ایجنٹ کا بکرا(بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ)۔ محمود علی لیکچرر۔
ایجنٹ کا بکرا
(بقرید کے موقع پر ایک طنزیہ افسانچہ)
محمود علی لیکچرر۔
8055402819
اس بار بقرید سے کچھ دن پہلے ہی محلے میں ایک عجیب ہلچل تھی۔
لوگ بکروں سے زیادہ اُن کے “اسٹیٹس” خرید رہے تھے۔ کسی کے پاس “راجستھانی نسل” کا بکرا تھا کوئی “پٹھان بکرا” بتا رہا تھا، اور کوئی اپنے بکرے کی قیمت ایسے بیان کر رہا تھا جیسے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہو۔
انہی دنوں محلے میں ایک صاحب تشریف لائے جنہیں سب “ایجنٹ صاحب” کہتے تھے۔
اصل نام شاید کسی سرکاری فائل میں دفن ہوچکا تھا، مگر محلے میں ان کی پہچان صرف یہی تھی کہ وہ ہر چیز کے دلال تھے۔
پلاٹ چاہیے؟
ایجنٹ صاحب۔
شادی کا رشتہ؟
ایجنٹ صاحب۔
اسکول میں داخلہ؟
ایجنٹ صاحب۔
یہاں تک کہ ایک بار تو کسی نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر جنت میں پلاٹ ملنے لگے تو وہاں بھی سب سے پہلے ایجنٹ صاحب ہی دفتر کھولیں گے مگر اجنٹ صاحب کوئی مدرسہ چلانے والے غیر سند یافتہ مولوی صاحب بھی نہیں تھے
بقرید کے موقع پر بعض لوگ بکرے سے زیادہ اُس کی قیمت کی قربانی دیتے ہیں،
اور سچ سے زیادہ “ماشاءاللہ پونے دو لاکھ!” کا ثواب کماتے ہیں۔
بقرید قریب آئی تو انہوں نے اعلان کیا
“اس سال ایسا بکرا لایا ہوں کہ پورا شہر دیکھنے آئے گا!”
لوگ متجسس ہوگئے۔
دو دن بعد واقعی ایک بڑا سا بکرا آیا۔ گلے میں رنگین پھول، سینگوں پر چمکدار پالش، اور گردن میں ایسی زنجیر جیسے کسی وزیر کی سیکورٹی کا بلیک کمانڈو زیادہ لگ رہا ہے!”
ایجنٹ صاحب ہر آنے والے سے کہتے
“یہ عام بکرا نہیں… خالص نسلی ہے!”
حالانکہ بکرا برابر میں کھڑے بچے کی شرٹ چبا رہا ہوتا۔
انہوں نے بکرے کا نام بھی عجیب رکھا تھا:
“شاہین خان۔”
محلے کے بچے ہنس کر کہتے:
“چچا! یہ شاہین کم اور بھوکی بکری زیادہ لگتی ہے!”
مگر ایجنٹ صاحب ناراض ہوجاتے۔
انہیں اپنے بکرے کے “نسلی لقب” پر بڑا فخر تھا۔
وہ بار بار بتاتے کہ اس کے دادا ایران سے آئے تھے، نانا افغانستان کے تھے، اور شاید پردادا کسی نواب کے اصطبل میں رہتے تھے۔
لیکن بکرا خود دماغ سے خالص بکرا ہی تھا۔
ایک دن اس نے محلے کے کپڑے سکھانے والی پوری رسی چبا ڈالی۔
دوسرے دن اخبار کھا گیا۔
تیسرے دن ایجنٹ صاحب کی جیب سے پراپرٹی کے کاغذ نکال کر آدھے ہضم کرگیا۔
محلے والے ہنس ہنس کر دوہرے ہوگئے۔
مگر ایجنٹ صاحب پھر بھی فخر سے بولے
“نسلی جانور ہیں… نخرے تو کرے گا ہی
بقرید کی صبح جب لوگ قربانی کے لیے جمع ہوئے تو اچانک پتہ چلا کہ “شاہین خان” غائب ہے۔
محلے میں شور مچ گیا۔
کسی نے کہا بازار کی طرف گیا ہے، کسی نے کہا مسجد کے پاس دیکھا تھا
آخرکار وہ ایک سبزی والے کے ٹھیلے کے نیچے بیٹھا ملا
اور سکون سے گوبھی کھا رہا تھا۔
سب لوگ ہنس پڑے۔
ایک بوڑھے آدمی نے مسکرا کر کہا
“بھائی! نسل اور قیمت سے زیادہ عقل کی ضرورت انسان کو ہوتی ہے…
بکرے کو نہیں۔”
ایجنٹ صاحب پہلی بار خاموش ہوئے۔
اور بکرا، منہ میں گوبھی دبائے، ایسے سب کو دیکھ رہا تھا جیسے اصل ایجنٹ وہی ہو۔
نوٹ : یہ افسانچہ صرف مزاح ہے ایجنٹ ہونا عیب نہیں
اصل اہمیت نیت، دیانت اور کردار کی ہے۔
معاشرے میں ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں رابطے اور خدمت کا ذریعہ بنتا ہے۔
خرابی صرف تب پیدا ہوتی ہے جب انسان ہر رشتے اور جذبے کو محض سودا سمجھنے لگے۔
Comments
Post a Comment