقار اور خلوص کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔”
صدرِ جلسہ نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں مرحوم کی ہمہ جہت شخصیت کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیا اور حاضرین کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کی۔
اس موقع پر مرحوم کے فرزند فرید احمد نہری نے نہایت جذباتی انداز میں اپنے والد مرحوم کی یادوں کو تازہ کیا۔ ان کی پُراثر گفتگو نے حاضرین کو آبدیدہ کر دیا اور محفل میں ایک رقت آمیز کیفیت طاری ہو گئی۔
نشست کے اختتام پر سرپرستِ اعلیٰ محمد ابراہیم انوری نے دعاء کرائی، جس میں مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔
آخر میں محمد اسلم انوری اور حضرت منصور شاہ گروپ آف اسکولز کی جانب سے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ اس بامقصد نشست کی نظامت منہاج احمد خان نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
اس تعزیتی نشست میں شہر کے مختلف تعلیمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے مرحوم سے اپنی گہری عقیدت اور محبت کا اظہار کیا۔ یہ نشست نہ صرف ایک عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ اردو ادب سے وابستہ افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بھی ثابت ہوئی۔
Comments
Post a Comment